کیا وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں امت شاہ؟

0
158

آشوتوش

امت شاہ نے کیا اپنے آپ کو مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے؟ کیا وہ اپنے آپ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے جانشین کے طور پر دیکھتے ہیں؟ کیا وہ یہ مانتے ہیں کہ مودی کے بعد وہ پارٹی کے سربراہ ہوں گے؟ ویسے تو یہ سوال کافی دنوں سےہلکے انداز میں اٹھ رہے تھے پر جب سے وہ راجیہ سبھا کے رکن بنے ہیں، تب سے یہ سوال کافی تیزی سے قیاس آرائی میں تبدیل ہو گئے۔ اب ان قیاس آرائی کو تیزی دی ہے گاندھی نگر سے انکے الیکشن لڑنے کی خبر نے۔
امت شاہ پہلے ہی جب راجیہ سبھا کے رکن ہیں تو پھر وہ لوک سبھا کا انتخاب کیوں لڑ رہے ہیں؟ ان الیکشن لڑنے کا کچھ تو سبب بنا ہوگا۔ وہ پارٹی کے صدر ہیں۔ پورے ملک میں پارٹی کو انتخاب لڑانا، اس کے نٹ بولٹ کسنا ان کی ذمہ داری ہو گی۔ ایسے میں گاندھی نگر سے الیکشن لڑنے سے کیا ان کا دھیان نہیں بٹےگا؟
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امت شاہ، مودی کے سب سے بھروسے مند لیڈر ہیں. ملک میں آج کی تاریخ میں انہیں مودی کے بعد سب سے طاقتور انسان سمجھا جاتا ہے۔ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں بعض صورتوں میں وہ مودی سے کم نہیں ہے۔ پارٹی میں سینئر ہو یا جونیئر کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ ان کی بات کاٹ دے۔ کوئی افسر ان کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔.
راج ناتھ سنگھ ہوں یا نتن گڈکری، تمام امت شاہ کا لوہا مانتے ہیں۔ شاہ، مرکز کی حکومت میں کسی بھی عہدے پر نہیں ہیں لیکن حکومت کے کسی بھی کابینہ وزیر سے زیادہ ان کا چلتا ہے۔

کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا فون آجائے تو وزیر کانپ اٹھتے ہیں۔ کسے پارٹی کی طرف سے ٹکٹ دینا ہے یا نہیں دینا ہے، یہ یا تو وہ طے کرتے ہیں یا پھر وزیر اعظم مودی۔
یہاں تک کہ وزراء کو کون سا محکمہ ملے یا نہ ملے یا کس سیکشن سے تبادلہ ہو، یہ بھی امت شاہ کی مرضی سے طے ہوتا ہے، ایسی بحث صحافی چٹخارے لے کر سناتے ہیں۔ ایسے میں شاہ اگر آگے کا خواب دیکھتے ہیں تو اس میں برا کیا ہے؟
آج کے امت شاہ کو دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ وہی شخص ہیں جو 2014 کے پہلے تک گمنامی کے اندھیرے میں تھے۔وہ گجرات نہیں جا سکتے تھے۔وہ دہلی میں واقع گجرات بھون میں گردش کے دن کاٹ رہے تھے۔
سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر کیس میں سپریم کورٹ نے شاہ کو گجرات سے تڑی پار کر رکھا تھا۔ دہلی میں چھوٹے بڑے بی جے پی لیڈر انہیںکوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ خبر تو یہاں تک ہے کہ کچھ چھوٹے چھوٹے لیڈران سے ملنے کے لئے وقت نہیں دیتے تھے یا ملنے سے پہلے انتظار کروایا کرتے تھے۔

امت شاہ کی قسمت اچانک بدل گئی جب 2013 میں نریندر مودی کو بی جے پی نے وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بنا دیا۔ مودی ان پر کافی بھروسہ کرتے تھے۔ مودی یہ جانتے تھے کہ بغیر یوپی جیتے وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھنا غلط ہوگا۔ راج ناتھ سنگھ تب پارٹی کے صدر تھے.۔راجناتھ یوپی سے آتے ہیں.۔مودی نے راج ناتھ سے کہا کہ وہ امت شاہ کو یوپی بی جے پی کا انچارج بنا دیں۔ راج ناتھ سنگھ نے یہی کیا۔ امت شاہ کی قسمت کا تالا کھل گیا.۔مودی کو بنارس سے لڑانے کا فیصلہ شاہ کا ہی تھا۔ ساتھ ہی چھوٹی چھوٹی برادریوںکے تنظیموں سے اتحاد کرنے کی ان کی حکمت عملی بھی کارگر ثابت ہوئی۔
· امت شاہ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انتخابات لڑانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ یوپی جاتے ہی وہ سمجھ گئے کہ ذات پات مساوات بٹھائے بغیر بی جے پی کا جیتنا مشکل ہوگا۔جاٹوووٹ مکمل طور پر بی ایس پی کے ساتھ تھا اور سماج وادی پارٹی کے پاس صریح یادو ووٹ تھے۔
امت شاہ کو لگا کہ اگر سماج وادی پارٹی سے او بی سی میں غیر یادو ووٹ اور بی ایس پی سے دلتوں میں غیر جاٹ ووٹ کو وہ اپنی طرف کھینچ پائے تو یوپی کی جنگ آسان ہو جائے گی۔ اس سمت میں انہوں نے کام کرنا شروع کیا۔ اپنی پارٹی اور اوم پرکاش راج بھر کی سہل دیو ہندوستانی سماج پارٹی کو اپنی طرف کر لیا۔ شاكي، کشواہا، كاچھي، نشاد جیسی پارٹیوں کواپنے طرف راغب کرنا شروع کیا. نتیجہ سب کے سامنے تھا۔
مودی کے کرشمے اور امت شاہ کی تنظیم صلاحیت نے یوپی میں چمتکار کر دیا۔ بی جے پی 80 میں سے اتحاد کے ساتھی اپنی پارٹی کے ساتھ 73 سیٹوں پر قبضہ جمانے میں کامیاب رہی۔ اور مودی کو دہلی کے تخت پر بٹھانے میں یوپی نے بڑا کردار ادا کیا۔
امت شاہ کے لئے یوپی کے نتیجے نعمت بن کر آئے. مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعد امت شاہ کو انعام حاصل ہو اور راج ناتھ سنگھ کے وزیر داخلہ بننے کے بعد ان کوپارٹی صدر کی کرسی سونپ دی۔
گجرات میں مودی کے ساتھ طویل وقت تک کام کرنے کا شاہ کو فائدہ ہوا۔ اور کچھ ہی دنوں میں یہ صاف ہو گیا کہ امت شاہ اور مودی کی جوڑی ہی ملک کو چلائے گی۔ہوا بھی یہی. امت شاہ کی قیادت میں بی جے پی نے بیس سے زیادہ ریاستوں میں حکومت بنائی یا حکومت شیئر کی۔
بی جے پی کے بارے میں کہا جانے لگا کہ جہاں جہاں امت شاہ کی نظر پڑتی ہے، وہاں-وہاں بی جے پی کا جھنڈا بلند ہو جاتا ہے۔ شیکھر گپتا جیسے سینئر صحافی نے لکھا کہ امت شاہ بی جے پی کی تاریخ کے سب سے طاقتور صدر ہیں اور ان کا موازنہ کانگریس کے کے كامراج سےکیا۔ كامراج کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وزیر اعظم بناتے تھے۔ نہروکے انتقال کے بعد لال بہادر شاستری اور فقیہ کے بعد اندرا گاندھی کو وزیر اعظم بنوانے میں انکا بے حد اہم کردار تھا۔
امت شاہ کا جلوہ اتنا بڑھابڑے وزیر ان سے ملنے کو ترسنے لگے۔ دہلی کے بڑے بڑے ایڈیٹر ان سے ملاقات کر خود کو فخر محسوس کرنے لگے۔ ان کے خلاف لکھنے کی ہمت یا یوں کہیں کہ ان پر تنقید کرنے کی ہمت اکا دکا صحافی ہی کر پائے۔ ٹی وی کے صحافی تو ان سے مل کر اپنی زندگی بہتر بنانے لگے۔
آہستہ آہستہ یہ صاف ہو گیا کہ مودی حکومت میں کابینہ وزراء کا کوئی معنی نہیں رہ گیا ہے۔ تمام مودی امت شاہ کے ہاتھ کی كٹھ پتليا ںہیں۔ لہذا، دہلی کے تخت پر گجرات کے دو کمپنیاں کا قبضہ ہو گیا اور باقی لیڈر ٹوہ لیتے رہ گئے۔

ایسے میں اگر امت شاہ 2024 کے لئے خواب بناتے رہے ہیں تو اس میں برا کیا ہے؟ گجرات میں وہ مودی کی کابینہ میں وزیر داخلہ تھے۔ اور ان کی ویسے ہی طوطی بولتی تھی جیسے کہ اس وقت دہلی میں بولتی ہے۔ وہ مودی کے آنکھ، کان، ناک تھے۔ اس دوران ان پر سہراب الدین شیخ، اس کی بیوی اور ساتھی تلسی پرجاپتی کا فرضی انکاؤنٹر کروانے کا الزام لگا۔ سپریم کورٹ کے دخل کے بعد انہیں جیل بھی جانا پڑا اور گجرات سے تڑی پار بھی ہوئے۔
مودی حکومت بننے کے بعد سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر کیس میں شاہ کو سی بی آئی کورٹ سے کلین چٹ مل گئی۔ معاملے کی سماعت کر رہے ایک جج لويا کی مشتبہ موت میں پھر ان کا نام کھل پر سپریم کورٹ سے وہ پھر نجات پا گئے۔

·
سی بی آئی کورٹ کے فیصلے کو آگے چیلنج نہ دینے کا سی بی آئی کا فیصلہ راز کے کور میں ہے۔ اونچی عدالت میں فیصلے کو چیلنج کرنا تھا پر وہ نہیں ہوا۔ لہذا، امت شاہ سارے معاملات سے بری ہیں۔
امت شاہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ چانکیہ کو اپنا پیارا گرو مانتے ہیں۔ ان کے گھر میں چانکیہ کی تصویر ٹنگی رہتی ہے۔ چانکیہ کی طرح ہی مقصد لگانے کے لئے سام-دام-سزا-تمیز استعمال کرنے میں شاہ قطعی نہیں ہچکچاتے۔ شاہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ذریعہ مناسب ہے یا نامناسب۔ اقتدار پانا ان سب سے بڑا مقصد ہے۔
امت شاہ کے صدر رہتے ہوئے بی جے پی نہ صرف ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی بلکہ الیکشن لڑنے والی ایسی مشین میں تبدیل ہو گئی جسے ہرانا 2017 تک تقریبا ناممکن مانا جانے لگا۔
لیکن 2018 میں بی جے پی کرناٹک میں حکومت نہیں بنا سکی، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں وہ اپنی حکومتیں گنوا بیٹھی۔ ابھی شاہ کا سب سے بڑا امتحان 2019 کا لوک سبھا چناؤ ہے۔ اگر مودی پھر وزیر اعظم بنتے ہیں تو امت شاہ نئے کردار میں آ سکتے ہیں۔ انتخابات کے بعد بی جے پی کو نیا پارٹی صدر کا انتخاب کریں گے۔ لہذا، امت شاہ کابینہ میں جگہ حاصل کر سکتے ہیں اور ان کے کابینہ میں رہنے کا مطلب ہو گا مودی کے بعد نمبر دو۔
اس کا مطلب امت شاہ کا لوک سبھا الیکشن لڑنے کا مطلب یہ پیغام دینا ہے کہ وہ راجیہ سبھا کے پچھلے دروازے سے پارلیمنٹ یا کابینہ میں نہیں ہیں۔ انتخابات لڑ کر، عوام کے درمیان سے منتخب کر کے آئے ہیں۔ ایسے میں نمبر دو کے لئے، نمبر ایک کے لئے پوزیشننگ کرنے میں دقت کیا ہے؟ پھر وہ ایک وقت کےمرد آہن کرشن اڈوانی کی سیٹ سے لڑ رہے ہیں۔ اس کے معنی ہیں۔ ایسے میں امت شاہ کے لوک سبھا کا الیکشن لڑنے کو ہلکے میں نہیں لیا جانا چاہئے۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here