جمہوریت کو زخم دینے کی ناپاک سازش

0
160

اپوروانند

لوک سبھا کے انتخابات کے لئے پہلے مرحلے کی پولنگ میں فیصدگنتی کرتے وقت اس بات کو درج کئے جانے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان کا ایک ووٹر شوکت علی اپنی زندگی میں پہلی بار ووٹ نہیں کر سکا۔ اس کی وجہ بیماری یا گھریلو جھنجھٹ نہیں ہے۔ آسام کے تیج پور میں وشوناتھ ضلع کے ووٹر شوکت علی پر ووٹنگ کے چار دن پہلے مقامی مدھو پوربازار میں ہی حملہ ہوا اور وہ بری طرح پیٹے گئے۔ مارپیٹ کے چلتے وہ زخمی ہو گئے۔ایک مقامی ہسپتال میں ان کا علاج کیا جا رہا تھا لیکن پھر انہیں گوہاٹی ہسپتال لے جایا گیا۔ اس کی وجہ سے وہ اپنے بوتھ پر جا کر ووٹ نہیں ڈال سکے۔شوکت علی کو اس کا افسوس ہے کہ وہ سب سے پہلے ووٹ نہیں دے سکے۔ووٹر شناختی کارڈ ہونے کے ساتھ ہی بھارتی شہری ہونے کا ہر ثبوت ان کے پاس ہے۔ وہ سر اٹھا کر ہر بار ووٹ دیتے آئے ہیں لیکن اس بار تشدد نے انہیں ووٹ کے حق سے محروم کر دیا۔
الیکشن کمیشن کے پاس اس طرح کے ایک مائل لیکن لاچار ووٹر کے لئے الگ سے کوئی شرائط نہیں ہے کہ وہ اس کی رائے لے سکے۔ الیکشن کمیشن انتخابات کے دوران سب سے طاقتور ادارہ ہے لیکن اگر کسی کو ووٹنگ سے روکا جائے تو اس جرم کے لئے اس کے پاس سزا کا کوئی انتظام ہے یا نہیں، اس کا ہمیں پتہ نہیں۔
شوکت علی ہندوستان کے شہری تو ہیں لیکن انہیں شہریت کے فرض قیام سے محروم کئے جانے پر کسی آئینی ادارے کی جانب سے روش تو چھوڑیئے، افسوس کا ایک لفظ بھی نہیں سنائی پڑا۔
‘دی ٹیلی گراف اخبار نے بتایا کہ شوکت علی کی بیوی نے اس کے باوجود ووٹ دیا۔ جیسے شوکت کے لئے کوئی افسوس یا ہمدردی نہیں دیکھی گئی، ویسے ہی شوکت کی بیوی کی اس جيوٹ کے لئے کہیں سے ایک لفظ بھی تعریف کے سننے میں نہیں آیا۔
لیکن ہمیں ہندوستا ن کی جانب سے شوکت علی کی بیوی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنے شوہرپر حملہ کرنے والے کا ناپاک ارادہ ناکام کیا۔ وہ ارادہ بہت صاف ہے کہ شوکت علی جیسے نام والے ہر شخص کو توہین کرکے اور ڈرا کر گھر میں بیٹھا دینا۔ انہیں شہریت کے حق کا استعمال کرنے سے حوصلہ شکنی کرنا۔ یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کے اختیار میں کسی طرح زندگی گزارنےکے علاوہ اور کچھ نہیں بچا ہے۔ انہیں سمٹ کر رہنا ہے اور اپنی کردیتا جارہی جگہ میں بس پاؤں ٹکائے رہنا ہے۔
شہریت پر اپنا دعوی پیش کرتے رہنے اور اس کے ہر معاملہ میں مداخلت کرتے رہنے سے ہی تعمیر ہوتی ہے۔ اور لوک سبھا کا انتخاب ایسے مداخلت کا سب سے بڑا موقع ہے۔ تو شوکت علی کی بیوی نے اپنے شوہر کے زخمی ہونے اور ہسپتال میں ہونے کے باوجود اپنا یہ فرض نبھایا۔ یہ کہیں بتایا نہیں گیا، لیکن ہمیں امید کرنی چاہئے کہ شوکت کے خاندان کے باقی اراکین نے بھی ایسا ہی کیا ہوگا۔
اس ایک خبر سے ہماری توجہ اس ہر خاندان اور شہری کی جانب جانا چاہئے جو اس طرح کے تشدد کی وجہ سے بے گھر ہوتے جار ہے ہیں ور اس کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ کیا اخلاق کا خاندان ووٹ دے پایا؟ پہلو خان اورعلیم الدین کا خاندان ووٹ دے پایا؟

کیا انتخابات کے اس دور میں ہر قسم کی عجیب و غریب کہانیاں تلاش کرتے صحافی اسے خبر مانتے ہیں؟ اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔شوکت کی بیوی کے ووٹ دینے کے بارے میں آپ کو بھی سن سکتے ہیں کہ ارے، یہ مسلمان کچھ بھی ہو، ووٹ ضرور ڈالیں گے! گویا، ووٹ ڈالنا کوئی سازش ہو۔ ایسا کہنے کے پیچھے یہ خیال ہے کہ مسلمان اپنے اس طرح کے ہر حق کو لے کر ہندوؤں کے مطابق مزید آگاہ ہوتے ہیں۔
بچوں کے ایک ڈاکٹر نے اپنے تجربے سے بتایا کہ مسلمان مائیں اپنے بچوں کی صحت کے بارے میں ہندو ماؤں کے مقابلے زیادہ محتاط ہوتی ہیں۔ اس کے چلتے ان کے بچے زیادہ صحت مند رہتے ہیں۔
کیا اس کے لئے ان مسلمان ماؤں کی تعریف کی جانی چاہئے یا اسے مسلمانوں کی اپنی تعداد میں برقرار رکھنے اور بڑھانے کی سازش کا حصہ ماننا چاہئے؟ جو مجھے یہ بتا رہے تھے، وہ قطعی فرقہ پرست نہیں ہیں لیکن ان کے کہنے میں ہندوؤں کی لاپرواہی کو لے کر ایک جھنجھلاہٹ تو تھی ہی۔ لیکن اس کے مقابلے ہی کیوں؟ کیا اس میں ایک طرح کا افسوس ہے کہ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے؟ یا، یہ کہ وہ تو اسے لے کر آگاہ ہیں، ہندو نہیں۔
ایک دوسرے شخص نے بتایا کہ جب انہوں نے مسلمانوں کے بے سہارا بچوں کی پناہ گاہ کی جگہ کو دیکھا، تو وہاں صفائی اور صحت کو لے کر مزید احتیاط نمایاں تھی وہ اس سے خوش تھے اور یہ بتانا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے بارے میں جو عام رائے پروپیگنڈے کی گئی ہے، ان کا اپنا تجربہ اس ٹھیک الٹ ہے۔

اس کے ساتھ آپ بلقیس بانو کے انصاف کے لئے کئے گئے جدوجہد کویاد کریں جو اس نے سالوں-سال مسلسل اپنی جگہ بدلتے ہوئے اور پوشیدہ رہ کر چلایا اور کامیابی حاصل کی۔ یہ بھی شہریت پربلقیس کا دعوی ہی ہے۔ آپ سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں ملزمان کے چھوٹ جانے پر ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے بیان کو بھی یاد کریں۔ وہ حکومت کے مخالف رویے کے باوجود انصاف کے حصول کے لئے آخری دم تک لڑنے کو تیار ہیں۔جنید کی اماں سے آپ ملیں، وہ نہ صرف اپنے بیٹے کے قتل کا حساب لینا چاہتی ہیں، بلکہ اس سیاست کو بھی شکست کرنا چاہتی ہیں جو جنید یاعلیم الدین کے قاتل پیدا کرتی ہے۔
شوکت آج اکیلے اپنا زخم بھرنے کا انتظار کر رہے ہیں اور یہ زخم صرف ان کےبدن پر نہیں ہے۔ ووٹ نہ دے پانے کا زخم اس کے مقابلے کہیں گہرا ہے۔ اس بار حکومت کیسی ہو، اس پر وہ اپنی رائے نہیں دے سکے، اس کا زخم کہیں زیادہ ٹیس دیتا ہے۔ اس کے لئے کیا معاوضہ ہے؟

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here