برطانیہ ،فرانس اور جرمنی نے کہا ارامکو حملے کا ذمہ دار ایران ہے

0
69

فرانس ، جرمنی اور برطانیہ کی قیادت نے 14 ستمبر کو سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پر حملوں کا ذمے دار متفقہ طور پر ایران کو ٹھہرایا ہے۔ تینوں ممالک نے تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ “اشتعال انگیزی” کے بجائے بات چیت کے آپشن کو غالب رکھے۔

فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں ، جرمن چانسلر انجیلا میرکل اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بقیق اور خریص میں ارامکو کی تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جانب سے سامنے لائے جانے والے نتیجے کی حمایت کی ہے۔

تینیوں ممالک کی قیادت کا یہ موقف نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ضمن میں منعقد ہونے والی ایک ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں سامنے آیا۔

تینوں بڑے ممالک نے جو ایرانی جوہری معاہدے کا حصہ بھی ہیں ،،، کہا کہ مسئلے کا حل بات چیت میں پوشیدہ ہے۔

بیان میں تینوں مذکورہ حکومتوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے طویل المیعاد مذاکرات کو قبول کرے … اسی طرح سیکورٹی اور علاقائی معاملات بھی جن میں اس کا میزائل پروگرام شامل ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حالیہ (ارامکو) حملے اس بات کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے میں جارحیت کو روکا جائے اور اس سلسلے میں تمام فریقوں کے ساتھ شامل ہوا جائے۔

تینوں ممالک نے باور کرایا کہ وہ اب بھی 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کے پابند ہیں۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ اس سمجھوتے کی سختی سے پاسداری کی جانب واپس لوٹے۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here