اکھلیش 46سال کے ہوئے،سیاسی وراثت کھوئی، اب کیسے کریں گے واپسی؟

0
139

لکھنؤ(ایجنسی)ایس پی صدر اکھلیش یادو کی پیدائش 1 جولائی، 1973 کو اٹاوہ کے سیفئی میں ہوا اور اس طرح سے پنے زندگی کے 46 سال کا سفر انہوں نے آج طے کر لیا ہے۔ ایس پی اس کی تاریخ کے سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا اکھلیش پارٹی کی دوبارہ واپسی کرا پائیں گے؟ٹیپو سے اترپردیش کے سلطان بن چکے اکھلیش یادو کی پیدائش 1 جولائی، 1973 کو اٹاوہ کے سیفئی میں ہوئی اور اس طرح سے اپنے زندگی کے 46 سال کا سفر انہوں نے آج طے کر لیا ہے۔ ملائم سنگھ یادو کی سیاسی وراثت کو سنبھال رہے اکھلیش یادو 27 سال کی عمر میں رہنما بنے اور 38 سال میں ملک کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش کے سب سے کم عمر وزیر اعلی بننے کا تاریخ رقمکیا اگرچہ والد کی سیاسی وراثت کو اکھلیش مسلسل کھوتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایس پی اس کی تاریخ کے سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہے، ایسے میں سوال ہے کہ اکھلیش پارٹی کو دوبارہ سے واپسی کرا پائیں گے؟۔سیاسی ماحول میں پلے بڑھے اکھلیش نے سال 2000 میں قنوج لوک سبھا ضمنی انتخابات کے لیے جیت کر سیاسی اننگز کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنے قریب ترین حریف بی ایس پی کے اکبر احمد ڈمپ کو قریب 58 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ اس کے بعد اکھلیش 2004 اور 2009 میں مسلسل اس سیٹ پر کامیاب ہوئے، لیکن 2009 میں قنوج کے علاوہ فیروز آباد پارلیمانی سیٹ سے بھی جیت درج کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے فیروز آباد پارلیمانی سیٹ سے استعفی دے دیا ہے۔2012 کے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں اکھلیش یادو نے پوری ریاست کا دورہ کیا۔ اس کا نتیجہ تھا کہ سماجوادی پارٹی نے مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپسی کی۔ جس کے بعد ملائم سنگھ یادو نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے اکھلیش یادو کو وزیر اعلی بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح محض 38 سال کی عمر میں اکھلیش یوپی کے 33 ویں وزیر اعلی بنے۔ صوبے میں سب سے کم عمر میں وزیر اعلی بننے کا ریکارڈ ان کے نام درج ہے۔ اگرچہ اسی کے بعد سے ایس پی کا گراف ڈن ہوتا چلا گیا۔اکھلیش یادو نے وزیر اعلی رہتے ہوئے یوپی میں میٹرو منصوبوں منظم کرنے، لکھنؤ آگرہ ایکسپریس وے جیسی انفراسٹرکچر مبنی پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور غریب خواتین کو پنشن دیے جانے کے منصوبے شروع کیں۔ انہوں نےچار لین روڈ کے ساتھ ساتھ پوروانچل ایکسپریس وے منصوبے کی بنیاد رکھی، لیکن حکومت چلی جانے سے پورا نہیں ہو سکا۔اکھلیش یادو خود کو ملک کا سماجوادی لیڈر کے ساتھ کسان، انجینئر، ماحولیات اور سماجی کارکن بھی بتاتے ہیں۔ ایس پی کی کمان جب سے اکھلیش یادو کو ملی ہے، پارٹی کو مسلسل شکست کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ اکھلیش نے جتنے بھی سیاسی استعمال کئے، تمام فیل رہے ہیں۔ ایس پی کو سب سے پہلے کراری شکست 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں ملی۔مودی لہر میں ایس پی کے تمام دگج ہار گئے۔ محض ملائم کنبے کے رکن کو چھوڑ کر کوئی اور نہیں جیت سکا تھا۔2017 کے اسمبلی انتخابات سے عین پہلے ملائم سیاسی وراثت کو لے کر شیو پال یادو اور اکھلیش یادو کے درمیان بالادستی کی جنگ ہوئی۔ اس میں اکھلیش سب پر بھاری پڑے اور پارٹی کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی۔اس کے بعد اکھلیش یادو کانگریس کے ساتھ اتحاد کر انتخابی میدان میں اترے، لیکن یہ تجربہ کامیاب نہیں ہو سکا اور ایس پی کو کراری شکست ملی۔ایس پی کو محض 46 سیٹیں ملی۔ اس کے بعد اکھلیش یادو نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ملائم کی مرضی کے بغیر ہی مایاوتی کی پارٹی بی ایس پی سے اتحاد کا فیصلہ کر لیا۔ اکھلیش یادو نے مایاوتی کے ساتھ صوبے بھر میں اقوام ریلیاں کی، لیکن اس کے استعمال میں بھی ایس پی کو وہ جتا نہیں سکے۔سپا کو 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پارٹی کو محض پانچ سیٹیں ملی۔ یہی نہیں اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو کو قنوج، بھائی دھرمیندر یادو کو بدایوں اوراکھچے یادو کو فیروز آباد میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اس ہار نے اکھلیش یادو اور ان کی پارٹی دونوں کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دوسری طرف، مایاوتی نے ہار کا سارا ٹھیکرا اکھلیش یادو اور ان کے ووٹ بینک یادو برادری پر پھوڑتے ہوئے اتحاد توڑ دیا۔ایس پی اپنے سیاسی تاریخ میں سب سے برے دور سے گزر رہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد سے سماجوادی پارٹی میں بڑی تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں، لیکن اکھلیش یادو کے بیرون ملک ہونے سے ابھی تک تنظیم میں کوئی پھیر تبدیل نہیں ہو سکا ہے۔ ایسے میں سوال ہے کہ اکھلیش یادو سماجوادی پارٹی کی واپسی کس طرح کرا پائیں گے؟

shahnawaz

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here