سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ ،قسط 1: انصاف سے سمجھوتہ ہے اسیمانند کا بری ہونا

0
166

نيریندر ناگر
سمجھوتہ دھماکہ کہ کیس میں سوامی اسیمانند کولين چٹ مل گئی ہے۔ حکومت عدالت کے فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتی۔ ایسا کیوں ہے کہ مودی حکومت آنے کے بعد سے دہشت گردی سے منسلک کچھ خاص معاملات میں جن میں آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں کے نام ہیں، اہم ملزم بری ہو رہے ہیں۔ستیہ ہندی نے اس معاملے کی گہری پڑتال کی اور طویل رپورٹ تیار کی ہے. پیش ہے اس کی پہلی قسط۔

سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کیس میں اسیمانند اور باقی ملزمان کو این آئی اے کی عدالت نے تمام الزامات سے بری کر دیا ہے ، ایسے امکان بہت دنوں سے لگا ئے جار ہے تھے۔ اس کے پیچھے کئی وجوہات تھی۔ سب سے بڑی وجہ تو یہی تھی کہ 2014 میں ملک میں نریندر مودی کی حکومت کے آنے کے بعد ان تمام جانچوں کو کمزور کرنے کی کوششیں شروع ہو گئی تھیں جن میں ہندو تنظیموں سے وابستہ لوگ ملزم تھے۔
مودی حکومت شروع سے ان سب کو بچانے میں لگی ہوئی تھی اور آج وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے اس بیان سے (کہ حکومت اس فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتی)، یہ اور واضح ہو گیا ہے کہ کسی معاملے کی تفتیش کس طرح کی جائے، اب یہ افسر نہیں، لیڈر اور وزیر طے کرتے ہیں۔ این آئی اے کی وکیل روہنی ساليان چند سال پہلے ہی اس طرف اشارہ کر چکی ہیں۔ لیکن اسیمانند اور باقی ملزمان کے سمجھوتہ دھماکہ معاملے میں بری ہو جانے کے پیچھے یہی واحد وجہ نہیں تھی۔
سمجھوتہ دھماکہ میں اسیمانند اور دوسرے ملزمان کے بری ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ واردات ہونے اور ملزمان کی گرفتاریوں کے درمیان ساڑھے تین سال سے زیادہ کی تاخیر ہو گئی تھی۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں ملاقات کی ایک لائیو اٹیچی بم کے سہارے خصوصی تحقیقی ٹیم (SIT) اندور پہنچ گئی اور وہاں کی گئی پوچھ گچھ سے اسے احساس ہوا کہ اس میں ہندو طاقتوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے ۔
لیکن جانچ آگے بڑھتی، اس سے پہلے ہی اہم مشتبہ سنیل جوشی کے دسمبر 2007 میں قتل کر دیا گیا اور اس کے دو ساتھی رام چندر كلساگرا اور سندیپ ڈانگے کبھی پولیس کے ہاتھ نہیں آئے۔ ان دونوں کا نام مالیگاؤں اسکینڈل سے بھی منسلک ہے اور وہ آج تک فرار ہیں۔
ایس آئی ٹی جانچ میں یہ بھی پتہ چلا کہ سمجھوتہ دھماکے میں جس طرح سے بم لگائے گئے، وہی پیٹرن مالیگاؤں (2006)، مکہ مسجد (2007) اور اجمیر شریف (2007) کے دھماکوں میں بھی موجود تھے۔ مگر اس موضوع میںتحقیقات آگے نہیں بڑھ پائی کیونکہ مدھیہ پردیش کی پولیس نےتحقیقی ٹیم کا تعاون نہیں کیا۔
ستمبر 2008 میں ہوئے مالیگاؤں دھماکے میں لے. کرنل پرساد سری کانت پروہت، پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور دوسرے لوگوں سے ہوئی پوچھ گچھ اور ثبوتوں کے بعد یہ شک پختہ ہو گیا کہ سمجھوتہ دھماکے اور دوسرے دھماکوں سے کون کون لوگ جڑے ہوئے ہیں۔
جولائی 2010 میں سمجھوتہ دھماکےکی تحقیقات این آئی اے کے حوالے کر دی گئی جس نے اپنی جانچ پڑتال کے بعد آٹھ افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کیا۔
ان میں سے صرف چار لوگوں پر مقدمہ چلا – کمل چوہان، راجندر چودھری، لوکیش شرما اور اسیمانند۔ باقی ملزمان میں سے ایک سنیل جوشی کے دسمبر 2007 میں ہی قتل کر دیا گیا جبکہ تین دیگر رام چندر كلساگرا، سندیپ ڈانگے اور امت چوہان فرار ہوگئے۔
این آئی اے کی چارج شیٹ میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان آٹھ افراد نے ہندو مذہبی مقامات پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا بدلہ لینے کے لئے مسجدو اور مسلم آبادی والے علاقوں میں دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، ہتھیار چلانے اور دھماکے کرنے کی تربیت لی اور سازش کو انجام دیتے ہوئے سمجھوتہ ایکسپریس میں اٹیچی بم رکھے۔

اسیمانند نے جن کواین آئی اے نے نومبر 2010 میں گرفتار کیا تھا، دسمبر 2010 میں مجسٹریٹ کے سامنے اقبالیہ بیان دیا اور مالیگاؤں، مکہ مسجد، اجمیر شریف اور سمجھوتہ ایکسپریس، تمام میں شامل ہونے کی بات قبول کر لی۔کسی بھی ملزم کو اس طرح اتنی جلدی اپنے گناہوں کو قبول کر لینا حیرت انگیز تھا۔ لیکن کہا گیا کہ اسیمانند جیل میں مکہ دھماکے میں ہاتھ ہونے کے الزام میں پکڑے گئے کلیم نامی ایک معصوم نوجوان سے ملنے کے بعداداس ہوگئے اور انہوں نے ساراجرم قبول کرنے کا فیصلہ لے لیا۔
42 صفحات کے اس بیان میں اسیمانند نے کہا کہ بم کا جواب بم سے دینے کی پالیسی کے تحت یہ دھماکے کئے گئے تھے۔اسیمانند نے اس منصوبہ بندی میں بنیادی طور پر آر ایس ایس کے سینئر لیڈر اندریش کمار، سنیل جوشی، پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور دو دیگر یونین پروموشنل سندیپ ڈانگے اور رام چندر كلساگرا کے شامل ہونے کا دعوی کیا۔ایک ہی ماہ کے بعد اسیمانند کے وکیل نے عدالت میں دعوی کیا کہ این آئی اے نے یہ بیان دباؤ ڈال کر دلوایا ہے اور کچھ وقت بعد اسیمانند نے اپنا بیان واپس لے لیا۔
اسیمانند کے بیان واپس لینے کے بعد این آئی اے کا سارا کیس گواہوں اور ثبوتوں پر آ ٹکا تھا۔ این آئی اے کے پاس کیس سے منسلک کوئی پختہ ثبوت جیسے ٹیلیفون بات چیت کی ریکارڈنگ یا پیسوں کے لین دین کے کاغذات تو تھے نہیں کیونکہ، جیسا کہ اوپر بتایا، دھماکوں اور گرفتاری میں بہت بڑا گیپ ہو گیا تھا۔ جہاں تک گواہوں کی بات تھی تو پچاس سے زیادہ گواہ بعد کی تاریخوں میںمکر گئے۔

ویسے بھی 2014 میں مرکزی اقتدار تبدیل ہونے کے بعد ملزمان کو سزا دلانے میں این آئی اے کی دلچسپی ختم ہو گئی تھی۔ این آئی اے کی وکیل روہنی ساليان جون 2016 میں یہ اجاگر کر ہی چکی ہیں کہ کس طرح این آئی اے کے ایک افسر نے ان سے گزارش کی کہ وہ مالیگاؤں امور کے ملزمان کے تئیں نرم رویہ اپنائیں۔
مجسٹریٹ کے علاوہ اسیمانند نے ایک اور جگہ اپنے گناہ کو قبولا تھا – ایک صحافی کے سامنے۔ وہ بات چیت بھی ریکارڈہوئی تھی۔ حیرت ہے کہ کورٹ نے اس قبول نامے پر بالکل غور نہیں کیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گجرات فسادات میں سزایافتہ بابو بجرنگی کو ایک اسٹنگ ویڈیو میں اپنا گھناؤنے جرائم کا اعتراف کرنے کی وجہ سے ہی عمر قید کی سزا ہوئی ہے۔اسیمانند نے صحافی کو دیے گئے اس ٹیپ ریکارڈ انٹرویو میں ملک بھر میں ہوئے دھماکوں میں اپنی شمولیت کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گرد کارروائیوں میں آر ایس ایس کے بڑے رہنماؤں – موہن بھاگوت اور اندریش کمار کی کردار پر بھی کافی کچھ کہا ہے۔ اس کے بارے میں ہم تفصیل سے بات کریں گے کل اور پرسوں۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here