اقوام متحدہ میں اردگان نے کہا ۔ 72 سال سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا، گزشتہ 50 دنوں سے 80 لاکھ کشمیری پریشان ہیں اس کا حل کیوں نہیں کیا جا رہا

0
98

نیویارک (ٹی آر ٹی)
ترکی صدررجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دنیا کو عالمی سطح پر ناانصافی کا سامنا ہے ، جس کی وجہ سے دنیا میں قوت اور اقتدار حاصل کرنے کی رسہ کشی شرو ع ہو جاتی ہے۔
انہوں نے ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کی ساخت پر حملہ کیا ۔اپنے خطاب میں کہاکہ دنیا کے مستقبل کو صرف پانچ ممالک کے ہاتھوں میں نہیں دیا جاسکتا، اقوام متحدہ کی قرادادوں کے باوجود کشمیر اور کشمیر یوں کا محاصرہ جاری ہے۔آٹھ ملین افراد بدقسمتی سے آج بھی اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں اور پاکستانی اور بھارتیوں کی سلامتی کے لیے اس مسئلے کو جھڑپوں یا جنگ سے نہیں بلکہ انصاف اور سچائی کو بنیاد بناتے ہوئے مذاکرات سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف دنیا کی خوش قسمت اقلیت روبوٹس پر بحث و مباحثہ جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف بدقسمتی سے ایک ارب سے زیادہ افراد بھوک کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نے دنیا کے ایک حصے کو عیش و آرام کی زندگی گزارنے اور دوسرے حصے کو بھوک و افلاس میں زندگی بسر کرنے کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔
صدر ایردوان نے ایک بار پھر کہا کہ دنیا کے مستقبل کو صرف پانچ ممالک کے ویٹو تک ہی محدود نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ”اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے ذہنوں اور اپنے قواعد کو بدلیں۔انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے ہمیشہ ہی ایک چال کے طور پر استعمال کرنے پر اپنی بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں پر سب کے لیے پابندی ہونے چاہیے یا پھر سب کو تیار کرنی کی اجازت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ شام، پناہ گزینوں ، نسل پرستی غیر ملکی دشمنی اور اسلام فوبیا کو اور مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر ایردوان نے نیوزی لینڈ میں 15 مارچ کو مسلمانوں پر دہشت گردی کے حملے کو اسلامی یکجہتی کے دن کے خلا طور پر مانے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کے 75 ویں صدارتی میدوار کے طور پر یورپی یونین کے امور کے سابق وزیر اور قومی اسمبلی میںخارجہ کمیشن کے سابق چئیرمین و سفیر وولکن بوزکر کا نام پیش کیا۔

 

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here