کب اور کیسے شروع ہوا ملت ٹائمز

0
12

کب اور کیسے شروع ہوا ملت ٹائمز

ملت ٹائمز ایک سہ لسانی آن لائن اخباراور یوٹیوب چینل ہے ، جسے 2016 میں شمس تبریز قاسمی نے شروع کیا تھا ، خاص طور پر اردو ورژن ہندوستان میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے نیوز پورٹلس میں سے ایک ہے۔ مرکزی دفتر بھارت کے دارالحکومت دہلی میں واقع ہے ۔ اردو ، انگریزی اور ہندی تین زبانوں میں یہ آن لائن اخبار ہے اور اسی نام سے یوٹیوب چینل ہے ۔ ملت نیوز نیٹ ورک پرائیوٹ لمٹیڈ کے ماتحت ملت ٹائمز کی اشاعت عمل میں آتی ہے۔ اس کا اردو ورژن ہندوستان میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں بھی قارئین کی بڑی تعداد ہے ۔ سیاسی ،سماجی ، ہندوستانی اقلیت ، عالمی حالات ، مسلم ممالک کے ایشوز اور اردو زبان و ادب پر یہاں نیوز ، مضامین ، انٹرویوز ، گراؤنڈ رپورٹس اور فیچرس شائع کئے جاتے ہیں ۔ ان موضوعات پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جسے مین اسٹریم میڈیا اور ٹی وی چینلوں کے ذریعہ نہیں دکھایا جاتا ہے اور نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔

ملت ٹائمز کا قیام
18 جنوری 2016 میں ممبئی کی سرزمین پر ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا رابع حسنی ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و ناظم ندوة العلماءلکھنو کے ہاتھوں اس کا افتتاح عمل میں آیا تھا ۔ اپریل 2016 میں ملت ٹائمز نے انگریزی نیوز پورٹل کا آغاز کیا جس کے بانی ممبر اور ایڈیٹر محمد ارشاد ایوب ہیں ۔ ایک سال مکمل ہونے کے بعد دہلی کے سیئنر صحافیوں کے ہاتھوں 19 جنوری 2017 کو ملت ٹائمز نے ایپ لانچ کیا ۔ جولائی 2017 میں بیرسٹر اسد الدین اویسی کے ایک انٹرویو کے ذریعہ شمس تبریز قاسمی نے ملت ٹائمز کے یوٹیوب چینل کا بھی آغاز کیا ۔ 2018 میں ملت ٹائمز نے ہندی نیوز پورٹل کی شروعات کی جس کے بانی ایڈیٹر مرحوم محمد قیصر صدیقی تھے۔24اکتوبر 2020 کو محمد قیصرصدیقی کی وفات کے بعد یہ ایڈیٹر کی ذمہ داری اسرار احمد سنبھال رہے ہیں ۔ ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر ظفر صدیقی ہیں ۔

ملت ٹائمز کے دوسرے چینلز اور پورٹلز
ملت ٹائمز نے علاقائی خبروں کیلئے متعدد نیوز پورٹل بھی شروع کررکھاہے جس میں ”میوات ٹائمز“ تین زبانوں میں آن لائن اخبار اور یوٹیوب چینل ہے جس کے ایڈیٹر محمد سفیان سیف ہیں ۔” ایک اور علاقائی نیوز پورٹل” سیتامڑھی ٹائمز “ہے جسے مرحوم قیصر صدیقی نے شروع کیاتھا ۔ 24 اکتوبر 2020 میں ان کی وفات کے بعد سیتامڑھی ٹائمز کی ذمہ داری مظفر عالم اور ثاقب رضا کو سونپی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ ملت ٹائمز کا یک مستقبل ہندی نیوز پورٹل ”جے جے پی نیوز“ ہے جس کے چیف ایڈیٹر محمد شہنواز ناظمی ہیں۔ ملت ٹائمز کے تحت تاریخی اور معلوماتی ویڈیوز کیلئے مستقل ایک یوٹیوب چینل ہے” ہسٹری آف اسلام“ ۔ اردو زبان و ادب کے فروغ کیلئے ”اردو ٹاک“ کے نام سے باضابطہ ایک پلیٹ فارم کی شروعات کی گئی ہے ، اسی نام سے یوٹیوب چینل بھی ہے جہاں اردو ادب سے متعلق ویڈیوز اپلوڈ کی جاتی ہیں اور زمرین فاروق اس کی انچارج ہیں۔ مذہبی امور کی اشاعت کیلئے ”مدینہ ٹی وی اردو “کے نام سے ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل لانچ کیا گیا ہے ۔ یہ سبھی آن لائن اخبارات اور نیوز پورٹل ملت نیوز نیٹ ورک پرائیوٹ لمٹیڈ کے ماتحت ہیں ۔

ملت ٹائمز کے بانی اور سی ای او
ملت ٹائمز کے بانی اور سی ای او شمس تبریز قاسمی ہیں جو دارالعلوم دیوبند کے فارغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویٹ اور ایم اے ہیں ۔ شمس تبریز قاسمی ہندوستان میں صحافیوں کی سب سے قدیم تنظیم پریس کلب آف انڈیا کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے بھی ممبر ہیں ۔ اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق سے منظور شدہ بھارت کے معروف تھنک ٹینک ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز میں میڈیا کورآڈینٹر کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں ۔ اس سے قبل سال 2014 سے 2016 تک وہ مشہور نیوز ایجنسی آئی این انڈیا میں بطور ایڈیٹر اپنے فرائض انجام دے چکے ہیں ۔ اردو اخبارات میں ان کا ہفت روزہ کالم ” پس آئینہ “ بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے ۔صحافتی خدمات کی بنیاد پر وہ متعدد ایوارڈ سے بھی سرفراز ہوچکے ہیں۔

پس منظر
بیباک صحافت،سرکاری دباؤ سے آزاد اور اقلیتوں کے ایشوز کو نمایاں کرنے کیلئے ملت ٹائمز کو خصوصیت کے ساتھ جانا جاتا ہے ۔ ملت ٹائمز کا بنیادی ایجنڈا ان ایشوز کو اٹھانا ہے جسے مین اسٹریم میڈیا اور ٹی وی چینلوں کے ذریعہ نہیں دکھایا جاتا ہے یا سچ کو چھپا دیا جاتا ہے ۔ آن لائن اخبارات کے ساتھ ملت ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے ناظرین کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے ۔ یوٹیوب پر خبر در خبر ۔ خاص ملاقات ۔انٹریوز گراؤنڈ رپوٹ ، پبلک اوپینن، صدائے نوجوان ۔ اسپیشل رپوٹ جیسے پروگرام بیحد مقبول ہیں ۔ ملت ٹائمز نے کئی ایسی اسٹوریز کی ہے جو ہندوستان کی حکومت ، انتظامیہ ، سماج ، ملی تنظیموں ،اہم شخصیات اور مین اسٹریم میڈیا پر اثر انداز ہوئی ہے ۔ ہندوستان کے بیشتر اردو اخبارات ملت ٹائمز کی خبریں اور مضامین اپنے یہاں شائع کرتے ہیں ۔ بیرون ممالک میں شائع ہونے والے اردو ویب پورٹل اور اخبارات اپنے بین لاقوامی صفحات کیلئے ہندوستان کی خبریں ملت ٹائمز کے حوالے سے شائع کرتے ہیں ۔
دہلی کے علاوہ ،ممبئی ، پٹنہ ، کولکاتا ، چننئی ، لکھنؤ سمیت کئی شہروں اور صوبوں میں ملت ٹائمز کے بیورو چیف موجود ہیں ۔ علاوہ ازیں بہار ، مہاراشٹرا ، بنگال ، اتر پردیش اور دہلی میں ملت ٹائمز کے علاقائی اور ضلع نمائندے بھی ہیں۔

ملت ٹائمز کی موئثر اسٹوریز
ملت ٹائمز کی نمایاں رپورٹ میں تین طلاق کے خلاف سپریم کورٹ جانے والی عشرت جہاں کا وہ سچ ہے جسے میڈیا نے پوری دنیاسے مہینوں تک چھپایا اور اسلام کے خلاف منفی پیروپیگنڈہ کیا ۔ وہ سچ یہ تھا کہ کولکاتا کی عشرت جہاں کو اس کے شوہر مرتضی انصاری نے کوئی طلاق ہی نہیں دی تھی ۔ سیتامڑھی فساد اور 80 سالہ زین الانصاری کی لنچنگ کی رپوٹ بھی سب سے پہلے ملت ٹائمز نے تمام ثبوتوں کے ساتھ یوٹیوب چینل اور ملت ٹائمز ہندی میں شائع کیا ۔ بہار حکومت اور انتظامیہ نے اس واقعہ کو چھپا دیا تھا اور وائرل تصویر کو فرضی بتایا تھا ۔ ملت ٹائمز کی رپوٹ آنے کے بعد سیتامڑھی کے ایس پی وکاس برمانے واقعہ کا اعتراف کیا کہ ہاں واقعی 80 سالہ زین الانصاری کو شرپسندوں نے زندہ ذبح کرکے جلا دیا تھا ۔ اس کے بعد مشہور آن لائن اخبار دی کوئنٹ، دی وائر اور دیگر نیوز ویب سائٹس نے اپنی تحقیق میں اسے درست مانا کہ ملت ٹائمز کی خبر صحیح ہے ۔ واقعہ کے 20 دن بعد انڈین ایکسپریس نے بھی اپنے فرنٹ پیج پر یہ خبر شائع کی ۔ بعد میں این ڈی ٹی وی اور بی بی سی نے بھی اسے کور کیا۔ سینئر صحافی رویش کمار نے بھی اپنے پرائم ٹائم میں اس لنچنگ کا تذکرہ کیا ۔ اس سے قبل 31 اکتوبر 2018 کو بہار کرائم برانچ نے آئی پی سی کی دفعہ 91 کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹس بھیج کر ملت ٹائمز سے مطالبہ کیا کہ فیس بک پیج اور یوٹیوب چینل سے ستیامڑھی فساد اور زین الانصاری کی لنچگ سے متعلق جو ویڈیو رپوٹ نے آپ شائع کیا ہے اس سے لاء اینڈ آڈر کو خطرہ لاحق ہے، ہٹالیں ؛ جس سے ملت ٹائمز نے انکار کردیا ، بعد میں یوٹیوب اور فیس بک نے خود یہ ویڈیو ڈیلیٹ کردی ۔
15دسمبر 2020 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ پر دہلی پولس نے لاٹھ چارج کیا تھا اور لائبریری میں داخل ہوکر حملہ کیا تھا جس کی دنیا بھر میں مذمت ہوئی تھی۔اسی طرح اس سے قبل 13دسمبر کو بھی سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران جامعہ کے طلبہ پر پولس نے لاٹھی چارج کیا تھا اور آنسو گیس کے گولے داغ تھے ۔ ان دونوں واقعات کے رونما ہونے کے وقت ملت ٹائمز کے صحافی منور عالم وہاں موجود تھے اورگراؤنڈ زیرو سے براہ راست لائیو رپوٹنگ کررہے تھے اور پہلی مرتبہ ملت ٹائمز کے یوٹیوب اور فیس بک پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران دیکھنے والوں کی تعداد بیک وقت ایک لاکھ سے زیادہ ہوگئی تھی ۔ آنسو گیس کی وجہ سے منور عالم کو بھی کئی دنوں تک دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رپوٹنگ کے دوران مرتبہ پولس نے بھی انہیں نشانہ بنانے اور روکنے کی کوشش کی ۔
فروری 2020 میں دہلی کے نارتھ ایسٹ میں ہوئے فساد کی رپوٹنگ بھی سب سے پہلے ملت ٹائمز نے ہی کی تھی ۔ 2425 اور 26فروری کو ملت ٹائمز کے متعدد صحافیوں نے گراؤنڈ زیرو سے جاکر رپوٹ کیاتھا جہاں فساد ہو رہا تھا ۔ رپوٹنگ کے دوران ملت ٹائمز کے صحافی اسرار احمد اور کیمرہ مین محمد معصوم پر شرپسندوں نے حملہ بھی کیا ۔ کیمرا بھی چھین لیا تھا اور تشدد کا نشانہ بنایا تاہم ملت ٹائمز نے فساد کی رپوٹنگ جاری رکھی ۔24 فروری کی یہ وہ تاریخ تھی جب فساد کی یہ رپوٹ صرف ملت ٹائمز پر نشر ہورہی تھی ۔ نیشنل میڈیا اور ٹی وی چینلوں کی پوری توجہ ” نمسٹے ٹرمپ “ پروگرام پر تھی ۔ 25فروری کی صبح نیشنل میڈیا نے فسا د کی رپوٹ دکھاناشروع کیا ۔اس کے علاوہ ملت ٹائمز نے ہی سبھی مسجدوں کی رپوٹ دکھائی جسے فساد کے دوران شرپسندوں نے جزوی یا کلی طور پر نقصان پہونچایا تھا اور منہدم کردیا تھا۔
شاہین باغ احتجاج کو مین اسٹریم میڈیا تک پہونچانے اور اسے عام کرنے میں بھی ملت ٹائمز کا خصوصی کردار تھا اور شروع دن سے اخیر تک ملت ٹائمز نے شاہین باغ کو کور کیا ۔ ملت ٹائمز کے کیمرہ پر بولنے کے بعد کئی خواتین کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوئی ، دیگر چینلز اور یوٹیوبرس نے بھی ان تک رسائی حاصل کی اور آج ایسی سبھی خواتین سوشل ایکٹویسٹ کے طور پر سرگرم ہیں ۔
بہار کے چمپارن میں ایک جگہ مسجد کی تعمیر کو بجرنگ دل کے کنان نے روک دیا تھا ۔ ملت ٹائمز میں خبر شائع ہونے کے بعد پولس وہاں پہونچی اور اپنی نگرانی میں کام کرایا۔
بہار کے ویشالی میں 30 اکتوبر 2020 میں 22سالہ گلناز خاتون کو شرپسندوں نے زندہ جلا دیا تھا جس کی سترہ دنوں بعد موت ہوگئی ۔ اس معاملے کو مین اسٹریم میڈیا نے ملسل نظر انداز کیا تاہم ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے گراؤنڈ پر پہونچ کر رپوٹنگ کی اورپوری سچائی سے دنیا کو آگاہ کیا ۔
اس کے علاوہ جشن ریختہ میں طارق فتح کے خلاف احتجاج کی رپوٹ ، مولانا سلمان ندی کا شری شری روی شنکر کے ساتھ ملکر بابری مسجد سے دستبر دار ہوجانے کا مشورہ اور ایسے کئی ایشوز ہیں جن پر ملت ٹائمز کی رپورٹ نے تاریخ رقم کی ہے۔انتظامیہ نے نوٹس لیاہے اور پانچ سالوں کے دوران اب تک 100 سے زیادہ ایسی خبریں ملت ٹائمز کے سبھی پلیٹ فارمز پر شائع ہوچکی ہیں جو قومی، عالمی میڈیا، حکومت ، انتظامیہ اور سماج پر اثر انداز ہوئی ہیں اور تاریخ رقم کرنے کا کام کیا ہے ۔ ان میں سے ایسی 50 خبروں ،گراؤنڈ رپوٹس اور اسٹوریز کا مجموعہ بھی ملت ٹائمز نے شائع کیاہے ۔

ملت ٹائمز کے خلاف نوٹس
اپریل 2018 میں دیوبند کے ایک کتاب تاجرمولانا ندیم الواجدی نے ملت ٹائمز اور اس کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی سمیت چھ افراد کے خلاف نوٹس بھیج کر پچاس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا ۔اس نوٹس میں ملت ٹائمز پر دہشت گردی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے ملک کی داخلہ سلامتی کیلئے خطرہ بتایا گیا تھا ۔نوٹس بھیجنے والے نے حکومت اور عدلیہ سے اپیل کی تھی کہ اس کے خلاف جانچ ایجنسیوں سے تحقیق کرائی جائے اور یہ پورٹل بند کرادیا جائے ۔ اس کے علاو اور بھی کئی سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے ۔ دیوبند تھانہ میں مولانا واجد ی کیس بھی کرنے گئے تھے جسے ایس ایچ او نے قبول نہیں کیا ۔ ملت ٹائمز کی لیگل ٹیم نے اس نوٹس کا جواب دیتے ہوئے و اضح کردیا تھا کہ الزامات بے بنیاد ہیں ۔ مولانا ندیم الواجدی نے نوٹس بھیجنے کی وجہ یہ لکھی تھی کہ ملت ٹائمز کے بیور و چیف عامر ظفر قاسمی اور محمد قیصر صدیقی (مرحوم )نے اپنے فیس بک پر ایک ایسا مضمون شیئر کیا ہے جس سے ان کی ہتک عزت ہوتی ہے چناں چہ اسی بنیاد انہوں نے ملت ٹائمز اور چیف ایڈیٹر سمیت چھ افراد کے خلاف نوٹس بھیج کر سنگین الزام لگائے اور اس کی جانچ کا مطالبہ کیا۔
31 اکتوبر کو بہار کرائچ برانچ نے نوٹس بھیج کر ملت ٹائمزسے سیتامڑھی لنچگ پر بنی ویڈیو کو فیس بک پیج اور یوٹیوب سے ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس رپوٹ سے لاء اینڈ آڈر کو خطرہ لاحق ہے ۔ ملت ٹائمز نے اس نوٹس کو مسترد کردیا اور کہا کہ ملت ٹائمز نے وہی دکھایا ہے جو سچ ہے ۔ لاء اینڈ آڈر پر قابو پانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ۔ ملت ٹائمز کا کام سچائی سے عوام کو آگاہ کرنا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔
جون 2019 میں اتر پردیش بی جے پی کے ایک لیڈر رتناکر پانڈیہ بھی ملت ٹائمز کو نوٹس بھیج چکے ہیں ۔ ان کا دعوی تھا کہ ملت ٹائمز میں چھپی نیوز حقیقت کے خلاف اور اپوزیشن پارٹیوں کے پھیلائے گئے پیروپیگنڈہ پر مبنی ہے ۔ مطالبہ تھاکہ ملت ٹائمز اس رپوٹ کو ڈیلیٹ کردے ورنہ ہم کاروائی کریں گے ۔ اس نوٹس کے جواب میں ملت ٹائمز نے رتناکر پانڈیہ کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ خبر کے فیک اور اپوزیشن کے پھیلائے گئے پیروپیگنڈہ ہونے کا کوئی ثبوت فراہم کریں۔ اس کے علاو یہ بھی کہا گیا کہ یہ خبر ملت ٹائمز کے علاہ” روزنامہ امر اجالا “ سمیت کئی ہندی کے اخبارات میں بھی شائع ہوئی ہے ۔
اس کے علاوہ متعدد بی جے پی لیڈران اور پولس انتظامیہ کی جانب سے ملت ٹائمز کو نوٹس موصول ہوچکی ہے تاہم ملت ٹائمز کے سچ کا سفر جاری ہے ۔

قارئین
ملت ٹائمز کے یومیہ قارئین کی تعداد تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ ہے ۔ کئی مرتبہ ملت ٹائمز کے قارئین کئی لاکھ تک پہونچ جاتے ہیں ۔ سال 2020 میں صرف پانچ دنوں میں ملت ٹائمز کے قارئین کی تعداد چھ ملین تک پہونچ گئی تھی ۔ 26جولائی 2017 کو ملت ٹائمز اردو کے قارئین کی تعداد تقریباً دو ملین تک پہونچ گئی تھی ۔ یوٹیوب پر بھی ملت ٹائمزکے سبسکرائبر آٹھ لاکھ سے زیادہ ہیں اور دسیوں ویڈیوز کے ناظرین کی تعداد ایک ملین سے زیادہ ۔ فیس بک پر پانچ لاکھ سے زیادہ فلووز ہیں اور لاکھوں میں یہاں ملت ٹائمز کو دیکھا جاتا ہے ۔ دہلی فسا د کی ایک رپوٹ کو فیس بک پر وہاٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا سائٹ پر بھی لاکھوں افراد ملت ٹائمز سے جڑے ہوئے ہیں ۔ ملت ٹائمز کو ہندوستان کے علاوہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، قطر ، برطانیہ اور امریکہ میں بھی بہت زیادہ اہتمام اور دلچسپی کے ساتھ پڑھاجاتاہے ۔
ملت ٹائمز رجسٹرڈکمپنی ملت نیوز نیٹ روک پرائیوٹ لمٹیڈ کے ماتحت ہے ۔اس سے وابستہ زیادہ تر صحافی نوجوان اور وہ لوگ ہیں جو صحافت کے ذریعہ ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں ۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here