راہل کے منشور میں ’نیائے ‘اور امید دونوں ہیں

0
124

مینک مشرا
سب سے پہلے نظر کرتے ہیں کانگریس کے منشور کی بڑی باتوں پر۔1ملک کے غریب ترین 20 فیصد خاندانوں کو ہر ماہ 6.000 روپے کا وعدہ2ایک مختلف روزگار کی وزارت بنانا۔3 مرکزی سرکار اور سرکاری کمپنیوں کی ساری ویكینسي کو ایک سال کے اندر بھرنہ۔3پنچایتوں اور اداروں میںکارکنوںکی بھرتي- کانگریس کا اندازہ ہے کہ اس سے 10 لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا۔4کسانوں کے لئے مختلف بجٹ، اےپی ایم سی ایکٹ کو ختم کرنے کا وعدہ۔5منریگا میں تبدیلی، اب 100 دن کے بدلے 150 دن کام ۔6 ریزرو بینک اور الیکشن کمیشن جیسے اداروں کی خود مختاری بڑھانا۔7 پارٹیوں کی فنڈنگ کے لئے بنی الیكٹورل بوڈ کو ختم کرنالیکن ان بڑے وعدوں سے زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ ویلفیئر کے ساتھ ساتھ ویلتھ تخلیقات پر زور دینے کی بات کہی گئی۔ یا پھر دی كوٹ کے ایڈیٹر ان چیف راگھو بہل کے ایک مضمون میں یوز ہوئے لفظوں میں تا-انصاف کے ساتھ امید جگانے کی کوشش کی گئی ہے۔راگھو بہل نے گزشتہ ہفتے لکھا تھا کہاگر نیائے کو کامیاب بنانا ہے تو راہل گاندھی اور کانگریس کو امیدپر بھی کام کرنے اور اس کا اطلاق کرنے کی تیاری کرنی ہوگی۔ انصاف اور امید ایک ہی ماں کے پیٹ میں جڑواں بچے ہیں دونوں ماں یعنی حکومت کا تحفظ اور پیار ہو جانا چاہئے۔حکومت کو دونوں کے لئے ایک جیسی حساسیت دکھانی چاہئے کیونکہ نیائے اور امید مل جائیں تو ملک واقعی تبدیل ہوسکتا ہے۔
فلاحی منصوبوں پر زیادہ توجہ
کانگریس کے منشور میں فلاحی منصوبوں پر زیادہ توجہ ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ان کاوشوں کو بڑھانے کا ایک روڈ میپ بھی دیا ہوا ہے۔ منشور میں شمار کیا گیا ہے کہ سرکاری کنٹرول اور بیوروکریسی کی مداخلت فی الحال کافی ہے۔ ریگولیٹر کی توجہ کنٹرول کرنے پر زیادہ ہے۔ اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔نمو بڑھانے میں نجی شعبہ کا سب سے بڑا شراکت شاید کانگریس پارٹی نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ ملک کی ترقی کو رفتار دینے میں نجی شعبہ کا سب سے بڑا شراکت نجی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لئے کانگریس نے ہر قدم اٹھانے کا بھروسہ دیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب سرمایہ کاری کی شرح 15 سال کے سب سے کم سطح پر ہے، ایسا کرنا ضروری نہیں ہے؟ ساتھ ہی کانگریس نے سرکاری سرمایہ کاری کی باؤنڈری طے کرنے کا بھی اشارہ دیا ہے۔ سرکاری سرمایہ کاری کا استعمال لوگوں کی بھلائی والے کاموں پر ہو جائے گا۔ ساتھ ہی کانگریس نے یہ بھی وعدہ کیا ہے سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے سارے قاعدے قائد کو ختم کئے جائیں گے اور وہ بھی تین ماہ کے اندر۔کن کاموں میں مداخلت نہیں کرے گا، اس کا بھی ذکر۔
کانگریس کے منشور میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ حکومت کن کن معاملات میں دخل نہیں دے گی۔ ٹھیک ٹھاک کام کرنے والے بازاروں میں فالتو کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ سرکاری ملازمین کی کارکردگی ان صورتوں میں بڑھائی جائے گی جہاں سرکاری کام ضروری ہے۔
کانگریس کا دعوی ہے کہ منشور بنانے کے عمل میں لوگوں کے مشورہ لئے گئے۔ 174 اس طرح کے سیکشن ہوئے، جہاں ایکسپرٹ سے ان پٹ گئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سرکاری فیصلے کہ عمل میں ایکسپرٹ کی رائے کس طرح لی جائے اس کا بھی راستہ اس منشور میں بتایا گیا ہے۔ خارجہ پالیسی جیسے مسائل پر ایک کمیشن بنانے کی بات کی گئی ہے جس میں ایکسپرٹ کو بھی ترجیح دی جائے گی۔آنے والے دنوں میں کانگریس کے منشور پر زوردار بحث کریں گے۔ کچھ لوگ اسے جملوں سے بھرا بولیں گے تو کئی بڑے بڑے وعدوں کا پٹارا۔ لیکن ایک بات ماننی ہوگی کی کانگریس کے منشور میں کچھ ایسے نئے مفہوم ہیں جنہیں اگر لاگو کیا گیا تو ترقی کی نئی رفتار دی جا سکتی ہے۔ llll

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here