ایمان کی حفاظت ___ کیوں اور کیسے؟؟

0
2712
ایمان کی حفاظت ___ کیوں اور کیسے؟؟

ایمان کی حفاظت ___ کیوں اور کیسے؟؟

از : مولانا انصار اللہ قاسمی آرگنائزر مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد و استاذ المعہد العالی الاسلامی

ایمان کی حفاظت کیوں کی جائے …..؟؟ اس لئے کہ:
ایمان ہمارے لئے سب سے بڑی نعمت اور قیمتی دولت ہے۔
ایمان کی نعمت کا اس دنیا میں کوئی مول اور تول نہیں۔
ایمان کی وجہ سے ہمیں اپنے پروردگار کی عبادت و بندگی کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔
ایمان ہو تو ہم کو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی نصیب ہوتی ہے۔
ایمان کی وجہ سے ہم رسول اللہ ﷺ کی شفاعتِ کبری کو پاسکتے ہیں۔
ایمان کے رہنے پر ہی ہم آقاء دوجہاں ﷺ کے وفادار امتی اور سچے عاشق کہلاسکتے ہیں۔
ایمان کی وجہ سے ہمیں صحیح ڈھنگ کی زندگی گذارنے کا سلیقہ آتا ہے۔
ایمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے محبوب اور ہدایت یافتہ بندوں میں ہمارا شمار ہوتا ہے۔
ایمان ہی دنیا میں ہماری تمام تر کامیابی و کامرانی کا ذریعہ ہے۔
ایمان ہی آخرت میں ہماری نجات و بخشش کے فیصلہ کا معیار ہے۔
ایمان ہونے پر ہی صحابہ کرامؓ اور اولیاء اللہ کے نام لیوائوں میں ہم شامل ہو سکتے ہیں۔
ایمان سے ہی ہماری شان اور پہچان ہے۔
ایمان ہی ہمارے لئے قابل صد اعزاز ولائق صد افتخار ہے۔
ایمان رہنے پر ہی ہم اسلام کے سچے وفادار ، پیروکار اور علمبردار کہلا سکتے ہیں۔
ایمان اگر نہ ہو تو جانوروں اور چوپایوں سے بھی زیادہ ہم گئے گذرے ہوں گے۔
ایمان کی حفاظت اس لئے بھی اہم اور ضروری ہے کہ …… آج ہمارے معاشرہ میں ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے:
خود کو ’’احمدیہ مسلم جماعت‘‘ کہنے والا قادیانی فرقہ سرگرم ہے، جورسول اللہ ﷺ کے ’’آخری نبی‘‘ ہونے کا منکر ہے۔
’’شکیل بن حنیف‘‘ کو مسیح و مہدی ماننے والوں کا فتنہ سرگرم ہے، جو قیامت کے قریب حضرت مہدی کے ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا منکر ہے۔
دیندار انجمن والوں کا فتنہ سرگرم ہے، جس کا بانی صدیق دیندار چند بسویشور نے مرزا غلام قادیانی کی طرح نبی ﷺ اور دیگر انبیاء کرام کی شان میں بدترین گستاخی کی ہے۔
نام نہاد ’’جماعت المسلمین‘‘ کا فتنہ سرگرم ہے، جس کے پیروکار اپنے علاوہ تمام اہل سنت والجماعت کے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔
حدیث کا انکار کرنے والے ’’اہل قرآن‘‘ کا فتنہ سرگرم ہے، یہ گمراہ لوگ احادیث رسولؐ کے بارے میں عام مسلمانوں کو کنفیوژ کرتے ہیں۔
ایمان کی حفاظت کیسے کی جائے؟؟
متقی اور مخلص علماء کرام کی صحبت میں رہ کر دین کے بنیادی عقائد کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔
اسلام کے بنیادی عقائد و معلومات پر مشتمل مستند و معتبر کتابوں کے مطالعہ کا معمول بنائیں۔
روزآنہ اپنے گھروں میں کسی وقت بنیادی عقائد اور گمراہ فتنوں سے متعلق لکھی گئی کتاب کی تعلیم کریں۔
اہل حق علماء کرام کے اجتماعات اور اللہ والے بزرگوں کی مجلسوں میں خود بھی پابندی سے شرکت کریں اور اپنے گھر والوں کو بھی ساتھ لے جائیں۔
آپ جس عالم دین سے وابستہ ہیں، ہفتہ میں ایک دن اسلام کے کسی ایک بنیادی عقیدہ سے متعلق ان کے ساتھ مذاکرہ کریں۔
سوشیل میڈیا (واٹساپ، فیس بک، انٹرنیٹ) سے دینی عقائد و معلومات کو حاصل کرنے سے احتیاط کریں۔
اجنبی اور غیر متعارف شخصیات /افراد سے مذہبی موضوعات پر گفتگو نہ کریں۔
گمراہ اور خارج اسلام فرقوں (قادیانی، شکیلی، دیندار انجمن وغیرہ) سے تعلق رکھنے والوں سے میل جول نہ رکھیں۔
مذہبی عنوانات پر نام نہاد دانشور اور ملحد قسم کے لوگوں کے لکچررس کی ویڈیوز نہ دیکھیں۔
علماء دین کی رہنمائی سے آزاد ہو کر ’’سیلف اسٹڈی‘‘ نہ کریں۔
اسلام سے وابستگی اور ایمان پر ثابت قدمی کے لئے ہر نماز کے بعد خصوصی دعائوں کا اہتمام رکھیں۔
اللّٰھم ارنا الحق حقّا وار زقنا اتباعہ، و أرنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابہ۔
اے اللہ! ہمیں حق کو حق کی اور ہمیں اُس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما، باطل کو باطل کی شکل میں دکھا اور ہمیں اُس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here