عدالت اور حکومت کی طرف سے سختی کے سبب ٹیلی کوم کمپنیاں خسارے میں

0
32

نئی دہلی : سپریم کورٹ کی جانب سےحکومت اور ٹیلی کوم کمپنیوں کی سخت سرزنش ، بقایا اے جی آر (ایڈجسٹیڈ گروس ریوینیو ) ادا کرنے کا حکم ، ٹیلی کوم کمپنیوں کے اعلیٰ افسران کو عدالت میں طلب کرلئے جانے ، اس کے بعد مودی حکومت کےحرکت میں آجانے اور کمپنیوں کو جمعہ کی آدھی رات تک ۱ء۴۶؍ لاکھ کروڑ  روپے کی خطیر رقم جمع کروانے کا حکم جاری ہونے سے پورے ٹیلی کوم سیکٹر میں بھونچال آگیا ہے۔ ایئر ٹیل نے تو اس معاملے میں ہاتھ کھڑے کرلئے ہیں کہ وہ اتنی بڑی رقم ایک ساتھ ادا نہیں کرسکتی جبکہ ووڈا فون آئیڈیا ، جس پر سب سے زیادہ بقایا ہے ، کے بند ہونے کی نوبت آگئی ہے۔ فی الحال ریلائنس نے اس معاملے میں کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سخت سست کہے جانے کے بعد ڈپارٹمنٹ آف ٹیلی کوم نے بھارتی ایئر ٹیل، ووڈافون آئیڈیا اور ٹاٹا ٹیلي سروسیز جیسی تمام کمپنیوں کو جمعہ آدھی رات تکایڈجسٹیڈگروس ریوینیو (اےجي آر) کا بقایا جمع کرنے کو کہا ہے۔محکمہ نے ان کمپنیوں کو بقایا رقم جمع کرنے کے لئے نئے نوٹس جاری کیا ہے۔ اس مد میں ان کمپنیوں اور کچھ پبلک سیکٹر کیکمپنیوں پر تقریبا ایک لاکھ ۴۶؍ ہزار کروڑ روپے واجب الادا ہیں ۔

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پورے ٹیلی کوم سیکٹر میں کہرام مچاہوا ہے کیوں کہ کوئی بھی کمپنی ایک رات میں یا چند گھنٹوں میں اتنی خطیررقم ادا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ اے جی آر بقایا ووڈا فون پر ہے۔ اس پر تقریباً ۵۳؍ ہزار کروڑ روپے باقی ہیں جبکہ ایئر ٹیل پر ۳۵؍ ہزار کروڑ روپے اور باقی رقم ایم ٹی ایم ای ایل ، بی ایس این ایل، ریلائنس جیو ، ٹاٹا ٹیلی سروسیز اور دیگر کمپنیوں پر ہیں ۔ان تمام کمپنیوں کی تعداد کل ملاکر ۱۵؍ ہے۔ اسی وجہ سے سپریم کورٹ سخت برہم ہے کہ اکتوبر ۲۰۱۹ء میں دئیے گئے حکم کے باوجود اب تک ایک بھی کمپنی نے بقایا اے جی آر ادا کرنے کی زحمت نہیں کی ہے۔ یہی وجہ رہی کہ جسٹس مشرا نے اتنی سختی کے ساتھ حکومت کو بھی مخاطب کیا اور کمپنیوں کے اعلیٰ افسران کو طلب کرلیا۔

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here