جنا دیش 2019 کے انتخابات کا حال،خرچ کرو اورجیتو

0
153

پرشانت شریواستو

“2019 کا عام انتخابات ہو سکتا ہے دنیا کا سب سے مہنگا انتخابات”

لاکھ ٹکے کا سوال ہے، کیا الیکشن پیسے خرچ کئے بغیر بھی جیتا جا سکتا ہے؟ چونکئے مت آج بھی ایسے امیدوار ہیں جو بغیر جیب میں چونني کے کھڑے لوگوں کی ہنسی یا ہمدردی کا مستحق بنتے ہیں۔ ایک مثال تو اتر پردیش کے مظفرنگر سیٹ سے مزدور کسان یونین پارٹی کے مانگورام کشیپ ہی ہیں، جنہیں اقتصادی طور پر سب سے وپنن امیدوار بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، ملک میں پہلے انتخابات، انگریزی راج میں، 1935 میں گجرات کے بیکنٹھ بھائی مہتا نے بغیر ایک پائی خرچ کئے انتخابات جیت کر دکھایا تھا۔لیکن اس کے بعد 94 سال میں بھارت میں الیکشن لڑنے کا سٹائل ایسا بدلہ ہے کہ 2019 کا لوک سبھا چناؤ دنیا کا سب سے مہنگا انتخابات ہونے جا رہا ہے۔ اخراجات کے تخمینے اور قیاس آرائی الگ الگ ہیں۔ ایک کے مطابق اس بار انتخابات میں 50 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے تو دوسرا اندازہ ایک لاکھ کروڑ روپے تک کا ہے۔ فرق دیکھئے کہ آج یہ اعداد و شمار چونکاتے بھی نہیں ہیں اور زیادہ تر لوگ اسے اب عام ماننے لگے ہیں۔

اندازہ یہ بھی ہے کہ 7-10 فیصد رقم اکیلے سوشل میڈیا پر خرچ ہو رہاہے۔ مجموعی طور پر 2019 کا الیکشن 2014 کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ موٹے اندازے سے 2014 میں لوک سبھا انتخابات میں 30 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔ جبکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک کے 99 فیصد سے زیادہ امیدوار الیکشن کمیشن کو دیے منشور میں یقین دلایا ہے کہ انہوں نے تو طے خرچ کی حد سے بھی کم پیسے میں لڑا ہے۔ اس بار الیکشن کمیشن نے چھوٹے پارلیمانی علاقوں کے لئے 50 لاکھ روپے اور بڑے علاقے کے لئے 70 لاکھ روپے خرچ کی حد طے کی ہے۔ اس حساب سے تو فی پارلیمانی حلقہ میں 10 امیدوار کی اوسط مانا جائے تو پورے انتخابات میں صرف 3000-4000 کروڑ روپے خرچ ہونے چاہئے۔ سوال اٹھتا ہے کہ پھر اضافی 45 ہزار کروڑ روپے کہاں خرچ ہوں گے۔

اس بات کا جواب سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز کے پھاڈر چیئرمین ڈاکٹر این بھاسکر راؤ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری سٹڈی رپورٹ کے مطابق،سال 2018 تک جو رجحان دیکھنے کو ملا ہے، اس کے مطابق انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے سے پہلے کل خرچ کی تقریبا 20 فیصد رقم استعمال کی جاتی ہے۔ جبکہ 80 فیصد رقم اس کے بعد خرچ کی جاتی ہے۔ اس میں سے رسمی رقم قریب 15-25 فیصد ہوتی ہے۔ جبکہ باقی غیر رسمی طور پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ انتخابات اور موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے 2019 کے انتخابات دنیا کے سب سے مہنگے انتخابات ہوں گے۔ اس میں قریب 50 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوں گے، جبکہ 2014 میں تقریبا 30 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔

کیا انتخابات بغیر پیسے یا کروڑوں روپے خرچ کئے بغیر بھی جیتا جا سکتا ہے؟ ایسی کیا وجوہات بنی، جس کی وجہ سے ایسا ہوا، اس پر ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کے پھاڈر ممبر جگدیپ چھوکر کا کہنا ہے کہ اس کے لئے بیکنٹھ بھائی مہتا کی مثالیں کو سمجھنا ہوگا۔چھوکر کے مطابق حکومت ہند ایکٹ 1935 کے تحت آزادی کے پہلے ہندوستانیوں کو الیکشن لڑنے کا حق ملا تھا۔ اس وقت گجرات میں معاشرے سےوي بیکنٹھ بھائی مہتا کو ان کے علاقے کے لوگوں نے انتخاب لڑنے کے لئے کہا۔ مہاتما گاندھی کی ہدایت پر پھر مہتا نے الیکشن لڑا۔ جس گاندھی نے ان سے کہا تھا کہ انتخابات میں نہ تو آپ پرچارکے لئے جاؤ گے اور نہ ہی ایک پیسہ خرچ کرو گے۔ مہتا نے اسی بنیاد پر لڑا اور وہ جیت گئے۔سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں بالائی سطح پر تو جمہوریت ہے، لیکن پارٹیوں کی سطح پر جمہوریت نہیں ہے۔ اب عوام امیدوار طے نہیں کرتی ہے. پیراشوٹ امیدوار انتخابات میں اترتے ہیں۔ایسے میں جیتنے کے لئے انہیں پیسے تو خرچ کرنے پڑیں گے۔وہیں بھاسکر راؤ نےاپنے اسٹڈی کے ذریعے بتاتے ہیں کہ انتخابات میں جو رقم خرچ ہوتی ہے اس میں سے 40-45 فیصد امميدار خرچ کرتا ہے۔ جبکہ 20-25 فیصد رقم پارٹی، 15-20 فیصد حکومت اور ایک سے دو فیصد میڈیا کے ذریعے خرچ ہوتا ہے۔ باقی دوسرے مد میں خرچ کئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ انتخابات میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر، چٹ فنڈ، ٹرانسپورٹ، غیر منظم سیکٹر وغیرہ سے بھی بڑی مقدار میں فنڈنگ کی جا رہی ہے۔ راؤ کے مطابق، انتخابات میں کارپوریٹ فنڈنگ کا بھی طریقہ کافی بدلا ہے۔ پہلے کارپوریٹ، پارٹیوں کو ان کوملنے والے ووٹ کی بنیاد پر فنڈنگ کرتے تھے، لیکن وہ راستہ بدل گیا ہے۔ اب یہ پیمانہ ختم ہو گیا ہے۔ اس سے صاف ہے کہ اب اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے فنڈنگ کی جا رہی ہے۔ چھوکر کے مطابق،سیاسی جماعتوں کو کارپوریٹ فنڈنگ ملنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آزادی کے پہلے سے کانگریس پارٹی کو برلا، بجاج جیسے کارپوریٹ گھرانوں سے چندہ ملا کرتا تھا۔ لیکن اس وقت یہ اپنے مفادات کو لگانے کے لئے نہیں تھا۔ لیکن بعد میں آہستہ آہستہ یہ تبدیلی آتا گیا۔ جب ملک میں لائسنس راج آیا، تو اس وقت حکمراں پارٹی کو چندے دینے کا سلسلا بڑھا۔ کارپوریٹ انتخابات میں چندہ دے کر اپنے بزنس کے لئے لائسنس لیتے تھے۔ وہاں سے شروع ہوا سلسلہ اب اس سطح تک پہنچ گیا ہے۔ جہاں پر یہ صاف دکھائی دیتی ہے کہ کارپوریٹ اور سیاسی جماعتوں کی ملی بھگت ہو گئی ہے۔

اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ حکمراں پارٹی کو چندہ دینے میں کارپوریٹ سے لے کر دوسرے لوگ اپنی فوقیت سمجھتے ہیں۔ اسے گزشتہ پانچ سال میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کی آمدنی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سال 2014-15 میں جہاں بی جے پی کی آمدنی 970.43 کروڑ روپے تھی اور کانگریس کی آمدنی 593.31 کروڑ روپے تھی۔ یہ مساوات 2017-18 آتے آتے مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ سال 2017-18 کی بی جے پی کی آمدنی جہاں 1027.34 کروڑ روپے پہنچ گئی، وہیں کانگریس کی آمدنی گھٹ کر 199.15 کروڑ روپے رہ گئی۔

اسی طرح کا رجحان سال 2004-2012 میں دیکھا گیا تھا، جب مرکز میں کانگریس اور اس کے اتحادیوں کی حکومت تھی، اس دوران ان کی انکم میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق 2004 سے 2012 کے درمیان سیاسی جماعتوں کو کل آمدنی 4895.96 کروڑ روپے کی ہوئی۔ اس میں سے الےكٹورل ٹرسٹ سے صرف 105.96 کروڑ روپے ملے۔ جبکہ نامعلوم ذرائع سے سیاسی پارٹیوں کو 3674.50 کروڑ روپے ملے، جو پارٹیوں کی کل آمدنی کا 75.1 فیصد ہے۔ سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر دیکھا جائے تو اس مدت میں سب سے زیادہ راشٹرواٹي کانگریس پارٹی کو 91.58 فیصد، کانگریس کو 82.5 فیصد رقم نامعلوم ذرائع سے ملی۔ جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو 73 فیصد، بہوجن سماج پارٹی کو 61.8 فیصد، سی پی ایم کو 53.8 فیصد اورسپا کو 14.7 فیصد رقم نامعلوم ذرائع سےملے۔
اقتدار میں رہنے کا فائدہ پارٹیوں کو کیسے حاصل کروں، اسے ان کی خصوصیات میں ہوئے اچنبھے کی بنیاد پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو ملا ہے۔ اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق 2004-05 سے 2015-16 کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی کی جائیداد میں 627 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 2004-05 میں بی جے پی کی ملکیت 122.93 کروڑ روپے تھی جو 2015-16 میں بڑھ کر 893.88 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح کانگریس کی جائیداد میں 353.14 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 2004-05 میں پارٹی کی پراپرٹی 167.35 کروڑ تھی جو 2015-16 میں بڑھ کر 758.79 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح بی ایس پی کی جائیداد 43.09 کروڑ روپے سے بڑھ کر 559.01 کروڑ روپے اور سی پی ایم کی پراپرٹی 90.55 کروڑ روپے سے بڑھ کر 437.78 کروڑ روپے ہو گئی۔

گزشتہ 15 سال سے سیاسی جماعتوں کی ہوئی آمدنی کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات صاف طور سامنے آتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کی آمدنی بڑھنے میں نامعلوم ذرائع سے ملے چندے کی اہم کردار رہا ہے۔ گزشتہ 15 سال میں یہ رقم 50-75 فیصد کے درمیان رہتا ہے۔ساتھ ہی حکومت کی طرف سے گزشتہ 3-4 سال میں بھارتی عوامی نمائندے قانون میں جو تبدیلی کئے گئے ہیں، اس سے اس کے بڑھنے کا خدشہ اور بڑھ گئی ہے۔

فنانس بل 2017 سے کمپنی قانون 2013 میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس کے تحت ابھی کمپنیوں کے لئے کسی بھی پارٹی کو فنڈ دینے کے لئے رقم کی حد سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یعنی کوئی بھی کمپنی کتنی بھی رقم کا چندہ دے سکتی ہے۔ پہلے اصول تھا کہ کمپنیاں صرف اپنے تین سال کے اوسط منافع کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ 7.5 فیصد ہی رقم اس مد میں خرچ کر سکتی تھیں۔ اس حد کو ہٹا دیا گیا ہے۔ یہی نہیں، منافع کی شرط بھی ہٹا دی گئی ہے۔بھاسکر راؤ کا کہنا ہے کہاگر کوئی کمپنی منافع میں نہیں ہے، اس کے باوجود کسی بھی پارٹی کو فنڈنگ کرتی ہے تو ظاہر ہے اس میں کوئی اس کا مفاد گے۔ساتھ ساتھ نئے عہد نامے میں ایک اہم بات یہ بھی جوڑے گئی ہے کہ کمپنیوں کو ان شےيرهولڈرس کو یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں کرے گا کہ اس نے کس پارٹی کو فنڈنگ کی ہے۔ چھوکر کے مطابق، یہ قدم براہ راست طور پر شفافیت کے خلاف ہے۔ اسی طرح غیر ملکی کمپنیوں سے لئے جانے والے فنڈنگ کے قوانین میں تبدیلی کر بھی شفافیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومت نے غیر ملکی امداد قوانین قانون میں بھی ترمیم کی ہے۔ اس میں سیاسی پارٹیاں غیر ملکی ذرائع سے چندہ لے سکیں گی۔ جبکہ سال 1976 کے قانون میں ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس ترمیم کے خلاف اے ڈی آر نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی بھی دائر کی ہوئی ہے۔ نئے ترمیم کے نافذ ہونے کے بعد سیاسی پارٹیاں 1976 کے بعد لئے ہوئے چدو کی جوابدہی سے بچ گئی ہیں۔ اسی طرح سال 2017-18 میں شروع کی گئی حکومت کی الےكٹورل بانڈ اسکیم پر خود الیکشن کمیشن نے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے میں شفافیت کی کمی آئے گی۔ سپریم کورٹ میں 25 مارچ کو دائر حلف نامے میں الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ الےكٹورل بانڈ کے ذریعے ملنے والے چندے کا تفصیلی بیورا نہیں ہونے سے شفافیت پر براہ راست اثر پڑے گا۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ فنانس ایکٹ 2016 اور 2017 میں کئے گئے تبدیلیوں سے انتخابات میں کالے دھن کے استعمال کو فروغ ملنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے اس کے لئے شیل کمپنیاں بنائی جا سکتی ہیں، جو کالے دھن کو انتخابات میں بھاری مقدار میں فائدہ پہنچانے میں مددگار ہو گی۔

اسی طرح غیر ملکی چندہ ریگولیشن قانون میں تبدیلی سے اب غیر ملکی کمپنیاں بھی سیاسی جماعتوں کو بغیر کسی شفافیت کے چندہ دے سکیں گی۔ اس کا خمیازہ یہ ہوگا کہ وہ بھی اپنے مفادات کے لئے انتخابات کو متاثر کر سکیں گی۔ کمیشن نے اس معاملے میں یہ بھی کہا ہے کہ اس نے قانون اور سماجی انصاف کی وزارت کو مئی 2017 میں اس کے لئے محتاط کیا تھا کہ نئی ترامیم سے کیسے انتخابات میں شفافیت میں کمی آئے گی۔ اس معاملے پر چھوکر کا کہنا ہے کہ جب الےكٹورل بانڈ کا اعلان حکومت نے کیا تھا، تبھی سے یہ لگ رہا تھا کہ اس سے شفافیت میں کمی آئے گی، ساتھ ہی اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ الےكٹورل بانڈ سے ملنے والا چندہ اہم طور پر حکمراں پارٹی کو فائدہ پہنچائے گا۔ چھوکر کے مطابق الےكٹورل بانڈ میں اس بات کا قانون ہے کہ چندہ دینے والے شخص یا کمپنی کی معلومات خفیہ رکھی جائے گی۔ یہ بانڈ بھارتی اسٹیٹ بینک کی مقررہ شاخوں سے ملتے ہیں۔ جب معلومات عوامی ہی نہیں ہو گی، تو اس میں شفافیت کس طرح آئے گی۔ ساتھ ہی اس عمل میں بھی رزق ہے کہ الےكٹورل بانڈ کے ذریعے چندہ دینے والے شخص یا کمپنی کو كےوايسي معیار کو پورا کرنا ضروری ہے۔ ایک طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ معلومات خفیہ رکھی جائے گی۔ وہیں، دوسری طرف كےوايسي بھی لی جائے گی۔ تو یہ معلومات کس کے لئے لی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ بینک سے لے کر اربيا، وزارت خزانہ جب حکومت کے تابع ہے تو اس کا غلط استعمال اپنے مفادات کے لئے ہو سکتا ہے۔چھوکر کے مطابق، یہ اندیشہ صحیح بھی ثابت ہوا ہے۔سال 2017-18 میں سیاسی پارٹیوں کو الےكٹورل بانڈ کے ذریعے ملے کل چندے میں قریب 95 فیصد رقم بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملا ہے ۔ اس مدت میں 222 کروڑ روپے میں سے 210 کروڑ روپے بھارتیہ جنتا پارٹی کو الےكٹورل بانڈ کے ذریعے چندے میں ملے ہیں۔ صاف ہے کہ جس بات کا اندیشہ تھا وہی ہو رہا ہے۔ الیكٹورل بانڈ کے ذریعے ملے چندے سے بھی واضح ہے کہ حکمراں سیاسی جماعت کو ہی زیادہ سے زیادہ چندہ دیا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں دیے حلف نامے میں ایک اور سنگین سوال اٹھایا ہے۔اس نے کہا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ قانون میں تبدیلی کے بعد سیاسی جماعتوں کو 20 ہزار روپے سے کم کی رقم چندے کے طور پر دینے والے شخص اور اداروں کو اپنا نام، پتہ اور پین کارڈ کی معلومات دینے کا قانون ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے سب سے زیادہ سیاسی جماعتیں بڑی مقدار میں چندے کی رقم اسی مد میں دکھا رہے۔ صاف ہے کہ نامعلوم ذرائع سے سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے میں تیزی سے اضافہ ہو رہاہے۔ ایک بات واضح ہو رہی ہے کہ فنانس ایکٹ 2017 کے تحت عوامی نمائندے قانون، انکم ٹیکس ایکٹ، غیر ملکی امداد قوانین قانون، کمپنی قانون میں جس طرح سے تبدیلی ہوئی ہیں، اس کے بعد سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے میں نامعلوم ذرائع سے ملنے والے چندے میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

اے ڈی آر کی طرف سے جنوری 2019 میں جاری رپورٹ کے مطابق سال 2017-18 میں ملک کی چھ قومی سیاسی جماعتوں (بھارتی کمیونسٹ پارٹی کو چھوڑ کر) کو ان کے ملے کل چندے میں سے 53 فیصد رقم نامعلوم ذرائع سے آئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس مدت میں 689.44 کروڑ روپے نامعلوم ذرائع سے ملے ہیں۔ جبکہ 47 فیصد رقم معلوم ذرائع سے ملے ہیں۔ رپورٹ میں ایک اہم بات اور سامنے آئی ہے کہ 20 ہزار روپے اور اس سے زیادہ کی رقم جو چندے کے طور پر سیاسی جماعتوں کو ملی ہے، اس میں 93 فیصد رقم بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملی ہے۔ سال 2017-18 میں اس شے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 437.04 کروڑ روپے اور انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کو 26.66 کروڑ روپے اہم طور پر ملے ہیں۔ اگر 2017-18 کی سال 2016-17 سے موازنہ کی جائے تو نامعلوم ذرائع سے ملنے والے چندے میں الیكٹورل بانڈ کی اہم کردار رہا ہے۔ سال 2016-17 میں سیاسی جماعتوں کو 50 فیصد سے کم چندہ نامعلوم ذرائع سے ملا تھا جو 2017-18 میں 53 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں سے الیكٹورل بانڈ کی حصہ داری 31 فیصد ہے۔ یعنی سیاسی جماعتوں کے نامعلوم ذرائع سے چندہ دینے کا سب سے اہم ذریعہ الیكٹورل بانڈ بنتا جا رہا ہے۔ چھوکر کا کہنا ہے، “اگرچہ شفافیت لانے کے نام پر کئی سارے اقدامات کرنے کا دعوی کیا گیا ہو، لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ تازہ اعداد و شمار اس بات کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں امیدواروں کے انتخاب میں دولت قوت کا براہ راست ریاضی لگاتے ہیں۔ جس کو وہ ونر امیدوار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس کے نام پر ہی سب چلتا ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جب ملک کے 99 فیصد سے زیادہ امیدوار یہ مانتے ہیں کہ انہوں نے انتخابات میں طے خرچ حد 60-65 فیصد رقم ہی خرچ ہے، تو پھر ہر بار الیکشن کمیشن خرچے کی حد میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے۔

سوشل میڈیا کی اس بار انتخابات میں اہم کردار رہنے والی ہے۔ بھاسکر راؤ کے مطابق، 2014 کے انتخابات میں قریب 50-60 پارلیمانی حلقہ ایسے تھے، جہاں پر سوشل میڈیا کے ذریعے انتخابی مہم پر کافی توجہ کیا گیا تھا۔ لیکن اس وقت یہ تعداد 150 پارلیمانی علاقوں تک پہنچنے والی ہے۔ یعنی اس بار پارٹیوں کا بڑا خرچ اس شے میں بھی ہونے والا ہے۔راؤ کے مطابق 2014 میں یہ کل خرچ کا تقریبا ایک فیصد تھا جو کہ 2019 میں سات سے دس فیصد کے قریب رہنے والا ہے۔یعنی چار ہزار سے پانچ ہزار کروڑ روپے اکیلے سوشل میڈیا پر خرچ ہوں گے۔ جبکہ الیکشن کمیشن کی خرچے کی حد کی بنیاد پر امميداورو کا مکمل خرچ اتنی رقم میں مکمل ہو جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا ہے، “اس بار انتخابات میں ایک لاکھ کروڑ روپے خرچ ہوں گے، اس میں سے 90 فیصد رقم یعنی 90 ہزار کروڑ روپے اکیلے بھاجپا خرچ کرے گی۔

بڑھتے اخراجات کو کیا روکا جا سکتا ہے؟ اس معاملے پر اے ڈی آر سربراہ (ریٹائرڈ میجر جنرل) انل ورما کہتے ہیں “الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کے اخراجات اور آمدنی کی سختی سے نگرانی کرنا چاہئے اور مجرم جماعتوں پر جرمانہ کرنا چاہئے۔ نقد چندے کا حساب کتاب رکھا جانا چاہئے۔کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیگ) سے مقرر پینل کے چارٹرڈ اكاٹےٹس کے ذریعے سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ کا آڈٹ کرایا جانا چاہئے۔ گاڈلان کی خلاف ورزی پر سیاسی جماعتوں کو ملی انکم ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے۔تفصیل نہ دینے پر سیاسی جماعتوں پر جرمانہ عائد کیا جانا چاہئے۔ شفافیت بڑھانے کے لئے الیكٹورل بانڈ اسکیم روکا جائے۔ چیف انفارمیشن کمشنر کے 2013 کے فیصلے کے مطابق سیاسی جماعتوں کو ارٹيا کے دائرے میں لانے کا حکم لاگو کیا جانا چاہئے۔ “صاف ہے کہ ابھی انتخابی خرچ میں شفافیت کا فقدان ہے، گزشتہ تین چار سالوں میں شفافیت بڑھانے کے نام پر جو قوانین بنائے گئے ہیں، ان پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ایسے میں جب تک صحیح معنوں میں شفافیت لانے کے قدم نہیں اٹھائے جائیں گے، اس وقت تک مکمل انتخابی نظام پر سوال تو اٹھتے ہی رہیں گے۔

(ساتھ میں چندی گڑھ سے ہریش انسانی)
دلچسپ حقائق
– امریکی صدارتی انتخابات سے مہنگا ہوگا 2019 کے لوک سبھا انتخابات

– اوسطا فی پارلیمانی حلقہ 90 کروڑ روپے سے زیادہ کا خرچ

– الیکشن کمیشن کے مطابق امیدوار 50-70 لاکھ روپے خرچ کر سکتے ہیں

– سیاسی جماعتوں کو نامعلوم ذرائع سے 53 فیصد چندہ مل رہا ہے

– اقتدار میں رہنے والے پارٹی کو سب سے زیادہ چندہ ملتا ہے

– ایمبولینسوں، پرچی، ریئل اسٹیٹ، چٹ فنڈ کمپنیوں کے استعمال سے غیر قانونی چندہ دینے کا خدشہ

الیكٹورل ٹرسٹ سے ملا چندہ
سیاسی پارٹیوں کو 2017-18 میں الیكٹورل ٹرسٹ سے جو چندہ ملا ہے، اس میں سے 86.59 فیصد رقم یعنی 167.80 کروڑ روپے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملے ہیں۔ جبکہ انڈین نیشنل کانگریس، بیجو جنتا دل، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور نیشنل کانفرنس کو مجموعی طور پر 25.98 کروڑ روپے ملے۔

15 لاکھ کروڑ کی آمدنی کا نقصان
مرکزی حکومت ہر سال صنعتوں کو فروغ دینے کے لئے مختلف طرح کی ٹیکس چھوٹ دیتی ہے۔ یہ آئٹم سال 2013-14 سے لے کر 2016-17 تک ایکسائز اور کسٹم ڈیوٹی میں انڈسٹری کو ملی چھوٹ سے قریب 15.21 لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی نقصان ہوا ہے۔ صاف ہے کہ جو پیسے حکومت کو ملنے چاہیے تھے، وہ اکنامک رفتار کے نام پر چلے گئے۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here