پی ایم جے اے وائی : ایک یوجنا جو اوپر سے جتنی امیدیں جگاتی ہے اندر سے اتنی ہی خدشات بھی پیدا کرتی ہے

0
149

 

پرديپکا سارسوت
23 ستمبر 2018 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے رانچی میں ايشمان بھارت منصوبہ بندی کے تحت پی ایم جے اے وائی – وزیر اعظم جن صحت کی منصوبہ بندی – لانچ کیا۔ اس کے تحت دوسری اور تیسری درجہ کے علاج کے لئے 10.7 کروڑ لوگوں کو سرکاری خرچ پر صحت کی انشورنس کی سہولت دی گئی ہے۔ پہلے سے چلی آ رہی ہے دو مرکزی سکیمیں – قومی صحت بیمہ اسکیم (آر ایس بی وائی) اور سینئر شہری صحت کی انشورنس کی منصوبہ بندی (ایچ سی ایچ آئی ایس ) کا اس اسکیم میں ضم کر دیا گیا ہے۔
نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کے ٹوئٹر ہینڈل پر ہر روزپی ایم جے اے وائی سے عوام کو مل رہے فوائد کے بارے میں تازہ معلومات دی جا رہی ہے۔ 14 اپریل کی اپ ڈیٹ کے مطابق اب تک کل 2.89 کروڑ ای کارڈ بن چکے ہیں اور 18.35 لاکھ لوگ اس اسکیم کا فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ سرسری طور پر دیکھنے پر یہ منصوبہ کافی فلاحی نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی کابینہ کے رکن اسے دنیا کے بہترین سرکاری صحت کی منصوبہ بندی کے طور پر پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔ لیکن اس کی منصوبہ بندی کی صحت سروس کے موجودہ ڈھانچے پر کیا اثر پڑنا ہے، اس پر توجہ دینے کی ضرورت عام انتخابات سے محض چھ ماہ پہلے کسی کو نظر نہیں آتی۔
کئی سینئر عہدوں پر کام کر چکے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر امیتابھ پانڈے اور مشہور ماہر اقتصادیات جیاں دریج جیسے کئی جانکاروزیر اعظم جن صحت کی منصوبہ بندی کو بھارت میں یونیورسل صحت کا خیال کو غیر اہم کر دینے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ امیتابھ کہتے ہیں کہ آج کے وقت میں بڑی آسانی سے صحت کی دیکھ بھال کو طبی خدمت کا مترادف بنا دیا گیا ہے، جو کہ غلط ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کا مقصد صحت مند زندگی کے لیے ضروری صاف ہوا، پانی، غذائیت وغیرہ ایسی سہولیات فراہم کرنا ہونا چاہئے جو ایک شہری کو بیماریوں، اور ڈاکٹر کے اوپر انحصار ہونے سے بچا سکیں۔پر ہم نے اس بات کو سرے سے الٹ دیا ہے۔ہم نے صحت کی دیکھ بھال کے لیے طبی خدمات کے مترادف بنا کر اس بات کا یقین ہے کہ بڑھتے ہوئے طبی بازار کی طلب کو پورا کرتے ہوئے نہ صرف زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مہنگے علاج کی ضرورت پڑے، بلکہ یہ ضرورت بڑھتی ہوئی دکھ رہی ہے. سرکاری پیسے کو ہمیں بیماری سے بچانے کے لئے نہیں، ہمیں بیمار بنادینے پر مجبور کرنے کے لئے خرچ کیا جا رہا ہے۔
پی ایم جے اے وائی پر تنقیدبجٹ میں صحت کو ملنے والے انتہائی کم اور محدود فنڈ کو لے کر بھی ہوئی ہے۔ لیکن امیتابھ پانڈے کے مطابق زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ منصوبہ بنیادی صحت سروس سے اعلی سطح کی خدمت کی طرف اور سرکاری صحت کی دیکھ بھال کی قیمت پر نجی طبی خدمات کو فروغ دینے جیسے سرکاری ترجیحات میں آئے تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبہ کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان بیماریوں کی تشخیص کے لئے بھی سپراسپیشلسٹ ہسپتالوں کا رخ کریں گے جن کے علاج بنیادی صحت مرکز پر ہی کیا جا سکتا تھا۔
ايشمان بھارت کے تحت بنیادی علاج کے لئے 1.50.000 صحت اور فلاح و بہبود کے مرکز کھولے جانے کی تجویز بھی ہے۔ 14 اپریل 2018 کو بیجاپور میں اس طرح کے پہلے صحت اور فلاح و بہبود کے مرکز کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا۔ امیتابھ پانڈے کی تنقید کے جواب میں ان کی توجہ اس جانب بھی مرکوز کی جاستکی ہے۔ لیکن اس وقت ہم اس موضوع پر جیاں دریج کی تشخیص بھی دیکھ سکتے ہیں جو بتاتی ہے کہ سال 2018-19 کے بجٹ میں ان مراکز کے لئے صرف 1.200 کروڑ روپے ہی دئے گئے ہیں۔ یعنی ہر مرکز کے حصے آئے کل 80.000 روپے۔ اتنے روپیوں سے پرانے صحت مراکز پر نیا رنگ کروانے اور ان کا نام تبدیل کرنے کے علاوہ اور کیا کیا جا سکتا ہے؟۔
اس کے علاوہ پی ایم جے اے وائی کی صحت کی انشورنس کے لئے اس مالی سال میں محض 2000 کروڑ روپے ہی مختص کئے گئے ہیں۔ یہ پیسہ نئی منصوبہ بندی میں ضم کر لی گئی پچھلی قومی صحت بیمہ اسکیم سے زیادہ ضرور ہے پر اتنا نہیں کہ اس سے 10 کروڑ خاندانوں (تقریبا 50 کروڑ لوگ) کے ایک چھوٹے سے حصے کو بھی صحت کی انشورنس فراہم کی جا سکے۔ اگر پانچ افراد کے ایک خاندان کو بنیادی ہیلتھ کارڈ فراہم کرنے کا خرچ صرف پانچ ہزار روپے ہی لگایا جائے تو اعداد و شمار 50.000 کروڑ روپے ہو جاتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اضافی 48.000 کروڑ روپے کس شے سے نکالے جائیں گے؟
اپنے مضمون میںجیاں دریج ذکرکر کرتے ہیں کہ پالیسی کمیشن کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں اس منصوبہ کا بجٹ 10.000 کروڑ روپے تک بڑھنے کی امید کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ بجٹ بھی منصوبہ بندی میں کئے گئے وعدے کے لحاظ سے انتہائی کم ہوگا۔ فی شخص کے حساب سے یہ صرف 200 روپے فی سال ہی ہوگا۔ ایسے میں، وہ کہتے ہیں کہ اس منصوبہ کو دنیا کی سب سے بڑی صحت کی منصوبہ بندی کا نام دینا درست نہیں ہے۔ فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد کی بنیاد پر اسے سب سے بڑی منصوبہ بندی ضرور کہا جا سکتا ہے لیکن فی شخص پر ہونے والے اخراجات کے لحاظ سے نہیں۔نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین نے بھی حال ہی میں کہا ہے کہ ايشمان بھارت جیسی ا سکیمیں صرف تعریف حاصل کرنے کے لئے بنائی جا رہی ہیں، اور وہ ضروری مسائل پر توجہ نہیں دیتیں۔
اس منصوبہ کے فائدے-نقصان کو عوام کی سطح پر سمجھنے کے لئے ستیہ گرہ نے ملک بھر میں کئی سرکاری-غیر سرکاری ڈاکٹروں سے بات کی۔ تمام ڈاکٹروں نے یہ مانا کہ اس طرح کی بڑی انشورنس کی منصوبہ بندی کی وجہ سے نجی شعبے کی صحت ڈھانچے پر دباؤ بڑھا ہے اور یہ آگے اور بھی بڑھنے والا ہے۔
ممبئی میں رہنے والے صحت کارکن ڈاکٹر سوهم ڈی بہادری یہ تو مانتے ہیں کہ اس اسکیم سے کمزور طبقے کے لوگوں کو بڑی اور خطرناک بیماریوں کے علاج میں مدد ملے گی، لیکن ان کی دوسری فکر چھوٹے اور سرکاری اسپتالوں کو لے کر ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ 5 لاکھ کا بڑا احاطہ لوگوں کو بڑے ہسپتالوں کی طرف جانے کی حوصلہ افزائی کرے گا کیونکہ ان کے پاس چھوٹے ہسپتالوں اور سرکاری صحت مراکز پر جانے کا کوئی جھنجھٹ نہیں ہوگا۔وہ کہتے ہیں کہ سرکاری اسپتالوں کو بہتر اور مسابقتی بنانے کے بجائے حکومت نجی ہسپتالوں کو دیہی علاقوں میں آنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، اس سے صحت کے علاقے میں سرکاری اداروں کی حالت اور خراب ہوگی۔

اس منصوبہ بندی کے لئے حکومت کی طرف سے طے کئے گئے بیماریوں کے علاج کے پیکجوں کی قیمت نجی ہسپتالوں کے اپنے پیکج سے کم ہے۔ ایسے میں منافع کو مرکز میں رکھ کر کام کرنے والا نجی شعبے اس نقصان کی بھرپائی دیگر ذرائع سے کر سکتا ہے۔ یہ نہ صرف غیر قانونی اور غیر ضروری سرگرمیوں کو فروغ دے سکتا ہے، بلکہ اپنی گاڑھی کمائی کے پیسے سے انشورنس خریدنے والے لوگوں کے لئے ان کی قیمت بڑھا سکتا ہے۔
اسے تھوڑا سا واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر سوهم بھدوری کہتے ہیں،اب تک نجی ہسپتالوں سے دور رہے لوگوں کی بھیڑ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بڑھے گی تو ان ہسپتالوں کے منافع کم ہوں گے۔ اس کی تلافی پی ایم جے اے وائی سے باہر کی انشورنس کی منصوبہ بندی سے کی جائے گی جو اس کے چلتے اور مہنگی ہوتی جائیں گی۔ ہو سکتا ہے کہ ان وجوہات سے پی ایم جے اے وائی کےمریض کو سب سے کم توجہ ملنے لگے۔ اس حالت میں قیمتوں اور طریقوں پر چیک رکھنے کے لئے ایک کامل ریگولیٹری ڈھانچے کی ضرورت ہو گی۔ڈاکٹر بھدوری یاد دہانی کراتے ہیں کہ جنوبی کوریا میں قومی ہیلتھ انشورنس کو ایسی صورت حال کی وجہ سے صحت کی خدمات کی بڑھی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
چھتیس گڑھ میں پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر راکیش گپتا پسماندہ علاقوں میں ہسپتالوں اور بچولیوں کی ایک نئی کارگزاری کی طرف ہماری توجہ کھینچتے ہوئے کہتے ہیں،اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ یہ سہولت لوگوں کے بھلے کے لئے ہے، اس وقت بھی اس کا فائدہ ان سب لوگوں تک نہیں پہنچ رہا ہے جو اب تک دوسرے اور تیسرے درجے کی طبی سے محروم رہے ہیں۔ جس قبائلی کے لوگ ہسپتال سےدورتھے، وہ دور ہی رہے کچھ لوگ جو وہاں پہنچتے بھی ہیں، وہ بروکرز کے ذریعہ ان میں پہنچتے ہیں اور پہلے ہی انہیں پیسہ دے چکے ہوتے ہیں۔ اسپتال پہنچنے پر انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کا علاج مکمل طور نقدہین نہیں ہوگا بلکہ انہیں اس کارڈ کے چلتے مقرر سے کم قیمت ادا کرنا گا۔ پیکیج ریٹ کم ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں بچی ہوئی قیمت پیشنٹ سے وصول کر رہے ہیں، جو کہ غیر قانونی ہے۔
ڈاکٹر راکیش گپتا آگے بتاتے ہیں کہ چھتیس گڑھ میں آر ایس وائی ایس(قومی صحت کی انشورنس کی منصوبہ بندی) کے وقت پبلک سیکٹر کی انشورنس کمپنیوں – نیو انڈیا انشورنس اور یونائیٹڈ انڈیا انشورنس – نے اس منصوبہ کو چلایا۔بعد میں جب علاج پر ہونے والا کل خرچ ان کمپنیوں کو ملنے والے کل پریمیم سے زیادہ ہونے لگے تواسپتالوں کو ادائیگی تاخیر سے ملنے لگی، کئی بار رجیکٹ بھی ہونے لگا۔ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اور انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے درمیان رسہ کشی بھی بڑھ گئی۔ ابھی ايشمان منصوبہ بندی کے کچھ پیکیج آر ایس وائی ایس جیسے ہی ہیں تو کئی پیکیج کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے 40 فیصد تک کم ہے۔ ایک تو پچھلا کافی ادائیگی پینڈگ پر تھا اور پھر اب اتنے کم پیکج ریٹ، تو یہاں تقریبا دو ماہ تک ايشمان منصوبہ بندی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ دسمبر میں جب کانگریس کی حکومت آئی، تو انہوں نے کہا کہ ہم اس کی منصوبہ بندی کی جگہ نئی منصوبہ بندی شروع کریں گے، پر وہ بھی ممکن نہیں تھا، کیونکہ ايشمان بھارت کے تحت انشورنس کمپنی ریلیگیرسے ایم او یو ہو چکا تھا، اور اب چاہے کام ہو یا نہ ہو، کمپنی کو پریمیم مل جائےگاوہیں جنوری کے بعد سے ہسپتال اس منصوبہ کے مریضوں کو لے تو رہے ہیں پر کارڈ کا استعمال نقدہین نہیں، سبسڈی کارڈ کی طرح ہی ہو رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار کچھ بھی دیں، پر چھتیس گڑھ میں یہ منصوبہ بندی فیل ہو گئی ہے۔
اس منصوبہ کے تحت صرف 50.000 روپے کا ہی علاج ايشمان کارڈ پر کیا جا سکتا ہے، اس سے اوپر کی قیمت والے پیکیج کے لئے ہسپتال کو علاج شروع کرنے سے پہلے نوڈل ایجنسی سے اجازت لینی ہوتی ہے جس میں 12 سے 24 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ ڈاکٹر راکیش بتاتے ہیں کہ ایسے میں سنگین مریض کے رشتہ دار الزام لگاتے ہیں کہ کارڈ ہونے کے باوجود آپ کو علاج کیوں شروع نہیں کر رہے ہیں. ایک اور آخری بات ڈاکٹر راکیش یہ کہتے ہیں کہ اس اسکیم کا توجہ بنیادی صحت پر نہ ہوکر صرف ہسپتال میں داخل ہونے پر ہی ہے، جو کسی لحاظ سے صحیح نہیں ہے۔
اتراکھنڈ کے ایک نجی ہسپتال میں کام کر رہے ڈاکٹر تشار پٹيال، ايشمان منصوبہ کی وجہ سے کمی نجی ہسپتالوں کے منافع کو لے کر ایک اور خدشہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے میں بہت ممکن ہے کہ ہسپتال سے کم ملازمین کو رکھے اور آپ ڈاکٹروں سے ضرورت سے زیادہ کام لے۔اسی ہسپتال کے ہی ایک ڈاکٹر نام نہ لینے کی شرط پر کہتے ہیں کہپی ایم جے اے وائی کی وجہ سے ٹرشري ڈگری والے ڈاکٹروں کے لئے نجی ہسپتالوں میں جگہ بڑھے گی، جبکہ صرف ایم بی بی ایس کی ڈگری والے ڈاکٹروں کے پاس سرکاری اسپتالوں کا رخ کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہوگا۔پی ایم جے اے وائی کی وجہ سے پہلے ہی نظرانداز سرکاری اسپتالوں کے پاس بہتر ڈاکٹر نہیں رہیں گے۔
پیکیج ریٹ کے مسئلے پر یہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ان کے کم اور یقینی ہونے کی وجہ سے بہت سے مریضوں کو صحیح علاج بھی نہیں مل پا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، وہ بتاتے ہیں کہ پیٹ کے ایک آپریشن کی قیمت کی منصوبہ بندی میں 22000 رکھی گئی ہے پھر چاہے آپریشن نئےطریقے سے ہو یا پرانے طریقے سے۔ کیونکہ لےپروسكوپي میں خرچہ زیادہ آتا ہے تو ڈاکٹر پرانے طریقے سے آپریشن کر دیں گے.آر ایس بی وائی میں اپگریڈیشن کی سہولت تھی، جو اس کی منصوبہ بندی میں نہیں ہے۔
لیکن وزیر اعظم جنوری صحت کی منصوبہ بندی کو دیکھنے کی صرف یہی ایک نظریہ نہیں ہے۔ لکھنؤ سے ڈاکٹر سكندشکلا کہتے ہیں کہ جب بڑے سطح پر طبی تعلیم کی نجکاری ہو چکا ہے تو طبی خدمات کا بھی ہوگا ہی۔ صحت علاقے کا کوئی بھی ماڈل کو ادائیگی کے لئے بیمے کا استعمال کرتا ہے، وہ قیمتیں بھی ضرور بڑھائے گا۔ ناروے میں کام کر رہے بھارتی ڈاکٹر پروین جھا کا خیال ہے کہ طبی کی نجکاری قسمت ہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ سیکنڈری اور ٹرشري طبی خدمات کی ذمہ داری نجی شعبے کے کندھوں پر آ جانے کے بعد اب اگر حکومتیں چاہیں تو بنیادی صحت کی جانب اپنا مکمل توجہ دے سکتی ہیں۔
لیکن پھر بھی زیادہ تر ماہر مانتے ہیں کہ یہ منصوبہ ان لوگوں کے اخراجات بڑھانے والی ہے جو اپنے پیسے سے صحت کی انشورنس خریدتے ہیں۔ ایمس میں ملازم ڈاکٹر امنديپ سنگھ کہتے ہیں کہ یہ طے ہے کہ ہسپتال ان منافع کما کر منصوبہ بندی کی وجہ سے ملنے والے کم ادائیگی کی تلافی کریں گے۔ وہ ایک تجویز بھی دیتے ہیں کہ ایوش صحت کی خدمات یعنی آیور ویدک، یوگ اور نیچروپیتھي، یونانی، سدھ اورہمیوپیتی کو اس منصوبہ بندی کا حصہ بنانے سے ذیابیطس، تھايرڈ، پيسيوڈي جیسے ایسے بیماریوں کے مریضوں کو راحت مل سکتی ہے جن میں عام حالت میں ہسپتال میں بھرتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here