مدھیہ پردیش میں ہر ماہ 10 کسان کر رہے ہیں خودکشی

0
169
مدھیہ پردیش اسمبلی کے تیسرے سیشن میں اراکین کے ذریعہ پوچھے گئے سوالات کے جواب میں یہ اعداد و شمار سامنے آیا ہے کہ گزشتہ سات ماہ میں نئی حکومت کے قیام کے بعد اب تک ریاست میں 71 کسان خودکشی کر چکے ہیں یعنی ہر ماہ 10 کسان قرض اور دیگر مسائل کی وجہ سے خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔جبکہ کانگریس حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ ماضی کی بی جے پی حکومت سے زیادہ کسانوں کے مفاد میں کامکررہی ہے ۔
یہاں 08 جولائی سے 26 جولائی تک چلنے والے اسمبلی سیشن میں مختلف ارکان نے اپنے سوالات کے ذریعے حکومت سے پوچھا تھا کہ کسانوں کی خود کشی کئے جانے کے کتنے کیس نئی حکومت بننے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اس میں کہ حکومت کی طرف سے جو تحریری جواب مختلف جوابات میں پیش کیا گیا ہے، اس کے مطابق اب تک 01 دسمبر 2018 سے 12 جون 2019 تک 71 کسانوں نے صوبے میں موت کو گلے لگایا ہے۔
اس جواب سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان مرنے والے کسانوں میں ریاست کے بگھےل کھنڈ علاقے کے کسانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اس کے بعد بندیل کھنڈ کے کسانوں نے زیادہ سے زیادہ تعداد میں موت کو گلے لگایا ہے۔ اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ 14 کسانوں نے سیدھی میں خودکشی کی، جبکہ ساگر میں 13 کسانوں نے قرض اور دیگر مسائل کی وجہ سے خود کشی کی ۔ ان کے علاوہ دیگر اضلاع میں خود کشی کرنے والے کسانوں کی تعداد ہے۔دیکھا جائے تو صوبے میں کسانوں کی جو حالت دکھائی دے رہی ہے، اس میں اب تک کئی کسان ڈی فالٹر اعلان ہو گئے ہیں۔کھاد اور بیج کے لئے بینک انہیںقرض نہیں دے رہا ہے. بینک کہہ رہے ہیں کہ پہلے پیسہ جمع کرو، اس کے بعد آپ کھاد-بیج کے لئے قرض دیا جائے گا۔
مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کا اس معاملے کو لے کر کہنا ہے کہ کمل ناتھ کی قیادت والی کانگریس قیادت ریاستی حکومت کے وعدے کے مطابق کسانوں کی قرض معافی نہیں ہونے، انہیں کھاد-بیج کے لئے قرض نہیں ملنے، ان کی فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت نہیں ملنے اور کسانوں کو ان کی فصلوں پر بونس نہیں دیئے جانے سے متعلق مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ کمل ناتھ کی حکومت کسانوں کو تباہ کر رہی ہے۔ انتخابات کے وقت کانگریس نے کسانوں سے وعدہ کیا تھا کہ کسانوں کا دو لاکھ روپے تک کاقرض 10 دن کے اندر معاف کر دیا جائے گا اور ایسا نہ کرنے پر وزیر اعلی تبدیل کر دیا جائے گا۔ لیکن اب حکومت کو آئے سات ماہ ہو چکے ہیں، لیکن آج تک کسانوں کے قرض معاف نہیں ہوئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں کسانوں کی قرض معافی سمیت ان مختلف مسائل کو لے کر مدھیہ پردیش اسمبلی میں لگائی گئی عرضی پر بحث کا مطالبہ کانگریس حکومت کی طرف سے مسترد کیا جا چکا ہے، جس کے بعد ناراض اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی کے ممبران اسمبلی کی طرف سے ایوان سے واک آو ¿ٹ تک کیا جا چکا تھا۔
منشور میں کانگریس نے یہ کیا تھا کسانوں سے وعدہ
کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ حکومت میں آئی تو سب سے پہلے کسانوں کے دو لاکھ روپے تک کے سارے قرض معاف کرے گی۔ لیکن جب کانگریس کی حکومت بنی تو جو سب سے پہلا آرڈر نکالا اس کے مطابق کسانوں کے مختصر مدتی قرض معاف کئے جائیں گے کا حکم تھا۔ کئی کسان اسی وجہ سے قرض معافی سے محروم رہ گئے۔ مدھیہ پردیش میں جو مختصر مدتی کر قرض ہیں وہ 48,000 کروڑ روپے کا ہے۔ اس کے بدلے صرف 5,000 کروڑ روپے کی رقم کا انتظام کیا گیا اور اکاو ¿نٹس میں صرف 1400 کروڑ روپے کا معاوضہ ہی اب تک پہنچ سکا ہے۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here