کیا بے روزگاری بی جے پی کی مشکل بڑھا سکتی ہے

0
143

نئی دہلی (ایجنسی)اگر معیشت اور بے روزگاری کے مسئلے پر ووٹ ڈالے گئے تو وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کو بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ دوبارہ وزیر اعظم نہ بنیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مودی 11 اپریل کو ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات سے ٹھیک پہلے اپنی حکومت کی کامیابیوں کی جگہ قوم پرستی، پلوامہ حملے کے بعد ہوئی سرجیکل اسٹرائیک اور ہندو مسلم تنازعہ کو مسئلہ بنانے کی جی توڑ کوشش کر رہے ہیں۔
سی ایس ڈی ایس-لوک نیتی-دی ہندو-ترنگا ٹی وی-دینک بھاسکر کے انتخابات سے قبل سروے میں یہ بات بالکل صاف ابھر کر آئی ہے کہ بے روزگاری کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس سروے سے یہ صاف ہے کہ روزگار دینے کے مسئلے پر مودی حکومت کا رپورٹ کارڈ منموہن سنگھ سرکار کے رپورٹ کارڈ کے مقابلے میں انتہائی خراب ہے۔ 24 مارچ سے 31 مارچ کے درمیان 19 ریاستوں میں کئے گئے اس سروے میں یہ حقیقت ابھر کرسامنے آیا ہے کہ 47 فیصد لوگ یہ مانتے ہیں کہ گزشتہ تین چار برسوںں میں کام پانا مشکل ہو گیا ہے۔ 18 سے 35 سال کی عمر والوں کے درمیان یہ اعدادوشمار 50 فیصد ہے، جبکہ کالج سے پڑھ کر نکلے نوجوانوں میں یہ بحران اوربھی بڑا ہے۔ اس طبقے کے درمیان تقریباً 53 فیصد لوگ یہ مانتے ہیں کہ کام پانا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
شمالی ہند میں اگر 46 فیصد لوگ یہ کہتے ہیں کہ کام پانا مشکل ہو گیا ہے تو مشرق میں بھی 46 فیصد لوگ بے روزگاری کا شکار ہیں۔ جبکہ جنوب میں 44 فیصد، مغرب اور مشرقی ہندوستان میں 51 فیصد لوگ بے روزگاری سے پریشان ہیں۔ ان اعداد و شمار سے صاف ہے کہ کالج سے پڑھ کر نکلے نوجوانوں ک کیلئے نوکری کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ لیکن مودی حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ بے روزگاری کوئی مسئلہ بھی ہے۔
خیال رہے کہ 2014 لوک سبھا انتخابات کے وقت مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر سال 2 کروڑ لوگوں کو روزگار دیں گے۔ اس کے برعکس حالیہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ بے روزگاری گزشتہ 45 سال میں اونچے مقام پر ہے۔مودی حکومت این ایس ایس او اور سی ایم آئی ای جیسے مستند اداروں کے بے روزگاری کے اعداد و شمار کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ وزیر اعظم مودی جہاں پکوڑے بنانے کو بھی روزگار سے شامل کررہے ہیں تو ان کے دوسرے وزیر بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں کہ گزشتہ پانچ سال میں کئی کروڑ روزگار پیدا کئے گئے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا بے روزگاری کی یہ مسئلہ مودی جی کے گلے کی ہڈی بنے گی؟
سی ایس ڈی ایس-لوک نیتی-دی ہندو-ترنگا ٹی وی-دینک بھاسکر کا سروے معیشت کے حالات کا بھی اچھی تصویرنہیں پیش کرتا۔ صرف 34 فیصد لوگ یہ مانتے ہیں کہ معیشت بہتر پوزیشن میں ہے۔ جبکہ 58 فیصد لوگ معیشت کی صورت حال سے بہت زیادہ مطمئن نہیں ہیں۔ 58 فیصد میں 33 فیصد لوگوں نے کہا کہ معیشت بس ایسے ہی چل رہی ہے، جبکہ 25 فیصد لوگوں نے کہا کہ معیشت کی حالت خراب ہوئی ہے۔
زرعی بحران میں، لیکن بی جے پی نہیں
گزشتہ پانچ برسوں میں کھیتی کسانی کا مسئلہ بھی بہت تیزی سے اوپر آیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے مندسور میں پولیس کی فائرنگ سے تحریک چلا رہے چھ کسانوں کی موت ہوئی تھی۔ کئی بار ملک کے دوسرے حصوں سے دہلی آکر کسانوں نے اپنا غصہ کے اظہار کیا تھااور دھرنے پر بیٹھے۔ مہاراشٹر کے کسان پدیاترا کرکے ممبئی پہنچ کر اپنی مانگ کی آواز اٹھائی۔ لیکن سی ایس ڈی ایس کا یہ سروے بڑا افسوسناک اعدادوشمار پیش کرتا ہے۔ سروے میں یہ بات نکل کر سامنے آئی کہ کسان واقعی میں تکلیف میں ہیں، لیکن اس کی وجہ سے وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کو بہت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
حکومت میں آنے سے پہلے ہی وزیر اعظم مودی نے’سب کا ساتھ اور سب کا وکاس‘ کا نعرہ دیا تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں اس مسئلے پر ان کی جم کر تنقید ہوئی اور یہ الزام بھی لگا کہ ان کی حکومت اقلیتی طبقے کی پرواہ نہیں کرتی۔ اس سروے میں جب مختلف مذاہب کے لوگوں سے پوچھا گیا کہ کیا واقعی مودی حکومت سب کی ترقی کر رہی ہے تو اعداد بہت چونکانے والے نہیں دکھائی دیئے۔ جہاں ہندو سماج کے لوگ مودی حکومت کی رائے سے متفق نظر آئے وہیں اقلیتی طبقہ سمجھتا ہے کہ مودی کے ترقیاتی ماڈل سب کو ساتھ لے کر نہیں چلتا۔ ہندوؤں میں ذات برادری کے حوالہ سےلوگ سب سے زیادہ مطمئن نظر آئے۔ 55 فیصد لوگوں کی رائے ہے کہ مودی سب کو ساتھ لے ترقی کر رہے ہیں۔ جبکہ پچھڑوں میں یہ اعدادوشمار 49 فیصد، دلتوں میں 41 فیصد اور قبائلیوں میں 32 فیصد ہے۔ صرف 33 فیصد مسلمان مانتے ہیں کہ مودی حکومت سب کی ترقی کر رہی ہے جبکہ عیسائیوں میں یہ اعدادوشمار 26 اور سکھوں میں 14 فیصد ہے۔ایسا نہیں ہے کہ بے روزگاری کی دقت ہندوستان کے کسی ایک علاقے میں ہے، شمال سے لے کر جنوب اور مشرق سے لے کر مغرب، سب جگہ بے روزگاری ایک بڑا سر درد بن گئی ہے۔سروے کے اعداد و شمار کہتے ہیں کہ جو کسان اپنی حالت زار کے لئے مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ان میں سے 41 فیصد اس حق میں ہیں کہ مودی حکومت دوبارہ اقتدار میں آئے۔ جبکہ 47 فیصد اس رائے میں ہیں کہ انہیں دوبارہ موقع نہیں ملنا چاہئے۔llllll

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here