جموں و کشمیر میں انتخابات اور انتہا پسندی پر کچھ چھپا رہے ہیں شاہ؟

0
148
نئی دہلی(ایجنسیاں)جموں و کشمیر میں صدر راج چھ ماہ کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔ اس میعاد تین جولائی کو ختم ہونے والی تھی۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو لوک سبھا میں صدر راج بڑھانے کی تجویز پیش کی۔ یہ قرارداد منظور تو ہو گیا مگر اس سے پہلے کانگریس کی جانب سے سخت مخالفت دیکھنے کو ملی۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ اگر جموں و کشمیر میں منتخب حکومت ہوتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔کانگریس لیڈر منیش تواری نے تو یہ بھی دعوی کیا کہ ریاست میں پہلے رہی پی ڈی پی-بی جے پی اتحاد حکومت کی غلط پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مسلسل صدر راج بڑھانا پڑ رہا ہے۔جواب میں امت شاہ نے مسئلہ کشمیر کے لئے کانگریس کو ذمہ دار بتایا اور کہا کہ اس دفعہ کا سب سے زیادہ غلط استعمال کانگریس نے ہی کیا ہے اور وہ بھی سیاسی فائدہ کے لئے۔امت شاہ نے دعوی کیا کہ گزشتہ ایک سال کے صدر راج کے دوران’دہشت گردی کے خلاف سخت پالیسی‘ اپنائی گئی ہے اور اس کی’جڑوں پر وار‘ کیا گیا ہے۔
حال ہی میں وادی کا دور کرکے لوٹے وزیر داخلہ امت شاہ نے اس بات کو لے یہ صاف نہیں کیا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن کہے گا، انتخابات کرا دئیے جائیں گے۔اس سلسلہ میں بی بی سی کے صحافی آدرش راٹھور نے جموں و کشمیر کی سیاست پر نظر رکھنے والی سینئر صحافی انورادھا بھسین سے بات چیت کی۔
امت شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اس سال کے آخر تک اسمبلی انتخابات ہو جائیں گے۔ صدر راج کی میعاد بڑھانے کا تکنیکی وجہ یہ ہے کہ یہ قانونی طور پر چھ ماہ کے بعد اور بڑھانا پڑتا ہے۔ چونکہ یہاں منتخب حکومت نہیں ہے تو اس کی میعاد آگے بڑھنی ہی تھی۔جہاں تک بات ہے انتخابات کی، اس وقت کہنا مشکل ہے کہ مرکزی حکومت اس وقت جموں و کشمیر میں انتخابات چاہتی ہے یا نہیں۔اگر سیکورٹی یا  نظم و نسق کو دیکھتے ہوئے اس وقت اسمبلی انتخابات کروانا مناسب نہیں سمجھا جا رہا ہے تو اس سے ان کے دوہرا  پیمانہ سامنے آتا  ہے۔ ایسا اس وجہ سے کہ آپ نے اسی سال فروری میں پنچایت انتخابات کروا دئیے تھے جبکہ حالات آج سے بھی زیادہ خراب تھے۔اس کے بعد آپ نے پارلیمانی انتخابات کروا دئیے۔ اس انتخاب کے ساتھ اسمبلی انتخابات بھی ہو سکتے تھے کیونکہ آپ نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے ہوئے تھے۔تو اس وقت الیکشن نہیں کروائے گئے کیونکہ انہیں سیاسی طور پر شاید ایسا کرنا سوٹ نہیں کرتا تھا۔ اس سے ان کا دوہرا پیمانہ سامنے آتا ہے۔امت شاہ نے جمعہ کو پارلیمنٹ میں کہا بھی کہ ایک سال کے اندر اندر پنچایتی انتخابات کرائے گئے اور ایسا بھی پہلی بار ہوا کہ ریاست میں لوک سبھا انتخابات ہوئے اور ایک شخص کی جان نہیں گئی جوکہ جموں و کشمیر کے لحاظ سے بہت بڑی بات ہے۔انتخابات کروانے ہوں تو ویسے ہی کرائے جا سکتے ہے جیسے آپ نے دو انتخابات کروائے ہیں۔ لیکن سوال اٹھتا ہے کہ ان انتخابات کی جمہوری قیمت کیا ہے؟
پنچایت انتخابات کے دوران اور لوک سبھا انتخابات کے دوران کچھ علاقوں میں ووٹنگ کی شرح کو دیکھئے۔ کچھ علاقوں میں تو پنچایتوں کی سیٹیں ہی خالی ہیں۔پارلیمانی انتخابات میں بھی الیکشن بوتھوں میں تو ووٹر ہی نہیں آئے۔ جس طرح حال میں انتخابات ہوئے ہیں، اس سے ایک طرح سے جمہوریت کا مذاق بھی بن جاتا ہے۔ اسی طرح کروانا تھا تو اسمبلی انتخابات بھی ہو سکتے تھے۔جمعہ کو پارلیمنٹ میں امت شاہ نے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے لے کر منموہن سنگھ تک کانگریس کی قیادت والی حکومتوں کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ گزشتہ ایک سال میں صدر راج کے دوران دہشت گردی کے خلاف ’زیروٹولرینس ‘ کی پالیسی اپنائی گئی اور اس کی جڑوں کو ختم کرنے کے لئے حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
مگر اعداد و شمار تو نہیں بتاتے کہ کہاں تک حالات قابو ہوئے ہیں۔ شدت پسندوں کی تعداد ویسی ہے، مداخلت جاری ہے، لوگ الگ تھلگ ہو رہے ہیں۔ میڈیا پر دباؤ ڈال کر بےشک یہفیکٹردکھائے نہیں جا رہے مگر صورت حال وہی ہے۔آپ میڈیا کو دباکر، سچ کو چھپا سکتے ہیں مگر سچ تو سچ ہے۔ حالات بگڑ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پولیس کی رپورٹ ہے کہ وادی میں آئی ایس کے بھی شدت پسندموجود ہیں۔ بیشک زیادہ نہیں ہیں، چند ہی صحیح مگر یہ نیا رجحان ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ان کی پالیسی ناکام رہی ہے۔ جتنا آپ کشمیر کے لوگوں کو تنگ کریں گے، اس میں اس طرح کے نتائج تو دیکھنے کو ملیں گے ہی۔
[بشکریہ بی بی سی]

shahnawaz

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here