لالو یادو کی آر جے ڈی کو کہاں لے جائیں گے تیجسوی؟

0
175

منی کانت ٹھاکر
بہار میں لالو یادو کے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) پر تیجسوی یادو کی قیادتی کنٹرول ایک ہی انتخابی جھٹکے میں لڑكھڑايا ہوا سا نظر آنے لگا ہے۔پارٹی کے جن لیڈروں، کارکنوں اور حامیوں نے انہیں لالو یادو کی سیاسی وراثت سنبھالنے کے قابل مان کر اپنا لیڈر قبولا تھا، انہیں زیادہ مایوسی ہوئی ہے۔آر جے ڈی کا یہ نوجوان ہیرو لوک سبھا انتخابات کے امتحان میں زیرو پوائنٹس لے آئے گا اور پھر اچانک سیاسی منظر نامے سے خود کو اوجھل کر لے گا، ایسا کسی نے شاید ہی سوچا ہوگا۔ان کا اس طرح پوشیدہ طریقے سے مہینے بھر روپوش رہنا ، جیسے لگتا ہے کہ ان کو سیاسی سروکار ہی نہیں، ان کی قیادت کی صلاحیت پر بھی بہت سے سوالات کو جنم لے چکے ہیں۔اس کی غیر موجودگی کوپر اسرار اس لیے کہا جا رہا ہے، کیونکہ مہینہ گزر جانے کے بعد اب انہوں نے ٹویٹ کر کے یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ چوٹ کا علاج کرا رہے تھے۔تعجب ہے کہ اتنی سی بات کو اتنی دیر تک انہوں نے سب سے چھپایا اور پھر بھی یہ نہیں بتایا کہ دراصل وہ اب بھی ہیں مل یا اب تک تھے کہاں! جانکار بتا رہے ہیں کہ ان کی اس معمولی بیماری کا علاج تو پٹنہ میں بھی ہو سکتا تھا۔
آر جے ڈی کے اکثر تمام چھوٹے بڑے لیڈر بار بار پوچھے جا رہے اس سوال سے پریشان ہوتے رہے کہ تیجسوی کہاں ہیں؟کسی نے براہ راست جواب نہیں دیا۔ صرف رگھونش پرساد سنگھ نے ایک بار سگنل میں ہی کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کرکٹ میں دلچسپی کی وجہ  سےتیجسوی ورلڈ کپ میچ دیکھنے لندن گئے ہوں۔دریں اثنا، کئی ایسے سیاسی یا عوامی مسئلے ابھرے، جن پر ان کی رائے یا رائے ان کے ہی حق میں ہوتی۔خاص کر ایسے وقت، جب جان لیوا دماغی بخار سے مر رہے بچوں کو لے کر رونا بہار میں ہاہاکار مچا ہو، تب ریاست کے کاونٹر کا لیڈر کہیں نظر نہ آئے، تو اسے کیا سمجھا جائے؟۔بچوں کی موت پر ریاست کی نتیش حکومت ہی نہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت بھی جس وقت سنگین سوالات / تنقید سے گھری تھی، اس وقت یہاں کا لیڈر-کاونٹر اپنا فرض اور ضروری کردار ادا کر سکتا تھا؟

آر جے ڈی کے باقی لیڈر اس بابت مجبوری میں یا كھاناپري کی شکل میں جو کچھ کر سکتے تھے، کرتے رہے۔ لیکن اندر سے یہ لوگ کتنے پریشان تھے، اس کا اندازہ  تیجسوی کہاں ہیںسوالات پر ان کی جھجھلاهٹ سے لگ جاتا تھا۔اتنا ہی نہیں، اسی درمیان بہار اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا اور ایوان میں مخالف جماعتوں کے لیڈر تیجسوی یادو پھر بھی نہیں نظر آئے۔دیکھیے ان ٹویٹ، کہ جلدی آ رہا ہوں اور پھر اپنے غائب رہنے کو لے کر میڈیا کی گڑھی ہوئی مسالیدار کہانی بھی سنا ؤں گا۔یہ تو واقعی حد ہو گئی۔ اتنے سنگین اور قدرتی طور پر پیدا ہوئے سوال کو بھی اگر تیجسوی بچوں کے کھیل سوالات کی طرح حلقہ میں لیں گے تو اپنے باپ سے منسلک پارٹی کو وہ کہاںپہنچا پائیں گے؟
ظاہر ہے کہ ان حالیہ رویے سے آر جے ڈی کا سیاسی وزن گھٹا ہے۔ یعنی گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ملی شکست سے پارٹی کو نکالنے والا قیادت ہی پارٹی کی نظر سے اترتا ہوا لگ رہا ہے۔اسمبلی میں اپوزیشن کا لیڈر ہونے کے ناطے  تیجسوی یادو کو کابینہ وزیر کا درجہ حاصل ہے۔ انہیں ریاستی حکومت کی طرف سے سیکورٹی اور مزید دستیاب ہیں۔لیکن حیرت والی بات ہے کہ ایساوجاہت والا شخصیت مہینہ غائب رہے تواس میں رہ لے گا اور متعلقہ سرکاری محکمے کو اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہو گا؟۔ملک یا بیرون ملک میں اپنی بیماری کا علاج کرانے تو لیڈر جاتے رہے ہیں۔وہ اپنے مرض کے بارے میں نہ بتائیں، اس کا حق ہوتا ہے انہیں۔ پر وہ ہیں کہاں، اس خفیہ رکھنا تبھی ضروری ہو سکتا ہے، جب سیکورٹی کا معاملہ ہو۔سوال یہ بھی ہے کہ اپنے سیاسی مقام منتخب میں ڈیزاسٹر کے وقت آ جانا اور اسمبلی اجلاس میں ذمہ داری ادا کرنے کے لئے موجود رہنا کیا تیجسوی کی ترجیح کی فہرست میں ہے؟لالو خاندان کے باہر کی آر جے ڈی میں ان دنوں اندر سے جو کچھ چھن-چھن کر باہر آتا ہے، اس میں  تیجسوی سے موہبنگ والا درد ہی زیادہ دکھائی دیتی ہے

loading...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here