ماہِ صیام… مسلمانانِ عالم کی ثقافتی سرگرمیاں

0
125

زہد و تقویٰ سے قطع نظر، رمضان کا مبارک مہینہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لا کر اجتماعیت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہِ صیام میں رواداری، احساسِ قُربت اور ایثار کی مثالیں جا بہ جا دکھائی دیتی ہیں۔ نیز، کئی ممالک میں ثقافتی سرگرمیاں بھی دیکھنے میں آتی ہیں اور گلیوں کو برقی قمقموں سے سجا کر رمضان کا استقبال کیا جاتا ہے۔ گرچہ گلی کُوچوں میں لالٹین آویزاں کر کے استقبالِ رمضان کا آغاز مصر سے ہوا، لیکن آج کئی ممالک میں ماہِ صیام کے دوران گھروں، شاپنگ مالز، کاروباری مقامات اور مساجد کو قِندیلوں سمیت دیگر برقی قمقموں سے منوّر کرنے کا رواج عام ہے، جب کہ انڈونیشیا کے جاوا جزائر پر ماہِ رمضان کی تیاری کے سلسلے میں چشموں میں غسل کرنے کی روایت قائم ہے۔ پھر افطار ایک سماجی ملاپ کا انداز اختیار کر چُکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مختلف ہوٹلوں، ریستورانوں اور میدانوں میں افطار کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح لبنان کے دارالحکومت، بیروت میں افطار کے خصوصی کٹورے تیار کیے جاتے ہیں۔ ممبئی کی گلیوں میں سحری کے لیے اُٹھانے والے زور زور سے دروازے پر دستک دیتے اور آوازے لگاتے ہیں، جب کہ دہلی کی جامع مسجد کے گرد و نواح میں ’’رمضان واک‘‘ کا دل چسپ سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ رمضان کے مہینے میں بیش تر عرب ممالک کے باشندے بلا امتیازِ مذہب و ملّت دن میں کُھلے عام کھانے پینے سے گریز کرتے ہیں، جب کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارت اور قطر سمیت کئی عرب ممالک میں تو روزہ نہ رکھنے والے مسلمانوں کے دن میں کھانے پینے پر قانوناً پابندی عاید ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا بھی ہو سکتی ہے۔
محدود وقت کے لیے کھانا ترک کرنےکا جدید تصوّر
محدود وقت کے لیے کھانا پینا چھوڑ دینا ایک قدیم رواج ہے اور مختلف ادوار میں اس طریقۂ کارکو صحت کا راز قرار دیا گیا۔ محدود وقت کے لیے فاقہ کَشی کو Intermittent Fasting ( آئی ایف) کہا جاتا ہے اور یہ دُنیا کے مقبول صحت و تن دُرستی کے رجحانات میں سے ایک ہے۔ محدود وقت کی فاقہ کشی کے اس طریقۂ کار میں دِل چسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2000ء کے بعد اس کی آن لائن سرچ میں 10ہزار فی صد اضافہ دیکھا گیا۔ آج مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد وزن میں کمی، صحت کی بہتری اور اپنے طرزِ زندگی کو سادہ بنانے کے لیے اس طریقۂ کار پر عمل پیرا ہیں۔ آئی ایف کوئی ڈائٹنگ پلان نہیں ہے، بلکہ اس میں عام طور پر ہفتے میں ایک مرتبہ 16یا 24کا فاقہ کیا جاتا ہے۔ مقبول طریقۂ کار میں سرِفہرست ’’لینگینز پرٹوکول‘‘ ہے، جس میں ناشتا ترک کر دیا جاتا ہے ۔ 8گھنٹے تک کچھ نہیں کھایا جاتا اور اس کے بعد 16گھنٹے فاقہ کیا جاتا ہے۔ دوسرے طریقے میں ہفتے میں دو مرتبہ 24گھنٹے کی فاقہ کَشی کی جاتی ہے اور ایک ڈنر سے اگلے ڈنر تک کچھ نہیں کھایا جاتا۔ تیسرے طریقے میں مسلسل دو روز 500سے600کیلوریز لی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق آئی ایف سے زندگی میں سادگی آتی ہے اور تناؤ ختم ہو جاتا ہے۔
نیز، جب آپ بُھوکے رہتے ہیں، تو جسم زندگی کی طوالت کا راستہ تلاش کرتا ہے۔ 1945ء کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طریقۂ کار کو سب سے پہلے چوہوں پر آزمایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ زیادہ عرصے تک زندہ رہے۔ علاوہ ازیں، آئی ایف سے کینسر کے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں۔ کینسر کے 10مریضوں پر کی گئی تحقیق میں بتایا گیا کہ علاج سے قبل فاقہ کرنے سے کیمو تھراپی کے منفی اثرات میں کمی واقع ہوئی۔ اس طریقۂ کار سے کینسر کے خطرات اور دل کے امراض میں بھی کمی دیکھی گئی۔ ڈائٹنگ کی بہ جائے یہ وزن کم کرنے کا مناسب طریقہ ہے۔ آئی ایف کے دیگر فواید میں چربی میں کمی، خون میں موجود شکر کی سطح میں کمی، ذیابطیس ٹو سے ممکنہ بچاؤ، ذہنی صحت میں بہتری، جسمانی توانائی میں اضافہ، بلڈ کولیسٹرول میں بہتری اور الزائمر کے خطرات میں کمی شامل ہے۔n

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here