اگر انتخابات میں مسلمانوں کی بات نہیں ہو رہی ہے تو کیا انتخابات کے بعد لوک سبھا میں مسلمانوں کی بات ہو پائے گی؟

0
162

۔
بی جے پی بڑھتی گئی، مسلمان کم ہوتے گئے
یوسف انصاری
ملک میں 17 ویں لوک سبھا کے لئے انتخابی عمل شروع ہو چکی ہے۔
اس انتخاب کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ملک کی دوسری سب سے بڑی مذہبی آبادی مسلم کمیونٹی بڑی حد تک خاموش لگ رہا ہے۔
نہ مسلم تنظیموں نے اس بار انتخابات میں اپنی مانگیں رکھی ہیں اور نہ ہی ان کے ووٹ پر سیاست کرنے والی پارٹیاں ان کی بات ہی کر رہی ہیں۔ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ اگر انتخابات میں مسلمانوں کی بات نہیں ہو رہی ہے تو کیا انتخابات کے بعد لوک سبھا میں مسلمانوں کی بات ہو پائے گی؟۔
کیا ان مسائل اٹھ پائیں گے؟ ان مسائل اٹھانے والے نمائندے ٹھیک ٹھاک تعداد میں لوک سبھا میں پہنچ پائیں گے؟
آزادی کے بعد ملک میں یہ شاید پہلی لوک سبھا انتخابات ہے جب نہ تو مسلمانوں کے مسائل سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے میں ہیں اور لوک سبھا میں مسلمانوں کو نمائندگی دینا کسی پارٹی کی ترجیح میں شامل ہے۔
کانگریس، سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، راشٹریہ جنتا دل جیسی تمام پارٹیاں کو ڈر ہے کہ اگر وہ مسلمانوں کی بات کریں گے تو اس سے پولرائزیشن ہوگا اور اس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ملے گا۔
یہاں تک کہ مسلم اکثریتی سمجھی جانے والی سیٹوں پر بھی ان پارٹیوں کو مسلم امیدوار اتارنے میں ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں پولرائزیشن کی وجہ سے ان کا ہندو ووٹر بی جے پی کی طرف نہ حصہ جائے۔
یہ ڈر کتنا جائز ہے اس ڈالی کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ جب سے لوک سبھا میں بی جے پی کی سیٹیں بڑھنی شروع ہوئی ہیں، اس کے بعد سے لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی منحنی خطوط چلا گیا ہے۔

آٹھویں لوک سبھا میں بی جے پی کے محض دو رہنما تھے۔ تب لوک سبھا میں 46 مسلم ممبر پارلیمنٹ منتخب کر کے آئے تھے۔
وہیں، 2014 میں بی جے پی کے سب سے زیادہ 282 رہنما جیتے تو مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد گھٹ کر 22 رہ گئی۔بعد میں 2018 میں اترپردیش کے کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر ضمنی انتخاب میں قومی لوک دل کے ٹکٹ پر تبسم حسن کی جیت سے یہ تعداد بڑھ کر 23 ہو گئی۔
اس طرح اتر پردیش سے بھی ایک مسلم رہنما لوک سبھا میں پہنچ گیا۔ لوک سبھا کی 80 سیٹوں اتر پردیش سے 2014 کے عام انتخابات میں ایک بھی مسلمان رہنما نہیں جیتا تھا۔
سال 2011 کی مردم شماری کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی آبادی 14.2 فیصد ہے۔
آبادی کے تناسب میں نمائندگی کی بات کرنے والے لوگوں کو یہ امید رہتی ہے کہ اس حساب سے 545 ممبران پارلیمنٹ والی لوک سبھا میں 77 مسلمان رہنما ہونے چاہئے۔
لیکن کسی بھی لوک سبھا میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد یہ اعداد و شمار کو نہیں چھو پائی ہے۔
پہلی لوک سبھا میں یا مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد محض 21 تھی۔ تب لوک سبھا کی کل ارکان کی تعداد 489 تھی۔ لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی 4.29تھا۔
وہیں پچھلی لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی آزادی کے بعد سب سے کم رہا۔
لوک سبھا کی مدت ختم ہونے کے وقت کل 23 مسلم ممبر پارلیمنٹ تھے جو کہ 545 اراکین والی لوک سبھا میں 4.24 بیٹھتا ہے۔
آزادی کے بعد
پہلی لوک سبھا میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کا فیصد کم ہونا عقلی لگتا ہے۔ اس وقت ملک بٹوارے کے المیہ سے گزررہا تھا۔
لہذا یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس آئے گا کہ مسلمانوں نے پاکستان کے طور پر اپنا مختلف حصہ لے لیا ہے۔
ملک کی آزادی اور تقسیم کے قریب 67 سال بعد ہوئے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں سب سے کم مسلم ممبران پارلیمنٹ کا جیتنا سیاست میں میں ان نفرت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اگر آج مسلم ووٹوں پر سیاست کرنے والی تمام جماعتوں کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ رہا ہے کہ زیادہ تعداد میں مسلم امیدوار اتارنے سے ان ہندو ووٹر بی جے پی میں حصہ لے سکتے ہیں تو یہ ماننے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔
گزشتہ لوک سبھا انتخابات پر نظر ڈالنے سے یہ بات صاف طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے۔
16 ویں لوک سبھا میں ملک کے صرف 7 ریاستوں سے مسلمانوں کی نمائندگی ہوا تھا۔ سب سے زیادہ 8 ایم پی مغربی بنگال سے جیتے تھے، بہار سے 4، جموں اور کشمیر اور کیرالہ سے 3-3، آسام سے 2 اور تمل ناڈو اور تلنگانہ سے ایک ایک مسلم رہنما جیت کر لوک سبھا میں پہنچے تھے۔
ان کے علاوہ مرکز علاقہ لکش دیپ سے ایک رہنما جیتا تھا۔ ان 8 ریاستوں اور مرکز کے علاقے میں ملک کے قریب 46مسلمان رہتے ہیں۔
ان میں لوک سبھا کی 179 نشستیں آتی ہے۔ ملک کے باقی 22 ریاستوں اور 6 مرکز علاقوں سے لوک سبھا میں مسلم نمائندگی نہیں ہے۔
جن 28 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 54مسلمان رہتے ہیں ان میں سے ایک بھی مسلم رہنما نہیں جیتا تھا جبکہ ان ریاستوں میں لوک سبھا کی 364 سیٹیں ہیں۔
مسلمانوں کی نمائندگی
آزادی کے بعد اب تک 16 لوک سبھا کے لئے ہوئے انتخابات میں جیتے مسلم ممبران پارلیمنٹ اور ہر لوک سبھا میں ان کے فیصد پر نظر ڈالیں تو بڑے دلچسپ اعداد و شمار سامنے آتے ہیں۔پہلی لوک سبھا سے لے کر چھٹے لوک سبھا تک مسلمانوں کی نمائندگی آہستہ آہستہ بڑھا۔
جہاں پہلی لوک سبھا میں محض 21 مسلم ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے، وہیں ششم لوک سبھا میں یہ تعداد 34 تک پہنچ گئی۔
لوک سبھا میں مسلمانوں کا فیصد 4.29 سے لے کر 6.2 سال تک پہنچ گیا۔
ساتویں لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی نے اچانک اچھال ماری اور لوک سبھا میں مسلمانوں کی تعداد 49 تک پہنچ گئی۔
تب لوک سبھا میں مسلمانوں کا فیصد 9.26 تھا-1984 میں ہوئے آٹھویں لوک سبھا کے لئے انتخابات میں 46 مسلم ممبر پارلیمنٹ جیتے لیکن 1989 میں اعداد و شمار گر کر 33 رہ گیا۔
یہ وہی دور تھا جب لوک سبھا میں بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ کی تعداد بڑھنی شروع ہوئی۔ اسی کے ساتھ لوک سبھا میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
1989 میں بی جے پی کے 86 ممبران پارلیمنٹ جیتے تھے اور اسی انتخابات میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 46 سے گر کر 33 پر آ گئی۔
یعنی لوک سبھا میں سیدھے سیدھے 13 مسلم ممبر پارلیمنٹ کم ہو گئے-1991 میں بی جے پی نے 120 سیٹیں جیتی تھیں تب مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد اور گر کر 28 پر آ گئی۔
سال 1996 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے 163 جیتی تھیں تب بھی صرف 28 مسلم ممبر پارلیمنٹ ہی جیت پائے تھے۔
سال 1998 میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے 182 جیتی تھیں تب لوک سبھا میں 29 مسلم ممبر پارلیمنٹ جیتے تھے۔
سال 1999 بی جے پی نے پھر سے 182 سیٹیں ہی جیتیں. اس بار مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 32 ہو گئی۔
لیکن 2004 میں جیسے ہی بی جے پی 182 سیٹوں سے 138 سیٹوں پر لڑھكي مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد بڑھ کر 36 ہو گئی۔
سال 2009 میں 15 ویں لوک سبھا کے لئے ہوئے عام انتخابات میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد گر کر 30 پر آ گئیہے۔
لوک سبھا میں مسلمانوں کا منحنی خطوط نمائندگی تشویش. لیکن اس کی فکر کسی کو نہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب سماج کے دبے کچلے طبقے کو اس کی آبادی کے تناسب میں لوک سبھا میں نمائندگی دی گئی ہے تو پھر مسلم کمیونٹی کو اس فارمولے سے کیوں نکال دیا گیا ہے۔ سال 2006 میں آئی سچر کمیٹی کی رپورٹ صاف طور پر کہتی ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر ہے۔اگر دلتوں کو ان کی آبادی کے حساب سے لوک سبھا میں ملا ہوا ہے تو پھر مسلمان اس شیئر سے محروم کیوں ہیں۔
لوک سبھا میں بی جے پی کا ہے مسلمانوں کا نمائندہ 4.24 سے لے کر 6.24 کے درمیان رہا ہے جو آبادی کے فیصد 14.2 فیصد سے بہت کم ہے۔
غور طلب ہے کہ معاشرے کے سب سے نچلے حصہ دلتوں اور قبائلیوں کو لوک سبھا میں ان کی آبادی کے حساب سے بکنگ ملا ہوا ہے۔
لوک سبھا کی 84 نشستیں دلتوں کے لیے مخصوص ہے وہیں 47 سیٹیں قبائلیوں کے لیے مخصوص ہے ان کے علاوہ ہر لوک سبھا میں اینگلو بھارتی معاشرے کے دو لوگوں کو نامزد کیا جاتا ہے۔
تاکہ ان کی آبادی کے حساب سے لوک سبھا میں ان کی نمائندگی مل سکے۔آئین بناتے وقت محسوس کیا گیا تھا کہ اینگلو بھارتی معاشرے کی آبادی ملک میں کسی بھی لوک سبھا سیٹ پر آبادی اتنی نہیں ہے کہ وہ اپنا نمائندہ منتخب کر کے لوک سبھا میں بھیج سکیں۔
گزشتہ ڈھائی دہائی سے لوک سبھا میں خواتین کے 35 ریزرویشن دینے کی بھی کوشش ہو رہی ہیں۔ اس کے پیچھے بھی یہی دلیل ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے سیاست اور اقتدار میں آبادی کے حساب سے ان کی حصہ داری ضروری ہے۔
17 ویں لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی بڑھے گا یا کم ہوگی یہ تو انتخابی نتائج بتائیں گے۔. لیکن دیر سویر یہ مسئلہ لوگوں کی نظرکھیچے گا۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here