اجودھیا میں ہندو مہا سبھا اور شیوسینا کی ریلی فلاپ، فرقہ پرستوں کو نہیں ملا عوام کا ساتھ

0
388

رام مندر تعمیر کے مطالبہ کو لے کر ایودھیا میں وی ایچ پی کی دھرم سبھا طے شدہ مدت سے قبل ختم ہو گئی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ دھرم سبھا میں کوئی تحریری قرارداد منظور نہیں کی گئی۔ صرف زبانی جمع خرچ کیا گیا، حالانکہ سنتوں نے لوگوں کو یہ قسم ضرور کھلوائی کہ رام مندر کے لئے وہ متحد رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تعاون کریں گے۔دھرم سبھا کے دوران سنتوں نے سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے رام مندر کی سماعت کو آخر کیوں ٹالا۔ دریں اثنا مودی حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ رام مندر تعمیر کے لئے آرڈیننس لایا جائے۔
دھرم سبھا سے خطاب کرتے ہوئے وی ایچ پی کے رہنما چمپت رائے نے کہا کہ رام مندر تعمیر کے لئے ہمیں ساری زمین چاہئے اور تقسیم اراضی کا کوئی فارمولہ ہمیں منظور نہیں ہوگا۔ چمپت رائے نے مزید کہا، ”سنی وقف بورڈ کو زمین کے مالکانہ حق کا معاملہ واپس لینا چاہئے۔ وی ایچ پی اس زمین پر نماز نہیں ہونے دیگی۔“ واضح رہے کہ بابری مسجد رام مندر تنازعہ پر فیصلہ میں متنازع زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کو کہا گیا تھا۔“

ایودھیا میں وی ایچ پی اور شیو سینا کی تقاریب پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما ملکا ارجن کھڑگے نے کہا، ”چناﺅ کی وجہ سے سب ایودھیا جا رہے ہیں۔ ایودھیا جانے سے ادھو ٹھاکرے کو ساڑھے سال سالوں تک کس نے روکا تھا، جب چاہے چلے جاتے۔ ایک طرف شیو سینا بی جے پی کی دوست بنی ہوئی ہے اور دوسری طرف وہ رام مندر تعمیرکا مطالبہ کر رہی ہے۔“
رام مندر کے حوالہ سے ہندو سیاست کا دم بھرنے والی سیاسی جماعتوں میں آپس میں بھی نااتفاقی نظر آ رہی ہے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی سریندر سنگھ نے ادھو ٹھاکرے پر نشانہ لگایا ہے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی نے شیو سینا پر حملہ بولتے ہوئے کہا، ”شیو سینا رام مندر کا مدا کیسے ہائی جیک کر سکتی ہے؟ کیوں کہ شیو سینا کے کارکنان نے شمالی ہندوستانی لوگوں پر حملہ کروائے ہیں۔ ان نہیں مہاراشٹر سے کھدیڑ دیا، جن لوگوں کی خدمت خلق کی سوچ نہیں وہ رام کی خدمت کیسے کریں گے۔“
واضح رہے کہ اس ریلی کو لیکر پورے ملک کی صورت حال تشویشناک بنی ہوئی تھی ،دعوی کیا گیاتھاکہ چار لاکھ سادھو سنت پہونچیں گے لیکن پانچ ہزا رسے زائد لوگ نہیں پہونچ پائے ۔سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔اس دوران شدت پسند عناصر اس طرح کا نعرہ لگاتے رہے ۔ ایودھیا میں اس وقت جو جیبھ بابر کی بولے گی وہ جیبھ (زبان) کاٹ لی جائے گی، بچہ بچہ رام کا جنم بھومی کے کام کا، جس ہندو کا خون نہ کھولے خون نہیں وہ پانی ہے، جیسے نعرے سنائی دے رہے ہیں۔

 

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here