چینی سرزمین مسلمانوں پر تنگ، جبراًمذہب تبدیل کرانے کی روش تیز

0
459

بیجنگ(جے جے پی نیوز) چین میں مسلمانوں پر زمین تنگ کیے جانے کا انکشاف،مسلمانوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جانے لگا۔برطانوی نشریاتی ادارے نے ایک تحقیقی رپورٹ سیریز میں انکشاف کیا ہے کہ چین کے صوبہ سنکیانگ میں حالیہ دنوں میں منظر عام پر آنے والے ری ایجوکیشن سنٹرز میں دس لاکھ سے زائد اویغور مسلمانوں پر انکے مذہب سے منحرف ہونے کی ترغیب دی جا رہی ہے جس میں ذہنی اور جسمانی تشدد کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی سیریز میں فرضی ناموں کے ساتھ ان جوڑوں کی دکھ بھری داستانیں بیان کی جا رہی ہیں جو چین میں صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر شدید مصائب میں مبتلا ہو گئے اور بہت سی بیویاں ری ایجو کیشن سینٹرز میں ہیں جہاں انہیں مذہبی جبر کے ساتھ ساتھ جسمانی اور ذہنی طور پر ہراسگی اور تشدد کا شکار بنایا جا تا ہے، چینی حکام کو بھنک پڑے کہ فلاں رہائشی مسلمان ہے تو وہ فوری طور پر آ دھمکتے ہیں اور بیوی کو ساتھ لے جاتے ہیں، ایسے ہی ایک خاوند نے بتایا کہ اس کے نماز جمعہ کی ادائیگی سے بھید کھل گیا اور اب دو سال سے اسکی بیوی چینی قید میں ہے ۔

چین میں کاروبار کرنے والے متعدد پاکستانیوں نے حکومت پاکستان سے درخواست کی ہے کہ چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں ری ایجوکیشن سنٹرز میں قید ان کی بیویوں کی رہائی کے لیے چینی حکومت سے سفارتی سطح پر رابطہ کیا جائے،اسلام آباد میں دفتر خارجہ اور بیجنگ میں پاکستانی سفیر کے نام اپنی درخواستوں میں ان پاکستانی شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ ان کی چینی شہری بیویوں کو وجہ بتائے بغیر سنکیانگ کے مختلف علاقوں میں قائم ری ایجوکیشن سنٹرز میں رکھا گیا ہے۔ان درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ یہ چینی مسلمان خواتین پچھلے دو برسوں کے دوران زبردستی ان مراکز میں بند ہیں اور ان کی سفری دستاویزات بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here