بی جے پی کے پسماندہ ووٹ بمقابلہ مایا کی سوشل انجینئرنگ

0
98

کمار تتھاگت
اتر پردیش میں مغرب سے ہوتے ہوئے مشرق تک پہنچتے ہی بی جے پی، آر ایس ایس اور حامیوں کا نیا مشغلہ ہے – غیر یادو پچھڑوں اور غیر جاٹو دلتوں کی زبردست رجحان اور اس بوتے بھاری کامیابی۔ یہ ایک ایسا نیریٹو ہے جو سیاسیاست کے ماہرین سے لے کر اپنے کارکنوں اور صحافیوں پر بخوبی کام کرتا ہے۔ اس کے منطق میں 2014 لوک سبھا سے لے کر 2017 کے یوپی اسمبلی انتخابات کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔ نیریٹو نہ صرف سمجھ میں آتا ہے بلکہ زمین پر کئی مقامات پر نظر بھی نے آنے لگتا ہے۔ مشرق اتر پردیش میں چوتھے مرحلے کے انتخابات میں کئی مقامات پر یہ غیر یادو پسماندہ اور غیر جاٹو دلت کارڈ چلتا بھی دکھا ئی دیا اور شاید بی جے پی کے لئے اتر پردیش میں اب تک ہوئے پانچ مراحل کے انتخابات میں سب سے بہترین چوتھا مرحلہ ہی گیا ہے۔ حالانکہ اس پورے نیریٹو پر باريکی سے نظر ڈالنے پر بہت سے جھول بھی نظر آتے ہیں۔غیر یادو پچھڑوں اور غیر جاٹو دلتوں کے ووٹوں کے ساتھ اعلیٰ ذاتوں کو ملا کر میدان مارنے کی بی جے پی کی اس حکمت عملی میں سب سے بڑی رکاوٹ اٹكانے کام مایاوتی نے کیا ہے۔ ایس پی-بی ایس پی اتحاد (آر ایل ڈی مشرقی اتر پردیش میں کہیں میدان میں نہیں ہے) کے مشرقی اتر پردیش میں امیدواروں کی فہرست کو دیکھیں تو مایاوتی کی سوشل انجینئرنگ کا اثر صاف نظر آتا ہے۔ ابھی چھٹے اور ساتویں مرحلے میں مشرقی اترپردیش میں جن 27 لوک سبھا سیٹوں پر انتخاب ہونا ہے ان میں ایس پی-بی ایس پی اتحاد کی جانب سے کسی بھی سیٹ پر کوئی جاٹو امیدوار نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں، اعظم گڑھ میں خود اکھلیش یادو، پھول پور میں پندھاري یادو اور جونپور میں شیام سنگھ یادو کے علاوہ کسی اور سیٹ پر یادو کو بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔ ان میں سے بھی پھول پور کے علاوہ باقی دونوں نشستیں یادو اکثریتی ہیں۔بی جے پی نے ان بچی 27 سیٹوں پر نسلی توازن کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی ہے، وہیں اتحاد نے اس کا چاق چوبند انتظام کیا ہے۔ پروانچل کی دو اہم سیٹوں بنارس اور گورکھپور کے ارد گرد کی سیٹوں پر یہ صاف دکھائی دیتا ہے۔مشرقی اتر پردیش کی اہم پسماندہ ذاتوں کرمی، نشاد، لونیہ ، کشواہا اور غیر جاٹو دلتوں میں پاسی، دھوبی وغیرہ کو گٹھ بندھن نے کثرت میں ٹکٹ دئیے ہیں۔ پچھڑوں کے ساتھ ا اعلیٰ ذاتوں کا بہترین کاک ٹیل بھی ان سیٹوں پر نظر آتا ہے۔جونپور میں دلت یادو تناتني کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے بی ایس پی کی جانب سے مایاوتی نے شیام سنگھ یادو کو امیدوار بنایا ہے تو پڑوس کی مچھلي شهر سیٹ پر سابق انجینئر ٹی رام کو اتارا ہے۔ غازی پور میں یادو، دلت کے ساتھ مصالحت بٹھاتے ہوئے دبنگ مختار انصاری کے بھائی افضال کو ٹکٹ دیا ہے، وہیں چندولی میں لونیہ برادری کے سنجے چوہان تو گھوسی میں بھومیہار اتل رائے امیدوار ہیں۔ بھدوہی میں نشاد برادری کے رام چرتر نشاد کو اتارا گیا ہے۔ ان علاقوں میں غیر یادو پچھڑوں کی کثرت ہے اور قریب قریب ہر ٹکٹ یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے دی گئی ہیں۔پھول پور میں بی جے پی اور کانگریس کے پٹیل امیدوار کے جواب میں گٹھ بندھن نے پندھاري یادو کو ٹکٹ دیا ہے تو الہ آباد میں حد بندی کے بعد بدلے نسلی فارمولیشن کو ذہن میں رکھتے ہوئے راجندر پٹیل کو اتارا گیا ہے۔ پرتاپ گڑھ میں کانگریس اور راجا بھیا کی پارٹی ’جن ستا دل‘ کے ٹھاکر امیدواروں کے جواب میں اتحاد کی جانب سے برہمن امیدوار میدان میں ہے۔ضمنی انتخابات میں گو ر کھپو ر نشست گنوانے کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ نا تھ نے یہاں سے جیتے رہنما پروین نشاد کو اپنے پا لے میں کر کےسماج وادی پارٹی کو بڑا جھٹکا دیا تھا اور نشاد پارٹی کے ساتھ گٹھ بندھن بھی کر لیا تھا۔ گورکھپور پا ر لیمانی سیٹ پر نشاد ووٹر مؤثر ہیںلیکن ایم پی پر و ین نشاد کو بغل کی سنت کبیر نگر سیٹ سے ٹکٹ د ے دیا گیا۔جوتا اسکینڈل کی وجہ سے سنت کبیر نگر سیٹ سے بی جے پی کے رہنما شرد ترپاٹھی کا ٹکٹ کٹنے کے بعد یہاں کے برہمن ناراض ہیں۔ اتحاد نے یہاں سے برہمن امیدوار موثر تواری کو میدان میں اتارا ہے۔ یادو-برہمن-دلت مسلم ووٹوں کے سہارے وہ یہاں مضبوط دکھائی دیتے ہیں جبکہ بی جے پی کے پروین نشاد صرف یوگی کے معجزات کے بھروسے نظر آتے ہیں۔ بغل کی بستی سیٹ پر اتحاد نے کرمی امیدوار رام پرساد چودھری کو اتارا ہے جبکہ قر یب 6 لاکھ سے زیادہ مسلم ووٹوں والی سیٹ ڈومریا گنج میں اتحاد کی جانب سے آفتاب عالم ہیں۔ سلیم پو ر میں اتحاد کی جانب سے کشواہا امیدوار ہیں تو با نس گا ؤں سے پاسی اور دیوریا سے جیسوال اور کشی نگر سے کشواہا امیدوار میدان میں اتارے گئے ہیں۔مجموعی طور پر سیٹ در سیٹ گٹھ بندھن نے غیر یا د و پسماندہ طبقات کو ٹارگٹ کر کے پورے پر و ا نچل میں بی جے پی کو پھنسانے کا کام کر دیا ہے۔ بلیا میں برہمن سناتن پانڈے ہیں تو مہراج گنج میں ٹھاکر کنور اکھلیش سنگھ ہیں۔پروانچل کی زیادہ تر سیٹوں پر کانگریس کے امیدوار اتحاد کو کھاد پانی دینے کا کام کر رہے ہیں۔ گورکھپور میں بی جے پی کے پنڈت روی كشن شکلا کے سامنے کانگریس نے مدھو سودن تواری کو تو سلیم پور میں راجیش پانڈے کو اتارا ہے۔ ڈ و مریا گنج میں بی جے پی کے جگدمبكا پال کے سامنے کانگریس نے چندریش اپادھیائے کو بستی میں راج كشور سنگھ کو کھڑا کیا ہے۔ شراوستی سیٹ پر گٹھن بند ھن کے رام شرومنی ورما کرمی اور یادو-مسلم-دلت کے ساتھ یکساں ووٹوں کو ملا کرمضبوط ہیں، وہیں کا نگر یس نے ٹھاکر امیدوار دھریندر پرتاپ سنگھ کو ا تا را هے ۔پورے پروانچل میں کانگریس نے بھدوہی میں رماکانت یادو اور سنت کبیر نگر میں بھا ل چندر یادو کو ضرور اتار کر اتحاد کے سامنے کچھ مشکلیں پیدا کی ہیں ،میں یہ دونوں امیدوار بھی بہت دقت کھڑی کرتے نہیں نظر آتے ہیں۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here