کون ہے اپنا کون پرایا!

0
114

انسان کی زندگی میں بُرا وقت اپنے اور پرائے کی پہچان کرانے کے لئے آتا ہے، چاہے وہ بُرا وقت کسی انسان کا ہو یا قوموں کا، مخلصین و منافقین کی پہچان کروا ہی جاتا ہے۔ ساتھ ہی اپنے پیچھے مستقبل کے لئے ایک نیا سبق چھوڑ جاتا ہے، تاکہ انسان اپنے , پرائے میں فرق کرنا سیکھ جائے، لیکن یہ ہم پہ منحصر ہے کہ ہم نے اس سبق سے کیا سیکھا اور کیا بھلادیا …..

ٹھیک اسی طرح NRC اور CAB جیسی تعصبانہ و ظالمانہ بل نے ہر چہرے کو بےنقاب کردیا، کئی اجنبیوں میں اخلاص، مخلصی جھلکی ہے تو دوسری طرف اپنوں میں دوغلہ پن و منافقت کھُل کر سامنے آئی اور یہ وقت مسلمانوں کے لئے آزمائشوں بھرا ہے عقل، شعور، صبر و استقامت کا امتحان ہے جس میں ہر عام و خواص کو چاہئیے کہ وہ خود ثابت قدم رہیں … کیونکہ ملک کے موجودہ حالات ایک نئی تاریخ رقم کرنے والے ہیں اس لئے فیصلہ ہمیں کرنا ہوگا کہ ہم سہنری سیاہی سے لکھی گئی تاریخ میں خود کو دیکھنا چاہیں گے یا سیاہ تاریخ میں اپنا مستقبل و آنے والی نسلوں کو غرق کرنا پسند کریں گے؟

یاد رہے ! آج ملک جس دوراہے پہ کھڑا ہے، یقین جانیں یہ بیحد خوفناک ہے اس خوف، ظلم و بربریت سے نکلنے کے خاطر ہم مسلمانانِ ہند کو اپنی آخری سانس تک لڑنا ہوگا لیکن آج کی یہ لڑائی محض روٹی، کپڑا، مکان یا جان کی نہیں ہوگی بلکہ یہ لڑائی تو اپنے وجود، اپنی بقاء، مستقبل میں اپنی آنے والی نسلوں کے حقوق، اُن کے تحفظ و وقار کی لڑائی ہوگی جو کسی ایک یا دو کو نہیں لڑنی ہے بلکہ ہر مرد، عورت، بزرگ یہاں تک کہ معصوم بچوں کو بھی لڑنی ہے ……

بیشک یہ وقت مسلمانانِ ہند پہ کسی گرہن سے کم نہیں ہے، لیکن اللہ سبحان تعالیٰ پہ یقین رکھیں یہ گرہن بھی جلد ختم ہوگا اور نئی کرنوں کے ساتھ نیا سویرا ہمارا پرجوش استقبال کرے گا …. بشرطیکہ 16 کروڑ آبادی والی مسلم قوم کو 65 کروڑ اقلیتی طبقات کے ساتھ جڑ کر ملک گیر سطح پہ NRC اور CAB جیسی غیر آئینی و مذہبی تعصب پہ بنی بل کی مخالفت میں پرزور احتجاجات کرنے ہونگے , ملک بھر میں ایک نئی تحریک چلانی ہوگی تاکہ حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تاناشاہ حکمران اور اُس کے پیادوں کو ہندوستان کا حقیقی آئینہ دکھایا جائے، یہاں کی گنگا جمنا تہذیب کے رنگوں کو جوڑ کر اِندر دھنوش بنایا جائے تاکہ پورے ملک میں انقلاب برپا ہو اور ہمارے آگے ایک نیا خوشحال، امن و امان، بھائی چارگی والا ہندوستان آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہو …. لیکن یہ تبھی ممکن ہوگا جب ہم اور آپ مل کر ایمانداری کے ساتھ اپنے حقوق اپنے وجود کی لڑائی لڑیں گے ….. پھر ان شاء اللہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایسا مک چھوڑ جائینگے جو جاہل بی جے پی سے پاک، دہشتگرد آر ایس ایس سے پاک، نام نہاد مسلم قیادت سے پاک اور ہر اُس دوغلے شخص سے پاک ہوگا جو آج سیکولرزم کا چولہ پہنے منافقت کررہا ہے، ملک کی آب و ہوا میں نفرت کا زہر گھول رہا ہے ….. جس میں چند ہمارے اپنے مسلم بھائی بھی شامل ہیں جنہوں نے قوم کے نام پہ پہلے تو بھولے بھالے مسلمانوں کے ووٹ حاصل کئے اور اب جب قوم کو ان کی اشدد ضرورت ہے تو یہ اپنی نظریں چرارہے ہیں، اپنا دامن بچارہے ہیں اور یہ ہمارے لئے بیحد شرم و افسوس کی بات ہے کہ نتیش کمار کی پارٹی کے سیکولر مسلمان خالد انور نے ان مشکل حالات میں مظلوم اقلیتی طبقات و قوم کے آگے اپنی پارٹی کو فوقیت دیتے ہوئے این آر سی کے متعلق کچھ بھی کہنے یا کرنے سے منع کردیا ہے …..

دراصل ان لوگوں کے اندر گرگٹ کی فطرت، سانپ کا زہر پایا جاتا ہے جو وقت اور حالات کے ساتھ اپنا رنگ بدلتے ہوئے اپنوں ہی کو ڈستے ہیں، جو لباس اور جوتوں کی طرح اپنی زبانیں، نیتیں، ارادے اور دوست بدلتے ہیں، آج ہمیں ان دوغلے انسانوں سے خود کو بچائے رکھنا ہوگا …. کیونکہ مومن وہی ہے جو ایک سوراخ سے دو مرتبہ ڈسا نہیں جاتا ….

ویسے بھی آج چند لوگ دوبارہ قیادت کا دم بھرتے ہوئے بلوں سے اپنا سر نکال رہے ہیں، ان سے ہوشیار رہیں, یہ وہیں ہیں جن کی کل تک امت شاہ سے ملاقاتیں عروج پر تھیں، پہلے کانگریس پھر بھاجپائیوں سے گہرا دوستانہ تھا اور ان کی ایک آواز پہ لبیک کہتے ہوئے جنیوا پہنچ کر عالمی میڈیا کے آگے کشمیر 370 جیسے ظالمانہ فیصلے کی تائید کی, پھر بھاجپا کے چانکیہ کے ساتھ بیٹھ کر NRC کی حمایت کرتے ہوئے آسام کی طرح پورے ملک میں این آر سی نافذ کرنے کی تجویز پیش کردی اور جب اتنے سے دل نہ بھرا تو نیشنل میڈیا پر بات کرتے ہوئے چھوٹے صاف لفظوں میں یہ تک کہہ دیا کہ اگر کوئی ہندو غیر ملک سے ہندوستان آیا ہے تو حکومت کو چاہئیے اُسے ہندوستانی شہریت دے دے، لیکن اگر کسی بھی ملک سے کوئی مسلمان ہندوستان آیا ہے تو اسے ہم مسلمان ہندوستان میں قبول کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں؛ کوئی بھی مسلمان اپنا ملک چھوڑ کر میرے ملک میں کیوں آئے گا ؟ مجھے ہرگز قبول نہیں، مجھے کوئی بھی مسلمان نہیں چاہئیے، اگر کوئی مسلمان گھُس بیٹھیا بن کر آیا ہے تو اسے ہم سب کو مل کر نکالنا چاہئے، باہر ملک کا کوئی بھی مسلمان ہمیں ہندوستان میں نہیں چاہئیے ……

یہ تکبر، گھمنڈ تپاک بھرے الفاظ انہیں چھوٹے مدنی جی کے ہیں جو آج ایک دم سے پلٹی کھاتے ہوئے اپنی جانب سے لیٹر پیڈ جاری کرکے این آر سی کو خطرناک بتاتے ہوئے مسلمانوں و ہندوستانی آئین کے خلاف بتارہے ہیں …. جبکہ ملک کے مسلمانوں کو این آر سی کی آگ میں جھونکنے والے بھی ایک حد تک یہی تھے لیکن آج خود این آر سی کے خلاف 13 دسمبر کو احتجاجی مظاہروں کو انعقاد کرنے کی اپیل کررہے ہیں جبکہ 11 دسمبر کو بل راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا، ایسے میں 13 دسمبر کو ہاتھ میں پلے کارڈ اور بازو میں کالا بیلٹ باندھوا کر آخر یہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ؟

کہیں یہ سانپ بھی مرجائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے والا کھیل تو نہیں کھیل رہے ؟ یا دکنی کہاوت کی طرح مار کو ملتے نی ملیدے کو چُکتے والا کونسیپٹ تو نہیں اپنا رہے؟

جس سے یہ سرکار سے بھی بچ جائیں اور مسلمانوں کی نظر میں ہیرو بن کر شہرت کے لڈو بھی نگل جائیں …..

شاید محترم یہ بھول چکے ہیں کہ مسلمانوں کو آج بھی اگلے، پچھلے، خفیہ، اعلانیہ بیانات بخوبی یاد ہیں، کس کے چلتے مسلمان ان جناب کو دیر آئے درست آئے کہنے سے بھی گھبرا رہے ہیں یہ سوچ کر کہ ناجانے پھر کب ان کے اندر امت شاہ کی محبت جاگ جائے، جانے کب دوبارہ انہیں جینیوا سے بلاوا آجائے اور کب ان کے اندر این آر سی سے اپنائیت و مسلمانوں سے اجنبیت والی روح بیدار ہوجائے ……

کیونکہ کل جنیوا تک جانے والے، امت شاہ سے ملاقات کرنے والے، انٹرویو کے ذریعہ این آر سی کی حمایت کرنے والے، مسلمانوں کو ہندوستان میں برداشت نہ کرنے کی بات کہنے والے چھوٹے مدنی جی پہ مسلمان آخر یقین کریں بھی تو کیوں ؟

ویسے بھی الحمدللہ آج پورا ہندوستان ایک پلاٹ فارم پہ اکٹھا ہورہا ہے، چاہے وہ AIUDF کے قومی صدر، رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل صاحب ہوں یا ایم آئی ایم صدر و رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی صاحب اور دیگر کئی جماعتیں، تنظیمیں اور قابل احترام علما و اکابرین کے ساتھ مل کر ملک بھر میں NRC ، CAB مخالف احتجاجات کئے جارہے ہیں کیا ہندو کیا مسلمان سبھی اس بل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہین، ہندوستانیوں کے علاوہ دنیا بھر میں اس بل کی مخالفت کی جارہی ہے, آفشیل خبروں کے مطابق امریکی پینل نے NRC کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار بتایا اور دی وائر کی رپورٹ کے مطابق ( USCIRF ) نامی آرگنائزیشن نے بھی یہ الزام لگایا ہے NRC اقلیتی طبقات خاص کر مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کا ہتھیار ہے, یہاں تک کہ حال ہی میں ” 1000 سے زیادہ سائنس دان اور اسکالرز نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے آن لائن مہم پر دستخط کرکے آواز اٹھائی ہے اور کہا ہے کہ یہ بل ہندوستانی آئین کی خلاف ورزی ہے , اس کے علاوہ اروندتی رائے جیسی 60 نامور شخصیات اور ہندوستان کے ایک بڑے سیکولر طبقے نے بھی سوشیل میڈیا سے لے کر سڑکوں تک اس بل کی مخالفت کررہے ہیں ….. بوڑھے بچے، جوان ہر کوئی اس بل کے خلاف غصہ کا اظہار کررہے، ایسے میں ان کا اپنے بیانات سے پلٹی کھانا، اپنے رنگ ڈھنگ، تیور میں تبدیلی لانا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ سمندر میں غرق ہوتے وقت کی گئ فرعون کی توبہ بھی رد کردی گئی تھی …. اس لئے بہتر ہے محترم اپنے عالیشان بنگلو میں آرام فرمائیں، مہنگی بی ایم ڈبلیو میں بیٹھ کر جنیوا کی سیر کریں اور قوم کو اُس کے حال پہ چھوڑ دیں ان شاءاللہ اب وہ مفلوج، اپاہج نہیں بنے گی …

کیونکہ جب مسلمانوں کو آپ کا ساتھ چاہئیے تھا تو اُس وقت آپ نے انہیں تنہا کردیا ان سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور آج جب آپ ساتھ کی بات کررہے ہیں لیکن مسلمانوں کو آپ کے ساتھ کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ مسلمان جان گیا ہے جو مظلوم کشمیریوں کے نہ ہوئے، اُمت مسلمہ کہ نہ ہوئے وہ کبھی کسی کے سگے نہیں ہوسکتے …..

آج بیشک ہمارا محب وطن چاروں اور سے نفرت کی آگ میں گھرا ہوا ہے لیکن اس گلشن کی چڑیاں ابھی زندہ ہیں ان شاء اللہ یہ اپنی ننھی سی چونچ اور پنکھوں ہی کے ذریعہ ملک میں ایسا سیلاب لائیں گی جو ہر نفرت ظلم و زیادتیوں کو بہا دے گا ….. لیکن کبھی اُس انسان کو قبول نہیں کریں گے جنہونے مظلوم, بےسہارا مسلمانوں کو برداشت نہ کرنے کی بات کہی ہو, انہیں ملک کے باہر نکال پھینکنے کی بات کہی ہو ….. ہمیں اپنے گلشن میں ان جیسے ہاتھیوں کی ہرگز ضرورت نہیں جو اپنے دبدبے و رسوخ کے بل پہ معصوم پھولوں کو روندھتے ہوئے چلیں، جو دشمن کی لگائی ہوئی ہلکی سی آنچ محسوس کرکے گھبراکر الٹے پیر بھاگ جائیں ….. بیشک آج تک قوم نے ہر قدم پہ آپ کا ساتھ دیا ہے…..

آپ کے کئی ناز و نخرے برداشت کئے ہیں، من مانیاں سہی ہیں …. مگر اب نہیں کیونکہ کون ہے اپنا کون پرایا آج وقت نے بتادیا ہے، اس لئے اب آپ تو رہنے ہی دیجئے ویسے بھی بڑی دیر کردی ہے حضور آتے آتے ……..

 

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here