وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کا اعتراف نوٹ بندي کے بعد ملک میںبدعنوانی میں اضافہ

0
226

نئی دہلی(ایجنسیاں)
نرملا سیتا رمن نے پارلیمنٹ میں دیئے اپنے ایک جواب میں کہا کہ نومبر، 2016 کے بعد سے ملک میں نقدی کا سرکولیشن بڑھا ہے۔ 4 نومبر، 2016 کو ملک میں 17,174 بلین روپے کی نقدی سرکولیشن میں تھی۔ وہیں 29 مارچ، 2019 کو ملک میں 21,137 بلین روپے کی نقدی چلن میں ہے۔مودی حکومت کے گزشتہ دور میں نوٹ بندي کا اہم فیصلہ ہوا تھا، جس کی  چرچا دنیا بھر میں ہوئی تھی۔ اگرچہ اب  ملنے والی معلومات  کے مطابق، ملک میں نوٹ بندي کے بعد سے کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل  انفارمیٹکس سینٹر، جسے لوک سبھا سکریٹریٹ کی طرف سے  آٔپریٹ کیا جاتا ہے، اس نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ اتنا ہی نہیں بہار سے ممبر پارلیمنٹ رام پريت منڈل نے پارلیمنٹ میں اس بارے میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے سوال کیا تھا، جس کے جواب میں نرملا سیتا رمن نے بھی تسلیم کیا کہ ’’نوٹ بندي کے بعد سے ملک میں نقدی کا سرکولیشن بڑھا ہے۔ ‘‘۔وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ’’ نقدی کے سرکولیشن کا تعلق غیر قانونی سرگرمیوں سے ہے۔ ‘‘مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے پارلیمنٹ میں دیئے اپنے جواب میں کہا کہ نومبر، 2016 کے بعد سے ملک میں نقدی کا سرکولیشن بڑھا ہے۔ 4 نومبر، 2016 کو ملک میں 17,174 بلین روپے کی نقدی سرکولیشن میں تھی۔ وہیں 29 مارچ، 2019 کو ملک میں 21,137 بلین روپے کی نقدی چلن میں ہے۔’ اكنامك سروے 2016-17 واليوم- 1 ‘کے مطابق دنیا بھر میں نقدی کے چلن اور غیر قانونی سرگرمیوں میں تعلق ہے، جتنی زیادہ نقدی چلن میں ہوگی، اتنی ہی ملک میں بدعنوانی زیادہ ہوگی۔ خیال رہے کہ 8 نومبر، 2016 کو مرکز کی مودی حکومت نے ملک میں نوٹ بندي لاگو کر دی تھی۔ اس نوٹ بندي کے تحت ملک میں 500 اور 1000 روپے کے نوٹ بین کر دیئے گئے تھے۔’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ‘کی رپورٹ کے مطابق، بدعنوانی کے معاملہ میں دنیا کے 188 ممالک میں سے بھارت کا مقام 78 واں ہے۔ بھارت کو 41 پوائنٹس ملے ہیں، جو عالمی اوسط 43 پوائنٹس سے بھی کم ہیں۔ بھارت میں بدعنوانی مٹانے کے لئے سال 2011 میں انا ہزارے کی قیادت میں جن لوک پال ایکٹ پاس کرانے کی مہم شروع ہوئی۔ اس مہم کو لوگوں کی زبردست حمایت بھی ملی، لیکن یہ مہم بھی درمیان میں ہی دم توڑ گئی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی چیئرپرسن ڈیلیا فریرا روبیو کے مطابق، جن ممالک میں جمہوری ادارے کمزور ہوتے ہیں، ان ممالک میں بدعنوانی زیادہ دیکھی جاتی ہے۔

shahnawaz

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here