تاریخ پر تاریخ ، جج بدلتے گئے ،انصاف کےانتظارمیں جوان آنکھیں بوڑھی ہوگئیں،جوانی میں گرفتاری ،بڑھاپے میں انصاف

0
147

پرياگ راج(ایجنسی) اتر پردیش کے اجودھیا میں رام جنم بھومی پر دہشت گردانہ حملہ کرنے کے معاملے میں ملزم رہے پانچویں شخص محمد عزیز کو 14 سال بعد جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ گرفتار کئے گئے پانچ ملزمان میں سے چار ملزمان کو خصوصی عدالت نے عمرقید کی سزا سنائی ہے، جبکہ پانچویں موردالزام عزیز کو ثبوتوں کی عدم موجودگی میں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے حکم کے سلسلے میں پانچویں موردالزام رہے محمد عزیز کو نینی سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ عزیز گزشتہ 14 سال سے نینی سینٹرل جیل میں بند تھا۔ وہ کشمیر کے پونچھ ضلع کے منڈر تھانہ علاقہ کے باريندار گاؤں کا رہنے والا ہے۔ نینی سنٹرل جیل میں گزشتہ 14 سال سے بند عزیز کو جب 19 جون کی دیر شام جیل کے باہر لیا گیا تو وہ انتہائی جذباتی اور خوش نظر آئے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اسے اپنے ملک کی عدلیہ پر اعتماد تھا اور سچ آخرکر سامنے آگیا، وہ بے قصور تھا اور عدالت میں یہ ثابت ہو گیا ہے۔عزیز نے کہا کہ اسے بس اتنا ملال ہے کہ اسے اپنی زندگی کے 14 سال بغیر کسی قصور کے جیل کے اندر کاٹنے پڑے ہیں۔ وکیل شمس الحسن نے بتایا کہ عزیز کو اب پولیس پروٹیکشن میں ان کے گھر پہنچایا جائے گا۔وہ آج فلائٹ سے وہ دہلی گے اور وہاں سے انہیں کشمیر لے جایا گیا۔ سینئر جیل سپرنٹنڈنٹ هربكش سنگھ نے بتایا کہ محمد عزیز کو دیر شام کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ کچھ دیر تک وہ جیل کے اندر ہی رہے، شام کو باہر گارڈ روم میں انہیں شفٹ کر دیا گیا تھا، جہاں ان کے کھانے اور بستر کا بندوبست بھی کر دیا گیا تھا۔ ایس پی پروٹوکول اشوتوش دویدی نے بتایا کہ یہاں سے پولیس کی حفاظت میں عزیز کو بمهرولي ایئرپورٹ لے جایا گیا اور وہاں سے فلائٹ سے وہ دہلی گے۔ کشمیر کے باريندار گاؤں کے رہنے والے ایک چھوٹے سے کسان محمد وصيل کے دو بیٹوں میں بڑے محمد عزیز اب 56 سال کے ہو چکے ہیں۔ جیل جانے سے پہلے وہ باقاعدہ سرکاری نوکری کر رہے تھے۔ جموں میں جل نگم کے پلمبر (مستری) کے طور پر زندگی کے کئی موسم بہار خوشگوار گزرے تھے، لیکن 14 سال سے وہ جیل میں بند تھے اور اب رہا ہو کر اور بے داغ ہو کر اپنے رشتہ داروں سے ملنے گھر واپس جا رہے ہیں۔ عزیز کو دوبارہ اپنی زندگی شروع کرنی ہے اور کام کے چار سال تو باقی ہی ہیں۔ جیل میں گزاری زندگی کے لئے بھی وہ محکمہ سے کلیم کریں گے اور نقصانات کے لئے ایک بار پھر انصاف مانگنے کورٹ جائیں گے۔ محمد عزیز کے گھر میں باپ کے علاوہ ان کی بیوی بچے بھی ہیں، جو برسوں سے نظریں لگائے عزیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ عزیز کے تین بچے ہیں، جن میں دو بیٹے ظفر اور جاوید اور ایک بیٹی نازیہ ہے۔ عزیز پرجوش ہوکر کہتے ہیں بیوی انور کی تو میرے انتظار میں آنکھیں پتھرا گئی ہوں گی۔ اب صرف وہ اپنوں کے ساتھ دوبارہ نئی زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں۔ کشمیر میں گزرا وہ آخری دن بھارت کی جنت کہے جانے والے جموں وکشمیر کے باشندے محمد عزیز کے جیل جانے کی کہانی کسی فلمی کہانی جیسی ہے۔عزیز بتاتے ہیں کہ 2005 میں ایک دن مینڈر تھانے کے ایک سپاہی ان کے گھر پہنچا اس وقت وہ ڈیوٹی پر گیا ہوا تھا۔ گھر میں لواحقین تھے،سپاہی نے عزیز کے والد محمد وصيل کو بلایا اور کہا کہ اپنے بیٹے کو تھانے پر بھیج دینا کچھ ضروری کام ہے۔ شام کو عزیز گھر لوٹا تو والد وصيل نے پولیس کے آنے کی بات بتائی۔ صبح عزیز مینڈر تھانے پہنچا۔ تھانے میں کسی نے اس سے کوئی بات نہیں کی بس اسے بتایا گیا کہ اسے جموں جانا ہے۔ عزیز نے کئی بار پوچھا کہ آخر اسے کیوں جموں منتقل کیا جا رہا ہے، لیکن اس کا جواب اسے کسی نے نہیں دیا اور اسے تھانے میں ہی پوری رات گزارني پڑی۔
عزیز آگے کے دنوں میں آنے والے طوفان سے بے خبر تو تھا، لیکن وہ اب تک بری طرح ڈر گیا تھا۔ صبح مینڈر پولیس اسے لے کر جموں کے لئے روانہ ہوئی اور اگلی صبح جب وہ سفر پر چلا تو دوبارہ واپس نہیں آیا۔ جموں پہنچنے کے بعد روز اسے الگ الگ مقامات رکھا جاتا اور روز پوچھ گچھ کی جاتی رہی۔ ہر دن اس سے ایک صرف کارڈ خریدنے کو لے کر سوال جواب ہوتے رہے، لیکن عزیز ہر بار کسی بھی سم خریدنے سے انکار کرتا رہا۔ 21 دن بعد جب لگا کہ عزیز کو واپس اس کے گھر بھیجا جا رہا ہے تب اسے پرياگ راج کے نینی سنٹرل جیل لے آیا گیا۔ 22 دن کے لئے عزیز کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا اور یہاں پر پہلی بار پتہ چلا کہ آخر وہ یہاں کیوں ہے۔ عزیز گہری سانس لے کر اپنے جذبات کو قابو میں کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ نینی جیل میں انہیں پتہ چلا کہ وہ اجودھیا رام جنم بھومی میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے تعاون کرنے کے الزام میں گرفتار کئے گئے ہیں اور ان کے علاوہ بھی یہاں پر چار دیگر لوگ بھی اسی کیس میں بند کئے گئے ہیں۔ عزیز دعوے سے کہتے ہیں کہ باقی کے جو چار ملزم تھے، نہ ان سے وہ کبھی ملے تھے، نہ نام جانتے تھے اور نہ ہی ان سے ان کا کوئی تعلق تھا۔ نینی سنٹرل جیل میں اس دہشت گردانہ حملے کی سماعت شروع ہو گئی۔ جیل کے اندر ہی عدالت سجنے لگی۔ سماعت کا دور آگے بڑھنے لگا۔ جج بدلتے رہے، صرف کچھ نہیں ہو رہا تھا تو وہ تھا فیصلہ۔ عزیز کہتے ہیں کہ ہر سماعت پر انہیں لگتا کہ بس اگلی تاریخ پر فیصلہ ہوگا اور اسانتظار میں ان کی آنکھیں آہستہ آہستہ بوڑھی ہونے لگی اور امیدیں بھی کمزور ہوتی رہی۔ اس دوران عزیز کو کمر کا درد اور ريڈھ کی ہڈی میں شکایت سے عزیز کے مسائل اور بھی بڑھ گئی۔ دو سال پہلے ایک وقت ایسا آیا کہ عدالت اپنا فیصلہ سنانے والی تھی، لیکن عدالت نے اس معاملے کی اور تہ تک جاننے کا دوبارہ سے کوشش کی اور پھر سے گواہی کا دور چلا۔ نتیجہ 14 سال کے بن باس کے بعد جب فیصلہ ہوا تو عزیز بےداغ بری کئے گئے۔ فی الحال، عدالت سے بری ہونے کے بعد جیل انتظامیہ کا رویہ بھی عزیز کے تئیں بدلہ رہا۔ جیل کے باہر آنے کے بعد ڈبڈبائي آنکھوں سے كاپتي زبان میں دونوں ہاتھ اوپر کر دعا پڑھتے ہوئے عزیز کہتے ہیں انہیں خدا پر بھروسہ تھا۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here