نوابوں کے شہر لکھنؤ میں آج تک ووٹروں پر نہیں چلا فلمی ستاروں کا جادو کیا ہوگا پونم سنہا کا

0
222

اپوزیشن اتحاد نے نوابوں کے شہر لکھنؤ میں فلم سٹار اور کانگریس کے لیڈر شتروگھن سنہا کی بیوی اور تھٹر اداکارہ پونم سنہا کو میدان میں اتارا ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ لکھنؤ کے ووٹروں پر آج تک بالی ووڈ کے ستاروں کا جادو نہیں چل سکا ہے۔ لکھنؤ لوک سبھا سیٹ پر آخری 28 سالوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ہی قبضہ ہے۔ اب اس بار 2019 میں راج ناتھ سنگھ بی جے پی کے ٹکٹ پر پھر اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ ان کے سامنے ایس پی-بی ایس پی اتحاد نے پونم سنہا کو انتخابی دنگل میں اتارے جانے کا اعلان کیا ہے۔ فلمی دنیا کے مظفر علی ہوں یا مس انڈیا نفیس علی، فلم اداکار اور اس وقت یوپی کانگریس کے صدر راج ببر ہوں یا پچھلے چناؤ میں کھڑے ہوئے کامیڈین جاوید جعفری، تمام انتخابات ہار کر یہاں سے واپس جا چکے ہیں۔ وہیں لکھنؤ کی جڑوں سے جڑنے والوں کو شہر نے سر آنکھوں پر بٹھایا۔

اٹل کوسر آنکھوں پر بٹھایا سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اس کی مثال ہیں۔ گزشتہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات کی بات کریں تو عام آدمی پارٹی نے اداکار جاوید جعفری کو میدان میں اتارا تھا۔ بی جے پی کے راج ناتھ سنگھ کے سامنے جعفری نے سیاسی جڑیں جمانے کے لیے خاصی مشقت کی۔ ان کی حمایت میں کئی فلمی شخصیات نے پروموشنل بھی کیا لیکن لکھنؤ نے انہیں توجہ نہیں دی۔ جاوید کی ضمانت ضبط ہو گئی اور انہیں پانچویں مقام پر اکتفا کرنا پڑا۔

لال جی ٹنڈن کے سامنے ٹک نہ سکیںنفیس مس انڈیا رہیں نفیس علی کو بھلے ہی پورا ملک جانتا ہے۔ سلیبرٹي کا چمکتا تاج لے کر جب نفیس 2009 میں لکھنؤ سے ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے اتریں تو ان کے جلسوں میں خوب بھیڑ امنڈتی۔ انہوں نے شہر سے بہت وعدے کئے لیکن لکھنؤ کے عوام نے نفیس کےا سٹار بننے کے لیے اقتباس نہیں دیا۔ انہیں انتخابات میں چوتھے مقام سے اکتفا کرنا پڑا۔اٹل بہاری واجپئی کی كھڑاو ٔلے کر اترے بی جے پی کے لال جی ٹنڈن کے سامنے وہ کہیں بھی ٹک نہ سکیں اور ٹنڈن اس سیٹ سے کامیاب رہے۔
اٹل سے ہارے مظفر علی:’امرا ؤ جان اد‘ جیسی مشہور فلم بنانے والے اور كوٹوارا اسٹیٹ کے بادشاہت خاندان سے تعلق رکھنے والے مظفر علی جب سیاست کرنے اترے تو انہوں نے لکھنؤ کی زمین کو ہی کیا اور سماج وادی پارٹی کے پرچم تلے الیکشن لڑنے اترے۔ لیکن 1998 کے انتخابات میں اٹل کے مقابلے وہ دو لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے ہارے۔ فلم سٹار راج ببر بھی 1996 میں لکھنؤ میں سماج وادی پارٹی سے الیکشن لڑنے آئے تھے۔ لکھنؤ کے عوام ان کی ایک جھلک حاصل کو بے تاب رہتی تھی۔ وہ جہاں بھی ریلی کرنے جاتے تھے بھیڑ ٹوٹ پڑتی تھی۔ جب ووٹ پڑے تو ووٹروں نے انہیں بتا دیا کہ ان کو وہ لیڈر نہیں اداکار ہی زیادہ مانتےہیں۔ راج ببر سوا لاکھ ووٹوں سے ہار گئے تھے۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here