نعروں کی حقیقت سے دور ذاتی واد میں الجھی جمہوریت کی لڑائی

0
251

نعروں کی حقیقت سے دور ذاتی واد میں الجھی جمہوریت کی لڑائی
سنجے رائے
دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت کا دم بھرنے والے ہمارے ملک میں جمہوریت کی جڑیں کتنی گہری ہیں اس بات کا اندازہ انتخاب سے قبل کے دو مہینوں میں لگایا جا سکتا ہے۔ ساڑھے چار سال تک جو پارٹیاں ترقی کی باتیں اور بڑی بڑی ا سکیمیں اور اعدادوشمار دکھاتی رہتی ہیں انتخابات میں ذات مذہب-کل-قبیلہ اور میدان میں الجھكر رہ جاتی ہیں۔ امیدواروں کی قابلیت دھنبل اور بھجبل کی کسوٹی پر اكي جانے لگتی ہے اور امیدوار کے چہرے تلے جمہوریت کو سام-دام-سزا-امتیاز کے فرمولے سے لگانے کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ ملک کے میڈیا میں ذات مذہب کو لے کر سب سے زیادہ پنچنامہ اتر پردیش اور بہار کی سیاست کا کیا جاتا ہے، لیکن تقریبا ہر ریاست میں یہ کھیل اتنی ہی بے شرمی سے کھیلا جاتا ہے جتنا کہ اترپردیش-بہار میں۔
فیل-شاهو- امبیڈكري تحریک کی دہائی مہاراشٹر میں ہر لیڈر دیتا ہے اور ہر بات کے آغاز ترقی پسند مہاراشٹر (مراٹهی میں پروگامي مہاراشٹر) بول کر ہی کرتا ہے۔ رہنماؤں کے منہ سے یہ ترقی پسند خیالات ساڑھے چار سال تک غیر ارادی نکلتے رہتے ہیں لیکن جب انتخابات آتا ہے تو ذات شرم علاقہ-قبیلہ کے نئے نئے فرمولے بننے لگتے ہیں۔

دراصل مہاراشٹر میں بھی ذات پات کے مساوات اسی دور میں بننے شروع ہوگئے تھے جس دور میں كاشي رام دلتوں کو لے کر نئی نئی جماعتوں کی ساخت تیار کر رہے تھے یا اپنی سوشل انجینئرنگ گڑھ رہے تھے۔

مہاراشٹر میں یہ انجینئرنگ یونین کے رہنماؤں کی طرف سے گڑھی جا رہی تھی شاید اس وجہ سے اس پر میڈیا اتنا جارحانہ نہیں رہا یا بحث کا موضوع نہیں بنا۔ اس سوشل انجینئرنگ کے تار جڑے ہیں مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قیام کے دور سے۔ سال 1980 کے اس دور میں یہاں مادھو نامی ایک فارمولا بنایا گیا۔ اس مادھو کا مطلب مالی -دھنگر اور وجاري سماج سے ہے۔ اس دور میں کانگریس کی سیاست مکمل طور پر مراٹھا سماج کے ہاتھوں میں تھی۔ دلت تب سنگھ کو اس نظریہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن مانتے تھے، منڈل کمیشن کے پہلے او بی سی کی طرح کسی طبقے کا کوئی سوروپ مقرر نہیں تھا لہذا یونین نے ان قوموں کو مرکوز کر ‘مادھو کا تصور۔ مادھو کے سہارے بی جے پی نے مہاراشٹر میں اپنی سیاست شروع کی اور اسےبنجاری سماج سے گوپی ناتھ منڈے جیسا نوجوان کوقیادت بھی ملا۔ یونین کے اس فرمولے کو دیکھیں تو اس نے ملک میں او بی سی سیاست کی راگ کو مہاراشٹر میں ہی پکڑ لیا تھا جو آج ملک میں اس کے لئے مضبوط بنیاد ثابت ہوا اور اس مرکز کے اقتدار میں قائم کرا دیا۔

آج اسی او بی سی فرمولے کے تحت کانگریس بھی اپنی سیاست اسی پر مرکوز کر رہی ہے۔ لالو ملائم کا مسلم-یادو مساوات یا مایاوتی کی سنہری-دلت کی سوشل انجینئرنگ تو پورے پردیش کے حساب سے بنتی رہی ہیں، لیکن مہاراشٹر میں سوشل انجینئرنگ کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ اب وہ ہر لوک سبھا اور اسمبلی کے مطابق گڑھی جانے لگی ہیں۔ یہ لوکل فرمولے کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ مرکزی کابینہ کے سب سے بھاری رہنما، جو آج کل ممکنہ وزیر اعظم کے طور پر بھی خبروں میں چھائے رہتے ہیں، کی ناگپور لوک سبھا سیٹ پر بھی ایسا ہی ایک لوکل فارمولا بحث میں ہے۔نتن گڈکری کے خلاف ان کی ہی پارٹی کے گوديا سے ممبر پارلیمنٹ نانا پٹولے، جنہوں نے نریندر مودی سے ناراض ہو کر کانگریس میں داخل ہوئے، میدان میں ہیں۔

ناگپور میں دلت مسلم كنبي (DMK) پیٹرن بحث میں ہے۔ ناگپور سیٹ پر ان تینوں ذات کے ووٹروں کی تعداد بہت مؤثر ہے لہذا آنے والے دنوں میں گڈکری کو اس چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ لوکل فرمولے کافی مؤثر بھی ثابت ہوتے رہے ہیں۔ 1995 کے اسمبلی انتخابات میں لاتور اسمبلی حلقہ میں مراٹھا لیڈر ولاس راؤ دیشمکھ کے خلاف معمولی رے (مارواڑی مسلم-لگايت-ریڈی) فرمولے کا استعمال کیا گیا۔ مراٹھا لیڈر کے خلاف یہ تمام غیر مراٹھا قومیں جمع ہوئیں اور ولاس راؤ دیشمکھ کو شیواجی راؤ پاٹل کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسا ہی ایک فارمولا ہےواجوا ٹالي پلوا مالي (طالی بجاؤ -مالي دھکچکا) یہ نعرہ مراٹھا اور مالی معاشرے کے درمیان ایک تنازعہ کے طور پر بھی دیکھا جاتا رہا ہے۔
ناسک میں چھگن بھجبل کے خلاف اس کا کئی بار استعمال کیا گیا لیکن اس سے چھگن بھجبل کو نقصان کی بجائے فائدہ زیادہ ہوا اور آج وہ پورے مہاراشٹر میں مالی معاشرے کے سب سے زیادہ مؤثر رہنما ثابت ہوئے ہیں۔ سوابمانی کسانوں تنظیم کے رہنما راجو شیٹی کے خلاف بھی یہ نعرہ عام ہو چکا ہے۔ راجو شیٹی حالانکہ مالی سماج سے نہیں آتے لیکن وہ کسانوں کے لیڈر ہیں لہذا کاشت پر زیادہ انحصار رہنے والا مالی سوسائٹی ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ اس بار شرور لوک سبھا میں بھی یہ فارمولا بحث میں ہے کیونکہ نیشنلسٹ کانگریس نے یہاں سے مراٹهی فلم اداکار امول كولهے کو ٹکٹ دیا ہے۔ كولهے نے چھترپتی شیواجی مہاراج اور شبھوراجے پر سیریل بنائے ہیں جس کی وجہ سے ان کی مقبولیت مراٹھا سماج میں بھی کافی ہے۔ شیوسینا کے رہنماآڈھل راؤ پاٹل کی طرف سے پلیٹ فارم سے امول كولهے کو مالی ذات کا بتانے سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ انتخابی جنگ کو مالی بمقابلہ مراٹھا کرنا چاہتے ہیں۔

سب سے الگ نظارہ تو مہاتما گاندھی کی کرم بھومی وردھا میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کی سابق صدر پرتیبھا راؤ کی بیٹی چارلتا راؤ ٹوكس (كنبي سوسائٹی) کا مقابلہ بی جے پی رہنما رام داس تڈس (تیلی سوسائٹی) سے ہے۔ اس سیٹ پر دونوں ہی معاشرے کے ووٹروں کی تعداد برابر-برابر ہے۔ووٹ حاصل کرنے کے لئے دونوں ہی امیدوار اپنے اپنے معاشرے کے لوگوں کو مندروں میں لے جاکر حلف دلا رہے ہیں کہ وہ اپنی ہی ذات والے امیدوار کے ساتھ رہیں گے۔
بابا صاحب بھیم راؤ امبےڈكر جو آپ کی زندگی میںنسل پرستی کے خلاف کورٹ توڑ کا نعرہ دے کر جدوجہد کرتے رہے ان کے پوتے پرکاش امبیڈكر بھی مہاراشٹر میں نسلی فارمولا بنانے میں پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے ایسا ہی ایک مساوات اكولا میں بنایا ہے جو اكولا پیٹرن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس فرمولے سے وہاں سے ممبر پارلیمنٹ بھی چنے گئے اور دو تین رکن اسمبلی بھی جتائے۔ یہی نہیں مهانگرپالكا میں بھی اپنے اقتدار قائم۔اس بار انہوں نے اے ایم آئی ایم رہنما اسد الدین اویسی پر مشتمل مہاراشٹر میں دلت -مسلم (DM) مساوات بٹھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس مساوات میں وہ پسماندہ طبقے کی کچھ قوموں کو جوڑ کر ونچت اگھاڑي نام دے رہے ہیں۔ انہوں نے لوک سبھا کے لئے جب امیدواروں کی فہرست جاری کی تو ہر امیدوار کے نام کے آگے اس کی ذاتی لکھی ہوئی تھی۔ اس کے پیچھے یہ دلیل تھا کہ ہم سماج کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کس ذات کے لوگوں کو ہم کس تناسب میں نمائندگی دینا چاہتے ہیں۔بنجر سماج سے آنے والے گوپی ناتھ منڈے کے لوک سبھا علاقے بیڑ میں بھی اس بار جنگ وجاري خلاف مراٹھا ہے۔ اس سیٹ سے منڈے کی بیٹی پریتم الیکشن لڑ رہی ہیں۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here