بچھڑ کے مجھ سے کبھی تُو نے یہ بھی سوچا ہے ​ اَدھورا چاند بھی کتنا اُداس لگتا ہے ​

0
2840

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تُو نے یہ بھی سوچا ہے ​
اَدھورا چاند بھی کتنا اُداس لگتا ہے ​

یہ ختم وصل کا لمحہ ہے ، رائیگاں نہ سمجھ​
کہ اِس کے بعد وہی دُوریوں کا صحرا ہے ​

کچھ اور دیر نہ جھڑنا اُداسیوں کے شجر​
کسے خبر ترے سائے میں کون بیٹھا ہے؟ ​

یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اُس کو ​
وہ روٹھ کر بھی مجھے مُسکرا کے ملتا ہے​

میں کس طرح تجھے دیکھوں ، نظر جھجکتی ہے ​
تِرا بدن ہے کہ یہ آئینوں کا دریا ہے ؟​

کچھ اِس قدر بھی تو آساں نہیں ہے عشق تِرا​
یہ زہر دل میں اُتر کر ہی راس آتا ہے​

میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہُوا سا رہتا ہوں​
کبھی کبھی تو مجھے تُو نے ٹھیک سمجھا ہے​

مجھے خبر ہے کہ کیا ہے جدائیوں کا عذاب​
کہ میں نے شاخ سے گُل کو بچھڑتے دیکھا ہے​

میں مُسکرا بھی پڑا ہُوں تو کیوں خفا ہیں یہ لوگ​
کہ پھول ٹوٹی ہُوئی قبر پر بھی کِھلتا ہے ​

اُسے گنوا کہ مَیں زندہ ہُوں اِس طرح محسن ​
کہ جیسے تیز ہَوا میں چراغ جلتا ہے

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here