قانونی ڈنڈے سے قوم پرستی کا جذبہ پیدا کرے گی یوپی سرکار؟

0
132

آشوتوش
اتر پردیش حکومت کو یہ واضح کرنا چاہئے کہ کیا موجودہ قانون کافی نہیں ہے کہ نئے قانون کی ضرورت پڑ رہی ہے ؟ اگر بی جے پی کو لگتا ہے کہ یونیورسٹی کے اندر ملک مخالف حرکتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اس کے لئے قانون بنانا پڑ رہا ہے تو پھر یہ قانون صرف نجی یونیورسٹیوں پر ہی کیوںنافذ ہو رہا ہے ؟ ریاستی حکومت کے تابع آنے والے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اسے کیوں نہیں نافذ کیا جا رہا ہے ؟ ایک بار پھر نئے سرے سے قوم پرستی کے مسئلے کو کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بار آغاز دہلی سے نہیں ، بلکہ اتر پردیش سے ہو رہی ہے۔ اتر پردیش کی حکومت ایک ایسا قانون بنانے کی سوچ رہی ہے جس میں کسی بھی نجی یونیورسٹی میں اگر کوئی متحدہ مخالف سرگرمی ہوتی پائی گئی تو ایسے یونیورسٹی کے تصدیں منسوخ ہو سکتی ہے۔دراصل ، اتر پردیش کی یوگی حکومت نے اس معاملے میں آرڈیننس کا مسودہ تیار کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی یونیورسٹی میںملک مخالف سرگرمیوں کو ختم کیا جا سکے اور طالب علموں کے اندر قوم پرستی کا احساس پیدا کی جا سکے۔ اتر پردیش کی حکومت میں نائب وزیر اعلی کیشو موریا کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کابینہ نے فیصلہ لیا ہے اور نہ صرف اتر پردیش میں بلکہ پورے ملک میں کسی بھی یونیورسٹی یا کالج میں ایسی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔اس مسودے کی بھنک لگتے ہی اپوزیشن پارٹیوں کے کان کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اس کی مخالفت کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان پارٹیوں کا کہنا ہے کہ قوم پرستی کے بہانے تعلیمی اداروں میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے نظریات کو مسلط کرنے کا کام شروع ہو گیا ہے۔ اتر پردیش کانگریس کا کہنا ہے کہ اس قانون کی آڑ میں سارے تعلیمی اداروں میں خوف کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی بھی آر ایس ایس کے نظریات کی مخالفت نہ کر سکے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی تو یونیورسٹی کے سر پر ہمیشہ تلوار لٹکتی رہے گی اور اس بہانے کسی بھی نجی یونیورسٹی کی منظوری منسوخ کی جا سکتی ہے ، یہ آمریت سے کم نہیں ہے۔حالانکہ ، اترپردیش پرائیویٹ یونیورسٹی ایسوسی ایشن نے حکومت کے اس قدم کی حمایت کی ہے۔ایسوسی ایشن کے سیکرٹری پنکج اگروال کا کہنا ہے کہ اس قانون میں کچھ بھی نیا نہیں ہے اور اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس بارے میں مکمل معلومات قانون بننے کے بعد ہی پتہ چل پائےگا۔ اتر پردیش میں کل 27 نجی یونیورسٹی اور اسے نافذ کرنے کے لئے ان کے پاس تقریبا ایک سال کا وقت ہو گا۔لیکن سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا قوم پرستی کے اس قانون کابے جا استعمال نہیں کرے گی اور کون یہ طے کرے گا کہ کون سی حرکت ملک مخالف ہے اور کون سی نہیں ہے ؟ اور کیا اس قانون کے بہانے یونیورسٹیوں کو ایک دوسرے کو پریشان کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا ؟۔اس تناظر میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی مثال سب کے سامنے ہے جہاں پر یہ الزام لگایا گیا کہ کچھ طالب علموں نے بھارت مخالف نعرے لگائے اور یہاں تک کہا کہ بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے ۔اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں زبردست ہنگامہ ہوا اور ہر گلی محلے اور ٹی وی چینلز پر جم کر بحث ہوئی۔جے این یو کا طالب علم رہے کنہیا کمار اور ان کے ساتھیوں کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا۔عدالت میں پیشی کے دوران کنہیا کی پٹائی کی گئی اور ایسا لگا کہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ احاطے جنگ کے میدان میں تبدیل ہو گیا تھا۔لیکن تین سال بعد بھی پولیس کنہیا کمار کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کر پائی تھی۔ جبکہ یہ اتنا بڑا مسئلہ بنا تھا کہ پولیس کو پختہ ثبوتوں کے ساتھ 90 دن کے اندر چارج شیٹ داخل کر دینا چاہئے تھا۔ آج بھی دہلی پولیس اس دعوے کے ساتھ نہیں کہہ سکتی کہ کنہیا کے خلاف اس کے پاس پختہ ثبوت ہیں۔ اسی طرح جادو پور یونیورسٹی اور دہلی یونیورسٹی کے رامجس کالج میں بھی قوم پرستی کے نام پر جم کر ہنگامہ ہوا تھا اور مارپیٹ ہوئی تھی۔ ایسے میں سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ ملک سے بغاوت کی صورت میں جب پہلے ہی قانون ہیں تو نیا قانون بنانے کی ضرورت کیا ہے ؟ اتر پردیش حکومت کو یہ واضح کرنا چاہئے کہ موجودہ قانون کیا کافی نہیں ہے کہ نئے قانون کی ضرورت پڑ رہی ہے ؟ اگر بی جے پی کو لگتا ہے کہ یونیورسٹی کے اندر ملک مخالف حرکتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اس قانون بنانا پڑ رہا ہے تو پھر یہ قانون صرف نجی یونیورسٹیوں پر ہی کیوں قابل اطلاق ہوگا ؟ ریاستی حکومت کے تابع آنے والے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اسے کیوں نہیںنافذ کیا جا رہا ہے ؟کیا یوگی حکومت یہ کہنا چاہتی ہے کہ یونیورسٹی ملک مخالف طاقتوں کے اڈے بن گئے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو پھر ایسے یونیورسٹیوں کو چلانے کی ضرورت کیا ہے ؟۔ظاہر ہے اتر پردیش کی حکومت کا یہ قدم اتنا معصوم نہیں لگتا جتنا بی جے پی دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اپوزیشن کے اس الزام میں کتنا دم ہے کہ اس قانون کا سہارا لے کر تعلیم کا مکمل طور پر بھگوابنانےکی کوشش کی جا رہی ہے یا پھرآر ایس ایس کے نظریات کو نافذ کرنے کا کوئی بہانہ ہے۔ یا پھر اتر پردیش کے ان نجی یونیورسٹی کے ذریعہ بی جے پی اور آر ایس ایس کوئی پائلٹ پروجیکٹ چلانا چاہ رہے ہیں تاکہ آنے والے وقت میں اس قانون کو ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں نافذکیا جا سکے۔تعلیمی ادارے علم کے مندر ہیں۔ وہاں عقل اور ضمیر پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔اور علم قانون سے نہیں ، کتابوں سے آتا ہے۔ اورقوم پرستی گھٹیاپلانے سے نہیں آتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اتر پردیش جیسی ریاست میں جدید تعلیم کے مندر کھلیں جہاں پڑھ کر طالب علم ان سنہرے مستقبل کی تعمیر کریں اور ملک کی خدمت میں جٹے ، لیکن اگر خوف اور خوف کا ماحول رہے گا تو تعلیم کے مندر میں نہ تو مناسب طریقے سے پڑھائی ہوگی اور نہ ہی علم کے نئے راستے کھلیں گے۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here