کیاکانگریس غداری وطن قانون کے نام پر قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے؟

0
167

محمد شاہد
فروری 2019، ضلع کھنڈوا، کانگریس حکمراں مدھیہ پردیش کی پولیس نے گائے ہتھیا کے معاملے میں تین لوگوں کے خلاف قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کیا۔جنوری 2019، ضلع بلند شہر، بی جے پی حکومت اترپردیش کی پولیس نے بلند شہر تشدد کیس میں تین لوگوں کے خلاف قومی سلامتی قانون لگایا۔جنوری 2019، میں ہی جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار کے خلاف دہلی پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا۔سال 2012 میں یو پی اے حکومت کے دوران کارٹونسٹ اسیم ترویدی کو غداری کی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا۔اب اسی یو پی اے اتحاد کے سب سے بڑی پارٹی کانگریس نے منگل کو جاری کردہ اپنے منشور میں یہ وعدہ کیا ہے کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کے بعد اس کی حکومت بنتی ہے تو وہ غداری کی دفعہ 124 اے کو ختم کر دے گی۔اس کے ساتھ ہی کانگریس کا وعدہ ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کو اضافی اختیارات دینے والے آرمڈ پھرسیذ اسپیشل پاور ایکٹ یعنی افسپا اور بغیر ٹرائل کے حراست میں لئے جانے والے این ایس اے قانون میں بھی تبدیلی کرے گی۔کانگریس نے یہ وعدہ ہی کیا تھا کہ حکمراں بی جے پی نے اس کی تنقید شروع کر دی اور اسے قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ بتایاہے۔
وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس پر یہ تک کہہ دیا کہ اس منشور کو ڈرافٹ کرنے والے کانگریس صدر کے وہ دوست ہیں جو ٹکڑے ٹکڑے گینگ میں ہیں۔کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی حکومتوں کے وقت ان قوانین کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن حال ہی میں دیکھا گیا کہ اس قانون کے تحت کئی معاملے درج کئے گئے۔نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق صرف 2014 میں غداری کے کل 47 معاملے درج ہوئے جن میں 58 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ وہیں 2014 کی طرف سے 2016 کے درمیان آرٹیکل 124 اے کے تحت 179 افراد کو گرفتار کیا گیا۔آرٹیکل 124 اے کے تحت اگر کوئی بھی شخص حکومت مخالف مواد لکھتا ہے یا بولتا ہے یا پھر اس طرح کے مواد کی حمایت بھی کرتا ہے تو اسے عمر قید یا تین سال کی سزا ہو سکتی ہے۔
برطانوی راج کے وقت اس کا استعمال مہاتما گاندھی کے خلاف تک کیا گیا تھا۔ اس پر مارچ 1922 میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ قانون لوگوں کی آزادی کو دبانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کو 1980 میں لایا گیا تھا۔ یہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو ایسی طاقتیں دیتا ہے جس کے تحت متحدہ مفاد میں کسی بھی شخص کو بغیر اطلاع حراست میں لیا جا سکتا ہے۔اس قانون میں بغیر مقدمے کی سماعت کے کسی شخص کو ایک سال تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں منی پور کے ٹی وی صحافی كشورچندر وانگ کھیم کو این ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ان پر الزام تھا کہ انہوں نے وزیر اعلی این. بيرن سنگھ کی تنقید کا ایک ویڈیو فیس بک پر پوسٹ کیا تھا۔آرمڈپھرسیزذ اسپیشل پاور ایکٹ یعنی افسپا قانون فوج اور نیم فوجی دستوں کو ایسی طاقتیں دیتا ہے جس کے تحت وہ کسی کو بھی حراست میں لے سکتے ہیں اور ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے لئے وہ کسی کریمنل کورٹ میں جوابدہ بھی نہیں ہوں گے۔افسپا کسی علاقے میں لاگو کرنے کے لئے اس کا ہنگامہ خیز اعلان ہونا ضروری ہے۔ جموں و کشمیر سمیت یہ قانون شمال مشرقی ریاستوں کے کئی علاقوں میںنافذ ہے۔ 2015 میں تریپورہ سے یہ قانون ہٹا دیا گیا تھا۔
قانون ختم کرنےکا کتنا حق؟
این ایس اے، غداری اور افسپا جیسے قوانین کا غلط استعمال کئے جانے کی باتیں ہمیشہ سے اٹھتی رہی ہیں۔ مختلف حکومتوں پر اپنے فائدہ کے لئے ان قوانین کا استعمال کرنے کے الزام لگے ہیں۔کانگریس کے اس وعدے کے ساتھ ان قوانین پر پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔ تو کیا ان غداری اور این ایس اے جیسے قوانین کو ختم کرنا ہی بہتر انتخاب ہے؟اس سوال پر انسٹی ٹیوٹ فار كنفلكیٹ مینجمنٹ کے اےگذكيٹو ڈائریکٹر اجے ساہنی کہتے ہیں کہ قانون ختم کرنا اختیار نہیں ہے کیونکہ کسی بھی قانون کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے قوانین میں ان کا غلط استعمال کرنے والوں کے لئے سزا کا قانون ہونا چاہئے۔اجے ساہنی کہتے ہیں، “کچھ ہنگامہ خیز علاقے اور لوگ ایسے ہوتے ہیں جن پر آپ کو فوری طور کارروائی نہیں کر سکتے ہیں۔ ایسے میں این ایس اے جیسا قانون بہت ضروری ہے کیونکہ یہ عارضی طور پر اختیارات دیتا ہے۔ آپ ان کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔غداری جیسے قانون کا حال میں کافی استعمال کیا گیا ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مبینہ بھارت مخالف نعروں سے لے کر گوهتيا کے ملزمان پر یہ لگایا گیا۔اس قانون کے ناجائز طریقے سے استعمال پر اجے ساہنی کہتے ہیں کہ یہ غداری قانون کی تعریف آج تک صاف طور سے واضح نہیں ہے اور دیکھا گیا ہے کہ اس میں آج تک جو بھی معاملے درج ہوئے ہیں، وہ طویل كھچتے چلے جاتے ہیں اور ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔قوانین کے سیاسی استعمال پر وہ کہتے ہیں کہ غداری قانون کا حکومت کے ناقدین کے خلاف سیاسی استعمال زیادہ ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے، “دنیا بھر کے رجحانات اگر دیکھیں تو جمہوری ممالک میں غداری قانون ہٹائے جا رہے ہیں۔ اس قانون پر بہت وقت سے اتفاق بنتی نظر آرہی ہے کہ اسے ہٹا دیا جائے۔غداری قانون برطانوی راج کے وقت لایا گیا تھا۔ اسے 1837 میں برطانوی مؤرخ اور سیاستدان تھامس میکالے نے ڈرافٹ کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت اس قانون پر اب عمل کر رہا ہے جبکہ برطانیہ میں یہ کب کا ختم کر دیا گیا ہے۔سہارنپور میں دلتوں اور اعلی ذات کے درمیان تشدد کے بعد بھیم آرمی کے چیف چندرشیکھر آزاد کو 2017 میں این ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ بغیر کوئی سنوائی کے بارے چھ ماہ تک جیل میں رہے۔اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے بعد انہیں ضمانت دی گئی تھی۔ چندر شیکھر کا کیس لڑنے والے اور انسانی حقوق کارکن کولن گنذالوس کہتے ہیں کہ اگر کانگریس پارٹی نے غداری اور این ایس اے جیسے قانون میں تبدیلی کی بات کی ہے تو یہ خوش آئند ہے۔کولن کہتے ہیں، “یہ خوشی کی بات ہے لیکن میں سیاستدانوں کی بات پر یقین نہیں کرتا۔ این ایس اے سے اگر وہ غلط رزق ہٹاتے ہیں تو یہ لوگوں کے لئے اچھا ہی ہوگا لیکن اس ملک میں این ایس اے اور غداری دونوں ہی قوانین کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔”
وہ کہتے ہیں، “ان قوانین کا خاص کر استعمال مخالف کارکنوں کے خلاف کیا گیا۔ چندرشیکھر کے خلاف پہلی بار بہت ایف آئی آر ہوئی اور اس میں بھی براہ راست این ایس اے لگا دیا گیا۔ ان قوانین کا غلط استعمال ہی ہو رہا ہے جسے ختم کر دینا چاہئے۔
اگرچہ، افسپا جیسے قانون پر اجے ساہنی اور کولن کے خیال مختلف ہیں۔ اجے ساہنی کہتے ہیں کہ افسپا میں کوئی ایسی چیز نہیں لکھی ہے کہ فوج کو کوئی غلط کام کرنے کی اجازت ہے۔
وہ کہتے ہیں، “یہاں پر بھی قانون کے استعمال کا سوال ہے۔ فوجی افسران کے خلاف تحقیقات کو لے کر ہمیشہ سوال اٹھتے ہیں کہ ان کے محکمہ کی اجازت کے بغیر تحقیقات نہیں ہو سکتی۔ ایسے قانون ہر سرکاری محکمہ میں ہیں جہاں کی اجازت کے بغیر انکوائری نہیں ہو سکتی۔اجے ساہنی کہتے ہیں کہ اگر افسپا قانون سے کچھ غلط ہو رہا ہے تو وہ اس کو کرنے والا ذمہ دار ہے، اس قانون میں کوئی خامی نہیں ہے۔وہیں، کولن کہتے ہیں کہ جس قانون میں کوئی شک کے بغیر کسی کو بھی گولی مار کرنے کی اجازت ہو، ویسا قانون ختم کر دیا جانا چاہئے۔سال 2019 کے آغاز سے لے کر اب تک بہت سے لوگوں پر بغاوت اور این ایس اے کے معاملے درج کئے جانے کے معاملے سامنے آ چکے ہیں۔ جن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 14 طلباء سمیت ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ ہیرین گوہین اور تری کی اے این ایف پی لیڈر جگدیش دیب ببرما جیسے لیڈر شامل ہیں۔مودی حکومت کے دوران درج ہوئے کئی غداری کے مقدمات کو کانگریس پارٹی نے مسئلہ ضرور بنایا ہے۔ وہیں، مودی حکومت کانگریس کو ملک کی سلامتی سے کھلواڑ کرنے والا بتا رہی ہے۔قومی سلامتی کے نام پر زندہ یہ قانون کب ختم یا تبدیل ہوتے ہیں یہ تو صحیح صحیح کوئی نہیں بتا سکتا۔

llllll

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here