شر ی شری روی شنکر کو مصالحت کمیٹی کا رکن بنائے جانے پر مسلمانوں کے ایک طبقہ میں اضطراب ۔ سپریم کورٹ سے نظر ثانی کی اپیل

0
444

بابری مسجد ۔رام جنم بھومی تنازع کے حل کیلئے سپریم کورٹ نے جو سہ رکنی پینل تشکیل دیا ہے اس میں شری شری روی شنکر کی شمولیت پر مسلمان اتفاق نہیں کررہے ہیں دوسری طرف نرموہی اکھاڑہ نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیاہے ۔ عمومی طور پر مسلمانوں کی جانب سے کہاجارہاہے کہ شری شری روی شنکر اس سے پہلے واضح انداز میں جانبداری کا ثبوت پیش کرچکے ہیں ۔جب بھی انہوں نے ثالثی کی بات کی وہاں رام مندر کی تعمیر کی بات کی ۔گزشتہ سال ایک مرتبہ وہ مسلمانوں کو دھمکی بھی دے چکے ہیں کہ اگر اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر نہیں ہوگی تو ہندوستان اجودھیا بن جائے گا ۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے سری سری روی شنکر کو ثالثی پینل کا رکن بنائے جانے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوتا کہ کمیٹی میں غیر جانبدار افراد ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ سری سری روی شنکر ین پہلے بیان دیا تھا کہ اگر مسلم اجودھیا میں اپنا دعوی نہیں چھوڑتے تو ہندوستان بھی شام بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے انہیں ثالثی کمیٹی کارکن بنادیا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ اپنے پہلے کے بیانات سے خود کو الگ کرکے نئے سرے سے کام کریں گے۔

ممبئی کے معروف سماجی کارکن اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن مولانا محمود دریابادی اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھاہے کہ ”کیا روی شنکر کا موقف تبدیل ہوگیا ہے؟ سپریم کورٹ نے بابری مسجد معاملے میں ثالثی کے لئے تین رکنی بنچ مقرر کی ہے اس میں ایک نام روی شنکر کا بھی ہے ۔ کسی بھی معاملے میں ثالثی کے لئے ثالث کا غیر جانبدار اور خالی الذہن ہونا ضروری ہے، جبکہ اس سے پہلے متعدد مرتبہ روی شنکر مندر بنانے کی کوشیشیں کرچکے ہیں ایک مرتبہ ایک مشہور خطیب کو بھی کسی طرح ہموار کرکے اپنے موقف پر لاچکے تھے مگر عام مسلمانوں کی سخت مخالفت کی وجہ سے ان کو کامیابی نہیں ملی ۔ اس لئے ثالثوں میں روی شنکر کا نام باعث حیرت ہے! ممکن ہے روی شنکر نے سپریم کورٹ کو کسی طرح یہ یقین دلادیا ہو کہ اب ان کا موقف تبدیل ہوچکا ہے اور اب وہ غیر جانبدار رہیں گے! اب دیکھنا ہے مستقبل کے پردے سے کیا برآمد ہوتا ہے انتظار کیجئے۔
ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی قومی کنوینر ایس ڈی پی آئی نے بھی شری شری روی شنکر کو ثالث بنائے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فیس بک پر لکھاکہ شری شری روی شنکر ابھی ٹوئٹ کرکے یہ کہہ رہے ہیں کہ رام مندر تنازع صدیوں پرانا ہے ۔ یہی موقف آر ایس ایس جسے یہ شروع سے بڑھاوا دے رہے ہیں ۔اگر اب بھی شری شری روی شنکر کا یہی نظریہ ہے تو نتیجہ پتہ ہے ۔انہوں نے عدلیہ سے شری شری روی شنکر کے نام پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے ۔
معروف اسلامی اسکالر اورمرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ممبئی کے ڈائریکٹر مولانا برہان الدین قاسمی کا مانناہے کہ مسلمانوں کو اس مسئلے بورڈ کاساتھ دینا چاہئے ۔ایک جگہ تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ ”میرے خیال میں بہتر یہ ہے کہ اخباری بیانات بہت ہی غور و فکر کے بعد صرف سلجھے ہوئے لوگ جو بابری مسجد کیس کو سپریم کورٹ میں مستقل فالو کررہے ہیں وہی دیں. مصالحت سے مسئلہ حل ہوگا اس کی امید بہت کم ہے، باقی صرف اللہ ہی عالم الغائب ہے، لیکن ہم نے سپریم کورٹ کی بات مان کر ایک بڑا اور مثبت پیغام دے دیا ہے اس کا اثر ختم نہیں ہونا چاہیے. الیکشن تک کچھ بھی نا ہو اس کی کوشش ہونی چاہیے. شری شری اب مصالحتی پینل کا حصہ قرار دیے جا چکے ہیں اور اس وقت ان کی حمایت یا مخالفت نہ کرنا مفید ہوگا. ہم یہ کھ سکتے ہیں کہ جب کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے متعین ہے اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ غیر جانبدار ہی ہونگے. خالف بین ہم اور فرق جمعھم کے لئے دعا کے ساتھ ساتھ اپنے اسٹریٹجی میں کچھ تبدیلی کی گنجائش ہو تو کی جانی چاہیے۔
مولانا ابو طالب رحمانی نے ایک وہاٹس ایپ گروپ میں لکھا ہے ”نرموہی اکھاڑہ اور ہنومان گڑھی کیطرف سے ٹیریپل شری کی زبردست مخالفت ہورہی ہے اور انھیں یہ لوگ ثالث تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ویسے معزز سپریم کورٹ سے یہ درخواست تمام فریقوں کی جانب سے کی جانی چاہئیے کہ ایک ماہ کی مدت اور فیض آباد میں ہی بات چیت ہو اس پر نظر ثانی فرمائیں۔ کیونکہ دونوں طرف سے ۲۷ جماعتیں عدالت میں فریق ہیں ایک ایک جماعت سے کئی بار گفتگو کرنی ہوگی جسمیں کم از کم چھ ماہ کا وقت چاہئے۔
کانگریس کے سینئر رکن اور سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ثالثی کمیٹی تنازع پر ہندو اور مسلم فریقین کے درمیان خیر سگالی سے راستہ نکال سکے گی۔اجودھیا مسئلے پر ثالثی میں کسی کی جیت یا ہار کی بات نہیں ہے بلکہ اس میں جیت صرف ہندوستانیت اور ہندوستان کی ہوگی۔
کمیٹی کے لئے نامزد تینوں اراکین میں شامل روی شنکر نے کہا کہ اگر رام جنم بھومی معاملہ کسی ثالثی سے سلجھتا ہے تو یہ ملک کے بہت اچھا ہوگا۔ کمیٹی کے چےئرمین ایم کلیف اللہ نے کہا کہ کمیٹی معاملے کو خیر سگالی سے حل کرنے کی کوشش کرے گی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آج تین رکنی ثالثی کمیٹی قائم کی ہے۔ کمیٹی میں جسٹس کلیف اللہ اور سری سری روی شنکر کے علاوہ سینئر وکیل سری رام پنچو شامل ہیں۔ مسلمانوں کی جانب سے فریق آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ اور جمعیت علماءہند نے سپریم کورٹ کے فیصلہ سے اتفاق کرتے ہوئے مصالحت کمیٹی کو ہر ممکن تعاون دینے کی بات کی ہے ۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here