چندولی میں آگ میں جلائے گئے نابالغ کی اسپتال میں موت

0
122
چندولی، 30 جولائی (ہ س)۔
 چندولی میں پیر کوجے شری رام نہ بولنے پر آگ کے حوالے کئے جانے والے اقلیتی کمیونٹی کے کم عمر کی اسپتال میں منگل کو علاج کے دوران موت ہو گئی۔ پولیس نے معاملے کی جانچ کرکے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا۔ خدشہ ہے کہ خاندان کے لوگ ہنگامہ کرسکتےہیں۔ اس کے لئے پولیس مکمل طور پر الرٹ ہے۔
سید راجہ تھانہ علاقہ مین واقع چھتم گاوں میں رہنے والے 16 سالہ خالدکو جلا دیا گیا تھا۔ اس نے پولیس بیان میں بتایا کہ اسے دوسرے فرقہ کے لوگوں نے جے شری رام نہ بولنے پر جلایاہے جبکہ پولیس نے اس الزام کو بے بنیاد بتایا۔ آگ سے 60 فیصد جھلس چکے نابالغ کو قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ بعد میں اس کی سنگین حالت کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے اسے وارانسی ڈویژنل اسپتال میں داخل کرایا۔
 منگل کو علاج کے دوران ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ ادھر اطلاع پر پہنچی پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد خاندان کے لوگ لاشیں رکھ کر ہنگامہ کر سکتے ہیں، ایسی اطلاع ملنے کے بعد پولیس سپرنٹنڈنٹ نے معاملے کو نوٹس میں لے کر پوسٹ مارٹم ہاوس کے باہر اضافی فورس تعینات کر دی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اتوار کوخالدسنگین حالت میں جلا ہواملا تھا۔ اس نے پولیس بیان میں بتایا تھا کہ اسے دوسرے فرقہ کے لوگوں نے جے شری رام نہیں بولنے پرجلایا ہے جبکہ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا تھا کہ پوچھ گچھ پر نوجوان نے کئی بار اپنا بیان تبدیل کیا۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here