صـحافی پرشانـت كننوجـيا کی گرفـتاری بولنـے کـی آزادی پر براہ راسـت حملـہ ہـے؟

0
110

کمار تتھاگت
کہاوت ہے کہ گئے تھے نماز کو روزے گلے پڑے۔ یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ پر تمام طرح کے الزامات لگا کر ان کے گھر کے باہر ہنگامہ کاٹنے والی ایک خاتون کی خبر تو اہم ٹی وی چینلز ، اخباروں اور ویب سائٹس پر نہیں چلی لیکن یوپی پولیس کی ایک کارروائی نے اسے سب کی نظروں میں لا دیا ہے۔ الزام لگانے والی عورت کو ذہنی طور پر الجھا ہوا بتایا جا رہا ہے۔یوگی آدتیہ ناتھ کی وجہات خراب کرنے والی پوسٹ لکھنے اور ایک قابل اعتراض ویڈیو کا اشتراک کرنے کے الزام میں دہلی کے صحافی پرشان کننوجیا کو یوپی پولیس نے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔پرشانت كننوجيا نے چار جون کو وزیر اعلی کی رہائش گاہ پر ہنگامہ کرنے والی عورت کا ویڈیو کچھ قابل اعتراض جملوں کے ساتھ جوڑ کر اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے وائرل کیا تھا۔اسی کو بنیاد بناتے ہوئے یوپی میں حضرت گنج تھانے کی پولیس نے ایک مقدمہ لکھا اور آنا فانا میں پرشانت كننوجيا کو دہلی کے ونود نگر میں واقع ان کی رہائش گاہ سے جمعرات کو حراست میں لے لیا۔حضرت گنج پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 500 اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 66 کے تحت انوائس کاٹتے ہوئے پرشانت کو سنیچر کی رات کو جیل بھیج دیا۔
پرشانت كننوجيا کی گرفتاری کے بعد یہ مکمل مسئلہ اور بھی زور شور سے لوگوں کی نظروں میں آ گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے منصوبہ بند سازش کے تحت وزیر اعلی کو بدنام کرنے کی کوشش کی اور سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔پرشانت کو لے کر پولیس کی ایف آئی آر اور اس کی طرف سے جاری گڈورك متعلق پریس نوٹ میں بھی تضاد نظر آیا۔ ایف آئی آر میں جہاں تعزیرات ہند کی دفعہ 505 کا ذکر نہیں تھا ، وہیں پریس نوٹ میں اسے بھی لگایا گیا۔ حالانکہ دیر رات یوپی پولیس نے صاف کیا کہ بعد میں دفعہ 505 بھی شامل کر دی گئی ہے۔ ہفتہ دیر رات نوئیڈا پولیس نے معلومات دی کہ نیشن لائیو نیوز چینل پر نوئیڈا میں دو مقدمے درج کئے گئے ہیں۔ ایک مقدمہ ہتک عزت متعلق سیکشن 505، 502، 501 اور 153 میں جبکہ دوسرا فراڈ کے سلسلے میں دفعہ 419، 420، 467، 468 اور 471 کا درج کرتے ہوئے چینل ہیڈ اشكا سنگھ اور ایڈیٹر انوج شکلا کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چینل نیشن لائیو بغیر کسی اجازت کے دکھایا جا رہا تھا۔اس چینل پر اس معاملے کو لے کر مباحثے کا پروگرام کیا گیا تھا۔ابھی حیرت کی بات یہ ہے کہ جہاں اس پورے معاملے میں فی الحال کہیں نوکری نہ کرنے والے آزاد صحافی پرشانت كننوجيا اور ایک نسبتا کم نظر آنے والے چینل پر کارروائی کر دی گئی ہے ، وہیں ان تمام چینلز پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے جو واقعہ والے دن اکسا-اکسا کر مذکورہ عورت ہیما سکسینہ کی بائٹ لیتے رہے اور اس وہاٹسپ گروپوں میں وائرل کرتے رہے۔اتنا ہی نہیں ، راجدھانی لکھنؤ کے کئی میڈیا وہاٹس ایپ گروپوں میں بھی اس معاملے سے متعلقہ خبر چلائی گئی۔ پنجاب کیسری اخبار میں اس خبر کو شائع بھی کیا گیا اور مذکورہ اخبار کی ویب سائٹ کی خبر سے متعلق لنک اب بھی موجود ہے۔ اس واقعہ کو جہاں بیشتر اخبارات ، ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس نے معمولی اور غیر سنجیدہ سمجھتے ہوئے کوئی ترجیح نہیں دی تھی ، وہیں اب پولیس کی کارروائی کے بعد یہ واقعہ اور متعلقہ ویڈیوز تیزی سے وائرل ہونے لگا ہے۔
سوال اٹھ رہے ہیں کہ پرشانت كننوجيا کی ہرقت وزیر اعلی کی تصویر کو بدنام کرنے کی منصوبہ بند سازش تھی یا اسے آنا فانا میں گرفتار کر مجرموں کی طرح چھپا کر جیل بھیجنے کا واقعہ۔پرشانت کی گرفتاری کی خبر کے بعد یو ٹیوب پر موجود اس ویڈیو کو دیکھنے والوں کا سیلاب آگیا ہے۔ جن چھوٹے موٹے اخباروں اور چینلز میں اس خبر کو دکھایا گیا ، ان لنک اسٹاک کئے جا رہے ہیں۔ فیس بک پر گرفتاری اور پولس سلوک کی مذمت ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کی اس کارروائی نے بے وجہ معاملے کو خاصا طول دے دیا ہے۔ صحافی کی گرفتاری کے بعد جہاں پورے مسئلے پر احتجاج ہونے کی خبریں ہیں ، وہیں لوگوں میں بھی غصہ جھگڑا زوروں پر ہے۔ بی جے پی تنظیم سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی کا خاص نظر کے چکر میں کچھ لوگوں نے زیادہ ہی جوش دکھا دیا ہے اور پورے معاملے کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔فعال ہو گیا تھا حکومت کا طریقہ کار وزیراعلی کی رہائش گاہ کے باہر اس عورت کے پہنچنے اور اس میڈیا کو بائٹ دینے کے بعد سے ریاستی حکومت کو نوٹس محکمہ سمیت وزیر اعلی کے کچھ قریبی افسر فعال ہو گئے تھے۔ نہ صرف واقعہ سے متعلق ویڈیوز بائٹ منگائی گئی بلکہ جن وہاٹس ایپ گروپوں پر اسے چلایا گیا تھا ان کے اسکرین شاٹ بھی جمع کئے گئے۔ اب سوال اٹھتے ہیں کہ سارے ثبوت حکومت کے پاس موجود ہونے کے بعد بھی اکیلےپرشانت كننوجيا یا ایک نسبتا معمولی ويورشپ والے چینل کو کارروائی کے لئے کیوں منتخب کیا گیا۔ یہ سوال تب تو اور بھی موضوع ہو جاتا ہے جب خود چیف سکریٹری (معلومات) اس پورے معاملے کی نگرانی کر رہے تھے۔
(بشکریہ ستیہ ہندی )

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here